خالد مقبول صدیقی، فاروق ستار، مصطفیٰ کمال اور تمام MQM قیادت کے نام کھلا خط
خالد مقبول صدیقی، فاروق ستار، مصطفیٰ کمال اور تمام MQM قیادت کے نام کھلا خط
تیحریر ڈاکٹر رضوان بھیو
صاحبِ اقتدار رہنے والو! دوسروں سے حساب مانگنے سے پہلے اپنا حساب دو!
خالد مقبول صدیقی صاحب، فاروق ستار صاحب، مصطفیٰ کمال صاحب اور MQM کی تمام موجودہ و سابق قیادت!
آج آپ کراچی، سندھ، وسائل، بلدیاتی نظام، اختیارات اور عوامی محرومیوں پر لمبی لمبی تقریریں کرتے ہیں۔ لیکن کراچی کے عوام آپ سے ایک ایسا سوال پوچھنے کا حق رکھتے ہیں جس سے فرار ممکن نہیں:
MQM بننے سے پہلے آپ میں سے کتنے لوگ کروڑوں، اربوں کے مالک تھے؟
جن لوگوں کی سیاسی زندگی کا آغاز عام متوسط یا نچلے متوسط طبقے کے پس منظر سے ہوا، ان میں سے جن کی دولت، جائیداد، کاروبار اور طرزِ زندگی میں بعد کے برسوں میں غیرمعمولی اضافہ ہوا، اس اضافے کا ذریعہ کیا تھا؟
یہ الزام نہیں، کھلا سوال ہے۔
اگر سب کچھ قانونی تھا تو حساب دینے میں خوف کیسا؟
اپنی آمدن بتاؤ۔
اپنے اثاثے بتاؤ۔
اپنی جائیدادیں بتاؤ۔
اپنے کاروبار بتاؤ۔
اپنی بیرونِ ملک جائیدادیں بتاؤ۔
اپنے ٹیکس گوشوارے سامنے لاؤ۔
اور اپنی دولت کی مکمل منی ٹریل قوم کو دکھاؤ۔
پھر قوم خود فیصلہ کرے گی کہ دولت کہاں سے آئی۔
آپ کی قیادت نے برسوں کراچی کے غریب اردو بولنے والے عوام کے نام پر سیاست کی۔ کارکنوں سے قربانیاں مانگی گئیں، نوجوانوں نے جانیں دیں، خاندان اجڑے، کاروبار تباہ ہوئے اور ہزاروں گھر سیاسی تشدد کے زخم سہتے رہے۔
مگر سوال یہ ہے:
جنہوں نے قربانیاں دیں، ان کے گھروں میں خوشحالی کیوں نہ آئی؟
اور جنہوں نے سیاسی اختیار حاصل کیا، ان کی مالی حالت کیسے بدلتی گئی؟
قربانی کی کھالوں، چندوں، عطیات، پارٹی فنڈز، بلدیاتی وسائل اور سیاسی طاقت کے استعمال کے بارے میں جو سوالات اور الزامات مختلف ادوار میں سامنے آتے رہے ہیں، ان سب کا آزاد، شفاف اور دستاویزی فرانزک آڈٹ کیوں نہ ہو؟
اگر کسی نے ایک روپیہ بھی ناجائز نہیں لیا تو اسے سب سے پہلے خود کہنا چاہیے:
میرا مکمل اثاثہ ڈیکلریشن، ٹیکس ریکارڈ اور منی ٹریل عوام کے سامنے لائی جائے۔
یہی اصل بہادری ہے۔
مصطفیٰ کمال صاحب!
آپ دوسروں کے احتساب کی بات کرتے ہیں۔ آپ نے ماضی میں اپنے خلاف NAB کیس کے بارے میں بھی عدالت اور تحقیقات کا سامنا کیا، اور بعد میں عدالت نے NAB کی کارروائی کو دائرۂ اختیار کے معاملے پر واپس بھیجنے کا فیصلہ برقرار رکھا۔
تو پھر اصول ایک ہونا چاہیے:
دوسروں کے لیے شفافیت، اپنے لیے بھی شفافیت۔
دوسروں کے لیے احتساب، اپنے لیے بھی احتساب۔
اور خالد مقبول صاحب، فاروق ستار صاحب!
آپ دونوں بھی قوم کو یہ بتائیں کہ MQM کی طویل سیاسی تاریخ میں مختلف عہدوں پر رہنے والے اہم رہنماؤں کے اثاثوں میں آنے والی تبدیلی کا آزادانہ تقابلی آڈٹ کیوں نہ کیا جائے؟
یہ سوال صرف تین افراد سے نہیں۔
یہ سوال الطاف حسین سے لے کر ہر اس سابق و موجودہ رہنما، وزیر، مشیر، رکن قومی اسمبلی، سینیٹر، رکن صوبائی اسمبلی، گورنر، میئر، ڈپٹی میئر، ناظم، نائب ناظم، کونسلر، رابطہ کمیٹی کے رکن، زونل، سیکٹر اور یونٹ سطح کے عہدیدار سے ہے جس نے سیاسی طاقت یا عوامی عہدہ استعمال کیا۔
کل کیا تھا؟
آج کیا ہے؟
اور درمیان میں دولت کہاں سے آئی؟
اگر جواب ہے کہ کاروبار سے آئی تو کاروبار کی تفصیل دو۔
اگر جواب ہے کہ وراثت سے آئی تو وراثتی دستاویزات دو۔
اگر جواب ہے کہ سرمایہ کاری سے آئی تو سرمایہ کاری کی منی ٹریل دو۔
اگر جواب ہے کہ تنخواہ اور قانونی آمدن سے آئی تو ٹیکس ریکارڈ سامنے لاؤ۔
لیکن اگر جواب دینے کو کچھ نہیں تو پھر قوم کو لیکچر دینا بند کرو۔
کراچی کے عوام کو اب سیاسی جذبات کے نام پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
نہ اردو بولنے والے غریب عوام کسی کی جاگیر ہیں، نہ کراچی کسی فرد یا جماعت کی ملکیت ہے۔
کراچی کے غریبوں کے نام پر سیاست کرنے والو، پہلے کراچی کے غریبوں کو جواب دو!
اگر واقعی آپ کو عوام کی محرومی کا درد ہے تو سب سے پہلے اپنی سیاسی جماعت کے ماضی کا کھلا مالی احتساب کرو۔
ایک آزاد کمیشن بناؤ۔
1980 کی دہائی سے آج تک اہم عہدیداروں کے اثاثے دیکھے جائیں۔
سیاسی عہدہ سنبھالنے سے پہلے کے اثاثے اور آج کے اثاثے سامنے رکھے جائیں۔
آمدن اور اخراجات کا تقابل کیا جائے۔
ٹیکس ریکارڈ دیکھا جائے۔
بیرونِ ملک اثاثے دیکھے جائیں۔
پارٹی فنڈز کا آڈٹ کیا جائے۔
اور اگر کسی کے خلاف کچھ ثابت نہ ہو تو اسے باعزت بری الذمہ قرار دیا جائے۔
لیکن احتساب سے فرار کا راستہ کسی کو نہیں ملنا چاہیے۔
خالد مقبول صدیقی صاحب، فاروق ستار صاحب، مصطفیٰ کمال صاحب!
آپ آج سندھ کے انتظامی ڈھانچے، اختیارات اور وسائل کی تقسیم پر سوال اٹھاتے ہیں۔
ہم بھی آپ سے سوال اٹھاتے ہیں:
اقتدار ملا تو عوام کے لیے کیا بنایا؟
اختیار ملا تو عوام کے اثاثے کیسے بڑھے؟
عہدے ملے تو عوام کی زندگی کتنی بدلی؟
اور اگر عوام غریب ہی رہے تو سیاسی قیادت کی مالی دنیا اتنی مختلف کیسے ہوگئی؟
یہ کسی زبان کے خلاف سوال نہیں۔
یہ کسی قوم کے خلاف سوال نہیں۔
یہ غریب عوام اور سیاسی اشرافیہ کے درمیان جواب دہی کا سوال ہے۔
اور یاد رکھیں:
جو دوسروں کا احتساب مانگتا ہے، اسے اپنے احتساب سے بھاگنے کا حق نہیں۔
اب وقت آ گیا ہے کہ کراچی کے عوام نعروں سے نہیں، دستاویزات سے سوال کریں۔
دولت کہاں سے آئی؟
جائیداد کیسے بنی؟
پیسہ کہاں سے آیا؟
ٹیکس کتنا دیا؟
منی ٹریل کہاں ہے؟
اور عوام کو اس سب کا حساب کب ملے گا؟
یہ کھلا خط ہے۔
یہ کھلا سوال ہے۔
اور اب جواب بھی کھلا ہونا چاہیے۔
کراچی کے غریب عوام کو نعروں کا نہیں، سچ کا حق ہے۔
سیاسی قیادت کو اقتدار کا نہیں، جواب دہی کا بھی سامنا کرنا ہوگا۔
No comments yet.