عوام سوال پوچھتی رہے گی
تحریر: عثمان اعوان
پاکستان میں اقتدار، عوامی وسائل اور حکمرانوں کے رویے پر ایک بار پھر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ ایک طرف عام آدمی مہنگائی، بے روزگاری، بجلی کے بلوں اور روزمرہ ضروریات کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے، دوسری طرف حکمرانوں کے شاہانہ طرزِ زندگی اور عوامی پیسوں کے استعمال سے متعلق خبریں اور بیانات عوام میں بے چینی پیدا کر رہے ہیں۔ ایسے ماحول میں جب ایک حکمران کی جانب سے جہاز خریدنے کے سوال پر “ہاں خریدا ہے جہاز” اور پھر “آئندہ بھی جاؤں گی، تھینک یو ویری مچ” جیسے جملے سامنے آئیں، تو عوام کا سوال کرنا فطری بھی ہے اور ضروری بھی۔
مریم نواز صاحبہ! آپ کسی عرب ملک کی شہزادی نہیں کہ آپ کے فیصلوں پر سوال اٹھانا گستاخی سمجھا جائے۔ آپ ایک عوامی عہدے پر فائز ہیں۔ آپ کے فیصلے، آپ کے اختیارات اور عوامی خزانے سے متعلق ہر معاملہ عوامی احتساب کے دائرے میں آتا ہے۔ عوام نے آپ کو اختیار اس لیے نہیں دیا کہ آپ سوالوں سے بالاتر ہو جائیں، بلکہ اس لیے دیا ہے کہ آپ عوام کے سامنے جواب دہ رہیں۔
جہاز خریدنے کا فیصلہ کس کا تھا؟ یہ سوال محض ایک جہاز کا نہیں، حکومتی اختیار اور عوامی پیسے کے استعمال کا ہے۔ اگر جہاز خریدنے کا فیصلہ کیا گیا تو اس کی مکمل تفصیلات سامنے آنی چاہئیں۔ فیصلہ کس فورم نے کیا؟ کس نے سمری تیار کی؟ کس نے منظوری دی؟ اس کی ضرورت کیا تھی؟ کیا حکومت کے پاس اس خریداری کے لیے کوئی واضح انتظامی، مالی یا عملی جواز موجود تھا؟
عوام کو یہ جاننے کا حق ہے کہ اس فیصلے کے پیچھے کیا وجوہات تھیں اور اس سے قومی خزانے پر کتنا بوجھ پڑا۔ اگر جہاز خریدنے کا فیصلہ حکومت نے کیا ہے تو اس کی منظوری کا قانونی اور انتظامی طریقہ کیا تھا؟ کیا کابینہ نے اس کی منظوری دی؟ کیا اسمبلی کو اعتماد میں لیا گیا؟ کیا بجٹ میں اس مقصد کے لیے رقم مختص تھی؟ اگر تھی تو کس مد میں؟ اگر نہیں تھی تو اخراجات کس طریقے سے پورے کیے گئے؟
یہ وہ بنیادی سوالات ہیں جن کے جواب کسی بھی ذمہ دار حکومت کو دینے چاہئیں۔ عوامی خزانے کے استعمال میں شفافیت کسی حکمران کی مرضی نہیں، جواب دہی کا بنیادی تقاضا ہے۔
پاکستان میں سرکاری خریداری کے لیے قواعد و ضوابط موجود ہیں۔ اگر یہ خریداری پنجاب حکومت یا کسی سرکاری ادارے کے ذریعے ہوئی ہے تو عوام جاننا چاہتے ہیں کہ کیا متعلقہ خریداری قوانین پر عمل کیا گیا؟ کیا ٹینڈر جاری ہوا؟ کیا مختلف کمپنیوں سے پیشکشیں طلب کی گئیں؟ کیا بولیوں کا جائزہ لیا گیا؟ کیا کسی مخصوص کمپنی سے براہِ راست خریداری کی گئی، اور اگر کی گئی تو اس کی قانونی وجہ کیا تھی؟
یہ سوال کسی سیاسی جماعت کے کارکن کا نہیں، ہر اس پاکستانی کا ہے جس کی جیب سے ٹیکس وصول کیا جاتا ہے۔
ٹینڈر کہاں جاری ہوا؟ کمپنی کا انتخاب کیسے ہوا؟
اگر جہاز کی خریداری کے لیے ٹینڈر جاری کیا گیا تو اس کی تفصیلات عوام کے سامنے لائی جائیں۔ کون کون سی کمپنیوں نے حصہ لیا؟ کس کمپنی کی پیشکش منظور ہوئی؟ کیا قیمتوں کا تقابلی جائزہ لیا گیا؟ کیا ٹیکنیکل کمیٹی نے سفارش کی؟ اور اگر کوئی مخصوص ماڈل منتخب کیا گیا تو اس کی فنی وجوہات کیا تھیں؟
عوام کو یہ بھی بتایا جائے کہ جہاز کی قیمت، دیکھ بھال، آپریشنل اخراجات اور دیگر متعلقہ مالی ذمہ داریاں کیا ہیں۔ صرف یہ کہنا کہ “ہاں خریدا ہے جہاز” کسی بھی صورت میں مکمل جواب نہیں۔
اگر خریداری قانونی، شفاف اور عوامی مفاد میں تھی تو اس کی تفصیلات بروقت سامنے لانے میں کیا رکاوٹ تھی؟ حکومتیں عوامی اعتماد سے قائم رہتی ہیں، اور اعتماد معلومات چھپانے سے نہیں بلکہ معلومات فراہم کرنے سے پیدا ہوتا ہے۔
عوام کو یہ تاثر نہیں ملنا چاہیے کہ حکمرانوں کے لیے الگ قانون ہے اور عام آدمی کے لیے الگ۔ ایک غریب شہری اگر بجلی کا بل ادا نہ کرے تو اس کا کنکشن کاٹ دیا جاتا ہے، یہاں تک کہ اس کو گرفتار کر لیا جاتا ہے ابھی 2 دن پہلے ایک شخص کو بجلی کا بل جمع نہ کروانے کی وجہ سے گرفتار کیا گیا تو اس کے بیٹے نے خودکشی کر لی۔
لیکن جب عوامی خزانے سے بڑی خریداری کا سوال اٹھے تو جواب دینے کے بجائے تکبر کا مظاہرہ کیا جائے، تو یہ فرق عوام کے غصے کو مزید بڑھاتا ہے۔
مریم نواز صاحبہ، اقتدار عارضی ہے، عوامی خزانہ امانت ہے اور سوال کرنا عوام کا حق۔ آج آپ اقتدار میں ہیں، کل کوئی اور ہوگا۔ لیکن عوام کے سوالات اپنی جگہ قائم رہیں گے۔ جہاز خریدنے کا فیصلہ کس نے کیا، منظوری کس نے دی، قواعد پر عمل ہوا یا نہیں، قیمت کتنی تھی اور عوام سے تفصیلات کیوں چھپائی گئیں۔ ان تمام سوالات کے جواب دینا ہوں گے۔ اب دیں یا اقتدار جانے کے بعد دیں، سوال ختم نہیں ہوں گے۔
عوام کو دو وقت کی روٹی، روزگار، سستی بجلی، بہتر صحت اور تعلیم چاہیے۔ انہیں حکمرانوں کی شاہانہ زندگی کے قصے نہیں، اپنے مسائل کا حل چاہیے۔ ایک طرف عوام معاشی مشکلات میں گھری ہو اور دوسری طرف حکمران عوامی وسائل کے استعمال پر سوال سننے کے بجائے طنزیہ جملے ادا کریں تو یہ طرزِ حکمرانی عوامی احساسات سے دوری کی علامت بن جاتا ہے۔
اور یاد رکھیے، عوام کسی حکمران کی رعایا نہیں۔ عوام ہی ریاست کی اصل طاقت ہیں۔ جو حکومت عوام کے ٹیکس سے چلتی ہے، اسے عوام کے سوالوں کا جواب بھی دینا ہوگا۔
No comments yet.