نئے صوبوں پر ریفرینڈم نہیں، آئین پر عمل ہونا چاہیے
نئے صوبوں پر ریفرینڈم نہیں، آئین پر عمل ہونا چاہیے
تیحریر ڈاکٹر رضوان احمد بھیو
آج کل ملک میں نئے صوبوں کے قیام کے حوالے سے ریفرینڈم کی بحث چھیڑی جا رہی ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ اس حساس آئینی معاملے پر بہت سے لوگ آئین کا مطالعہ کیے بغیر اپنی اپنی رائے پیش کر رہے ہیں، جس سے عوام میں الجھن پیدا ہو رہی ہے۔ جمہوری معاشروں میں ریاستی معاملات کا فیصلہ جذبات، نعروں یا سیاسی پروپیگنڈے سے نہیں بلکہ آئین اور قانون کے مطابق کیا جاتا ہے۔
پاکستان کا آئین ایک مکمل اور جامع دستاویز ہے۔ جہاں کسی معاملے پر آئین خاموش ہو وہاں مختلف آئینی تشریحات کی گنجائش پیدا ہو سکتی ہے، لیکن نئے صوبوں کے قیام کے معاملے میں آئین بالکل خاموش نہیں بلکہ اس کا واضح طریقۂ کار موجود ہے۔ اس لیے ریفرینڈم کی بحث کھڑی کرنا نہ صرف غیر ضروری بلکہ آئینی ابہام پیدا کرنے کی کوشش ہے۔
پاکستان کے آئین کا آرٹیکل 239(4) واضح طور پر کہتا ہے کہ اگر کسی آئینی ترمیم سے کسی صوبے کی حدود میں ردوبدل مقصود ہو تو ایسی ترمیم اس وقت تک پارلیمنٹ سے منظور نہیں ہو سکتی جب تک متعلقہ صوبائی اسمبلی اپنے کل ارکان کی کم از کم دو تہائی اکثریت سے اس کی منظوری نہ دے۔ یہی وہ آئینی راستہ ہے جس کے ذریعے کسی نئے صوبے کا قیام ممکن ہے۔ آئین میں اس مقصد کے لیے کسی لازمی ریفرینڈم کا کوئی تقاضا موجود نہیں۔
اسی آئینی تقاضے کے مطابق پنجاب اسمبلی ماضی میں جنوبی پنجاب کے قیام کے حق میں دو تہائی اکثریت سے قرارداد منظور کر چکی ہے۔ اس کے بعد آئینی ذمہ داری وفاقی حکومت پر عائد ہوتی ہے کہ وہ آئینی ترمیم پارلیمنٹ میں پیش کرے اور قومی اسمبلی اور سینیٹ سے اسے آئین کے مطابق منظور کرائے۔ اگر وفاق مختلف آئینی ترامیم کے لیے پارلیمنٹ سے رجوع کر سکتا ہے تو جنوبی پنجاب صوبے کے قیام کے لیے آئینی ترمیم کیوں پیش نہیں کرتا؟ یہی وہ سوال ہے جس کا جواب عوام کو دیا جانا چاہیے۔
اسی اصول کا اطلاق پاکستان کے دیگر حصوں پر بھی ہوتا ہے۔ اگر کسی بھی صوبے میں نئی انتظامی اکائی یا نئے صوبے کے قیام کی عوامی اور سیاسی خواہش موجود ہے تو متعلقہ سیاسی جماعتوں کو چاہیے کہ وہ پہلے اپنی صوبائی اسمبلی سے آئین کے مطابق دو تہائی اکثریت کے ذریعے قرارداد منظور کرائیں، پھر وفاقی پارلیمنٹ سے آئینی ترمیم منظور کرائیں۔ یہی جمہوری، قانونی اور آئینی راستہ ہے۔
ریفرینڈم کی بحث دراصل اصل آئینی مسئلے سے توجہ ہٹاتی ہے۔ پاکستان کے آئین میں ریفرینڈم کا تصور مخصوص حالات میں موجود ضرور ہے، لیکن نئے صوبوں کے قیام کے لیے آئین نے الگ اور واضح طریقۂ کار مقرر کر دیا ہے۔ جب آئین کسی معاملے پر واضح رہنمائی فراہم کرتا ہو تو اس کے متبادل راستے تلاش کرنا آئینی نظم کو کمزور کرنے کے مترادف ہے۔
آج ملک کو آئینی شعور، سیاسی بلوغت اور جمہوری استحکام کی ضرورت ہے۔ سیاسی قیادت، دانشوروں، وکلاء اور میڈیا کا فرض ہے کہ وہ عوام کو آئین کی درست تشریح سے آگاہ کریں، نہ کہ ایسے بیانیے کو فروغ دیں جو انتشار، نفرت اور صوبائی تقسیم کو ہوا دے۔
میں تمام سیاسی جماعتوں کی قیادت سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ قوم کو گمراہ کرنے کے بجائے آئین کے مطابق سیاسی جدوجہد کریں۔ اختلافِ رائے جمہوریت کا حسن ہے، مگر ہر اختلاف کا حل آئین کے اندر ہی موجود ہوتا ہے۔
خصوصاً میری پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین ، پارٹی کی مرکزی قیادت اور آئینی ماہرین سے گزارش ہے کہ وہ ملک بھر میں آئین اور وفاقی نظام کے موضوع پر سیمینارز، مکالمے اور عوامی آگاہی مہم کا آغاز کریں تاکہ عوام کو بتایا جا سکے کہ نئے صوبوں کا قیام صرف اور صرف آئینی طریقۂ کار کے ذریعے ممکن ہے، نہ کہ سیاسی نعروں یا غیر ضروری ریفرینڈم کی بحث کے ذریعے۔
پاکستان کی مضبوطی اسی میں ہے کہ ہر سیاسی قوت آئین کی بالادستی کو تسلیم کرے۔ آئین پر عمل ہی قومی وحدت، وفاق کے استحکام، صوبوں کے حقوق اور جمہوریت کے تسلسل کی حقیقی ضمانت ہے۔
No comments yet.