چونتیس برس نو ماہ کا طویل سفر ، ہزاروں دنوں کی ڈیوٹی اور منزل کا اک لمحہ۔۔۔
تحریر۔۔۔نعیم یوسف
1991ء میں ایک نوجوان نے جب سخت گرمیوں کی دوپہر میں اپنے شہید والد، سب انسپکٹر خورشید کھوکھر کی شہادت کے بعد پولیس کی وردی پہنی اور بطور اسسٹنٹ سب انسپکٹر اپنے سفر کا آغاز کیا، تو شاید اسے معلوم نہ تھا کہ یہ وردی اسے زندگی کے ایسے سفر پر لے جائے گی جہاں وقت گزرنے کا احساس ہی نہیں ہوگا، مگر ذمہ داریوں کا بوجھ ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتا جائے گا۔
آج 34 برس نو ماہ بعد وہی سفر ایک خوبصورت موڑ پر پہنچا ہے۔
انسپکٹر منور ڈیوڈ آج ڈی ایس پی بن گئے ہیں۔
لیکن یہ صرف ایک عہدے کا بدلنا نہیں۔۔۔ یہ چونتیس برس نو ماہ کی محنت کا صلہ، انتظار کی انتہا اور قربانیوں کی ایک طویل داستان کا خوبصورت باب ہے۔
ان چونتیس برسوں میں کتنی صبحیں ایسی گزری ہوں گی جب گھر سے نکلتے وقت اپنوں کی آنکھیں دروازے تک دیکھتی رہ گئیں، کتنی راتیں ایسی ہوں گی جو گھر کے بجائے تھانے، سڑکوں، ناکوں اور ڈیوٹی کے مقامات پر گزر گئیں۔ کتنے تہوار، کتنی خوشیاں، کتنے خاندانی لمحات اور کتنے ذاتی سکون کے لمحے فرض کی آواز پر قربان ہوئے ہوں گے۔
پولیس کی وردی پہننا آسان ہے، مگر اسے چونتیس سال نو ماہ تک نبھانا آسان نہیں۔
اس سفر میں کبھی حالات سازگار رہے ہوں گے، کبھی مشکل۔ کبھی حوصلہ بڑھانے والی کامیابیاں ملیں، کبھی ایسے دن بھی آئے ہوں گے جب محنت کا صلہ فوری طور پر سامنے نہیں آیا ہوگا۔ مگر منور ڈیوڈ چلتے رہے۔۔۔ خاموشی سے، صبر کے ساتھ، اپنے فرض کے ساتھ۔
وقت نے عہدے بدلے، ذمہ داریاں بڑھائیں، بالوں میں سفیدی اتری، چہرے پر تجربے کی لکیریں آئیں۔۔۔ مگر وردی سے وابستگی اور فرض سے وفاداری برقرار رہی۔
اور پھر وہ دن آ ہی گیا جس کا انتظار شاید برسوں سے تھا۔
آج جب کندھوں پر ڈی ایس پی کے ستارے سجے تو وہ صرف ستارے نہیں تھے، ان کے پیچھے 1991ء سے شروع ہونے والے سفر کے ہزاروں دن، بے شمار ڈیوٹیاں، راتوں کی جاگ، پسینے کی بوندیں، مشکلات کا سامنا، اپنوں سے دوری اور خاموش قربانیاں ہاتھ باندھے کھڑی تھیں۔
کچھ منزلیں چند قدم چل کر مل جاتی ہیں، اور کچھ منزلوں تک پہنچنے کے لیے انسان کو اپنی زندگی کے کئی قیمتی سال راستے میں چھوڑنے پڑتے ہیں۔
ڈی ایس پی منور ڈیوڈ کی آج کی منزل بھی ایسی ہی ایک منزل ہے۔
یہ ترقی صرف ایک افسر کی پروموشن نہیں۔۔۔
یہ اس بات کی گواہی ہے کہ محنت کا سفر جتنا طویل ہو، منزل کی خوشی اتنی ہی گہری ہوتی ہے۔
آج 34 سال نو ماہ بعد شاید دل کے کسی کونے میں گزرے ہوئے دنوں کی تھکن بھی ہو، ان دنوں کی یاد بھی ہو اور ان قربانیوں کا احساس بھی۔۔۔ مگر ان سب پر آج کی خوشی غالب ہے۔
1991ء کا وہ نوجوان آج 2026ء کا ڈی ایس پی منور ڈیوڈ ہے۔
ایک سفر ختم نہیں ہوا۔۔۔
بلکہ چونتیس برس کی محنت نے آج ایک نئی ذمہ داری کا دروازہ کھولا ہے۔
سلام ہے اس سفر کو، سلام ہے اس وردی کو، اور سلام ہے اس صبر کو جس نے 34 برس بعد آج کامیابی کی شکل اختیار کرلی۔
ایک منٹ
اور آج جب 34 سالہ سفر کے بعد ڈی ایس پی کے عہدے کے ستارے آپ کے کندھوں پر سجے ہیں، تو یقیناً آپ کے مرحوم والدین کی روحیں بھی خوشی سے سرشار ہوں گی۔
وہ والدین، جن کی دعائیں آپ کے اس طویل سفر میں ہمیشہ آپ کے ساتھ رہیں، آج شاید آسمان سے اپنے بیٹے کی کامیابی پر فخر کر رہے ہوں۔
اور وہ جواں سال بیٹا، جو وقت سے پہلے اس دنیا سے رخصت ہوگیا، آج یقیناً اپنے بابا کی اس کامیابی پر سب سے زیادہ خوش ہوگا۔
آج آپ کی یہ کامیابی صرف آپ کی نہیں، اُن سب دعاؤں کی بھی فتح ہے جو آپ کے والدین اور بیٹے کے حصے سے آپ تک پہنچتی رہیں۔
یقیناً آج آسمان پر بھی ایک گھر میں جشن ہوگا، جہاں آپ کے اپنے ایک دوسرے کو مبارکباد دے رہے ہوں گے کہ اُن کا لائق فائق محنتی بیٹا منور ڈیوڈ آج ڈی ایس پی بن گیا ہے۔
No comments yet.