ڈاکٹرز کب تک پٹتے رہیں گے؟
پنجاب کے اسپتالوں میں ریاست کہاں ہے؟
تیحریر ڈاکٹر رضوان بھیو
پنجاب کے اسپتالوں میں خون صرف مریضوں کا نہیں بہہ رہا، اب ڈاکٹرز بھی خون میں لت پت ہو رہے ہیں۔
چنیوٹ کے DHQ اسپتال میں ڈسٹرکٹ آرتھوپیڈک سرجن ڈاکٹر صہیب پر تشدد کا واقعہ ہو یا بھکر کے ایک RHC میں آن ڈیوٹی ڈاکٹر پر مبینہ حملہ—یہ واقعات ہمیں ایک ایسے خطرناک بحران کی طرف لے جا رہے ہیں جسے اب نظرانداز کرنا ممکن نہیں۔
یہ سوال صرف ڈاکٹرز کا نہیں۔
یہ سوال ریاست کی رٹ، مریضوں کے علاج اور پنجاب کے پورے Health System کا ہے۔
دو دہائیوں سے ایک ہی مطالبہ
ہم نے اپنی میڈیکل تعلیم کے زمانے سے ڈاکٹرز کو یہی مطالبہ کرتے دیکھا کہ Healthcare Workers Protection / Doctors Security Bill لایا جائے۔
وزیراعلیٰ بدلتے رہے۔
وزرائے صحت بدلتے رہے۔
ن لیگ کی حکومتیں آئیں، تحریک انصاف کی حکومت آئی، نگران حکومتیں آئیں، پھر سیاسی حکومتیں واپس آگئیں۔
مگر ڈاکٹرز کا بنیادی سوال وہیں کھڑا ہے:
ہمیں کام کرنے کے لیے محفوظ ماحول کب ملے گا؟
اگر ایک ڈاکٹر ایمرجنسی میں مریض کی جان بچاتے ہوئے یہ سوچنے پر مجبور ہو کہ اگلے لمحے مریض کے لواحقین اسے مار سکتے ہیں، تو یہ صرف ڈاکٹر کی بے بسی نہیں بلکہ ریاستی نظام کی ناکامی ہے۔
مریم نواز صاحبہ! اب آپ کی باری ہے
آج پنجاب کی وزیراعلیٰ ہیں۔
Health & Population Department کے ذمہ دار وزرا اور ہیں۔
ہم ان سے کسی سیاسی نعرے کا مطالبہ نہیں کر رہے۔
ہم ان سے کوئی ذاتی رعایت نہیں مانگ رہے۔
ہم صرف یہ پوچھ رہے ہیں:
کیا پنجاب کا ڈاکٹر محفوظ ماحول میں کام کرنے کا حق رکھتا ہے یا نہیں؟
اگر جواب "ہاں" ہے تو پھر مزید تاخیر کیوں؟
پنجاب اسمبلی میں سیکیورٹی بل لائیں
ہم وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز، خواجہ سلمان رفیق اور خواجہ عمران نذیر سے مطالبہ کرتے ہیں کہ:
ڈاکٹرز اور تمام ہیلتھ پروفیشنلز کے تحفظ کا جامع Security Bill فوری طور پر پنجاب اسمبلی میں پیش کیا جائے اور اسے ترجیحی بنیادوں پر منظور کرایا جائے۔
یہ قانون صرف کاغذ کا ٹکڑا نہ ہو بلکہ اس میں واضح طور پر:
- RHC، THQ، DHQ اور Teaching Hospitals میں مؤثر سیکیورٹی کا نظام؛
- حساس اور بڑے سرکاری اسپتالوں میں پولیس چوکی یا مستقل پولیس سیکیورٹی؛
- Evening اور Night Duty پر اضافی حفاظتی انتظامات؛
- ڈاکٹرز، نرسز اور دیگر ہیلتھ ورکرز پر تشدد کو واضح قابلِ سزا جرم بنانا؛
- ہسپتال میں توڑ پھوڑ، دھمکی، ہراسانی اور زبردستی دباؤ کے خلاف فوری قانونی کارروائی؛
- خواتین ڈاکٹرز اور ہیلتھ ورکرز کے لیے خصوصی حفاظتی پروٹوکول؛
- گرفتار ملزمان کے خلاف فوری قانونی کارروائی؛
- ہسپتال انتظامیہ اور پولیس کے درمیان واضح Emergency Response Mechanism؛
- اور ایسے واقعات کی باقاعدہ رپورٹنگ اور نگرانی
کو یقینی بنایا جائے۔
یہ مسئلہ صرف ڈاکٹرز کا نہیں
عوام کو بھی سمجھنا ہوگا کہ ڈاکٹر پر تشدد دراصل اپنے ہی علاج کے نظام پر حملہ ہے۔
آج آپ کسی ڈاکٹر کو مارتے ہیں۔
کل وہ ڈاکٹر Emergency میں کسی دوسرے مریض کا علاج کرتے ہوئے خوفزدہ ہوگا۔
پرسوں کوئی نوجوان ڈاکٹر سرکاری اسپتال میں Night Duty قبول کرنے سے انکار کرے گا۔
اور ایک دن ایسا بھی آسکتا ہے کہ بہترین ڈاکٹر سرکاری اسپتالوں سے دور بھاگنے لگیں۔
پھر نقصان کس کا ہوگا؟
عوام کا۔
ڈاکٹر بھی کسی کا بیٹا، باپ، بھائی یا بیٹی ہے
ہم اکثر بھول جاتے ہیں کہ سفید کوٹ پہننے والا انسان بھی انسان ہے۔
اس کا بھی گھر ہے۔
اس کے بچے بھی اس کا انتظار کرتے ہیں۔
اس کے والدین بھی اس کی سلامتی کے لیے دعا کرتے ہیں۔
ایک ڈاکٹر جب رات کو Emergency Duty پر جاتا ہے تو اس کا خاندان یہ نہیں جانتا کہ وہ صبح خیریت سے واپس آئے گا یا نہیں۔
کیا ہم نے کبھی سوچا ہے کہ ایک ڈاکٹر کے گھر والے پر کیا گزرتی ہوگی جب انہیں فون آئے کہ:
"آپ کے ڈاکٹر کو اسپتال میں تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے اور وہ ICU میں داخل ہے۔"
یہ صرف ایک خاندان کا دکھ نہیں۔
یہ پورے معاشرے کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔
حکومتیں بدلتی رہیں، مسئلہ کیوں نہیں بدلا؟
ہم کسی ایک جماعت کو موردِ الزام ٹھہرا کر اپنی ذمہ داری پوری نہیں کرسکتے۔
ن لیگ کی حکومتوں سے بھی سوال بنتا ہے۔
PTI کی حکومت سے بھی سوال بنتا ہے۔
نگران حکومتوں سے بھی سوال بنتا ہے۔
بیوروکریسی سے بھی سوال بنتا ہے۔
اور آج موجودہ پنجاب حکومت سے بھی سب سے بڑا سوال یہی ہے:
آپ کب تک انتظار کریں گے؟
کیا کسی ڈاکٹر کے قتل کے بعد قانون بنے گا؟
کیا کسی خاتون ڈاکٹر کے ساتھ ناقابلِ تلافی سانحے کے بعد قانون بنے گا؟
کیا کسی اسپتال کے ICU میں زخمی ڈاکٹر کی حالت دیکھنے کے بعد قانون بنے گا؟
یا آج ہی فیصلہ ہوگا؟
ڈاکٹرز کو خاموش نہیں، محفوظ کریں
نوکری کے خوف، تبادلے کے خوف، محکمانہ کارروائی کے خوف اور انتظامی دباؤ نے بہت سے ڈاکٹرز کو خاموش کردیا ہے۔
لیکن خاموشی مسئلے کا حل نہیں۔
ریاست کا کام یہ نہیں کہ ڈاکٹر کو خاموش کرائے۔
ریاست کا کام یہ ہے کہ ڈاکٹر کو تحفظ دے۔
اگر کوئی ڈاکٹر مریض کے لواحقین کے خوف سے اپنی آواز بلند نہیں کرسکتا تو یہ ڈاکٹر کی کمزوری نہیں، ریاستی تحفظ کے نظام کی کمزوری ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب کے نام کھلا مطالبہ
محترمہ مریم نواز صاحبہ!
آپ کے پاس آج موقع ہے کہ پنجاب کے ڈاکٹرز کو صرف وعدہ نہیں بلکہ قانونی تحفظ دیں۔
خواجہ سلمان رفیق صاحب!
خواجہ عمران نذیر صاحب!
آپ خود Health Department کی ذمہ داری سنبھال رہے ہیں۔ ڈاکٹرز کے زخموں اور خوف کو محض ایک اور departmental meeting کا موضوع نہ بننے دیں۔
پنجاب اسمبلی میں Doctors & Healthcare Workers Security Bill لائیں۔
اسے سیاسی اختلافات کی نذر نہ ہونے دیں۔
اسے فائلوں میں نہ دبنے دیں۔
اسے کمیٹیوں میں نہ گھمائیں۔
اسے قانون بنائیں۔
اور پنجاب کے ہر RHC، THQ، DHQ اور Teaching Hospital کو یہ پیغام دیں کہ:
«ڈاکٹر پر ہاتھ اٹھانے والا صرف ایک فرد پر حملہ نہیں کرتا؛ وہ ریاست کی رٹ کو چیلنج کرتا ہے۔»
اس لیے ایسے واقعات میں قانون حرکت میں آنا چاہیے، ڈاکٹر کو نہیں۔
آخری سوال
آج ہم پنجاب حکومت سے صرف ایک سوال کرتے ہیں:
کیا ڈاکٹرز کو محفوظ ماحول میں کام کرنے کا بنیادی حق حاصل ہے؟
اگر جواب ہاں ہے تو پھر:
Security Bill کب آرہا ہے؟
ہم وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز، خواجہ سلمان رفیق اور خواجہ عمران نذیر سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ڈاکٹرز اور تمام ہیلتھ پروفیشنلز کے تحفظ کا جامع قانون فوری طور پر پنجاب اسمبلی میں پیش کرکے منظور کرایا جائے۔
کیونکہ اگلی بار خون کس کا بہے گا، کوئی نہیں جانتا۔
لیکن اگر آج ریاست خاموش رہی تو کل شاید وہ وقت آجائے جب:
ڈاکٹر اسپتال میں موجود ہوگا،
مریض سامنے ہوگا،
لیکن خوف کے باعث ڈاکٹر مریض کو ہاتھ لگانے سے ڈر رہا ہوگا۔
اور اس دن صرف ڈاکٹر نہیں ہارے گا۔
اس دن پنجاب کا پورا Health System ہار جائے گا۔
خدارا، اس دن سے پہلے جاگ جائیں۔
ڈاکٹرز کو تحفظ دیں۔
ہیلتھ ورکرز کو تحفظ دیں۔
پنجاب اسمبلی سے Security Bill منظور کریں۔
ڈاکٹر محفوظ ہوگا تو مریض محفوظ ہوگا۔
ڈاکٹر محفوظ ہوگا تو پنجاب کا صحت کا نظام محفوظ ہوگا۔
No comments yet.