قتدار کا زعم، توشہ خانہ کا سبق اور دورۂ لندن کا زیرِ التوا حساب
قتدار کا زعم، توشہ خانہ کا سبق اور دورۂ لندن کا زیرِ التوا حساب
تیحریر: ڈاکٹر رضوان بھیو
حکمرانی اور مطلق العنان اقتدار کا نشہ انسانی تاریخ کا وہ المیہ ہے جس نے وقت کے بڑے بڑے جابروں اور حکمرانوں کو گمراہی کی اس تاریک راہ پر دھکیلا جہاں وہ خود کو عقلِ کل اور سیاہ و سفید کا بلا شرکتِ غیرے مالک سمجھنے لگتے ہیں۔ جب اقتدار کی کرسی پر بیٹھا شخص تنقید کو بغاوت، مشورے کو توہین اور قانون کو اپنے تابع سمجھنے لگے تو زوال اس کا مقدر بن جاتا ہے۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ اس سچائی کی شاہد ہے کہ جب بھی اقتدار کے ایوانوں میں شفافیت پر شاہی مزاج غالب آیا، اس کا خمیازہ ملک اور خود ان حکمرانوں کو بھگتنا پڑا۔
توشہ خانہ کا کیس اس مائنڈ سیٹ کی ایک واضح اور المناک مثال ہے۔ ریاست کے تحائف اصل میں عوام کی امانت ہوتے ہیں، مگر اقتدار کی مسند پر بیٹھ کر خود کو نظام سے بالاتر سمجھنے کے زعم میں ان امانتوں کا انتہائی کم اور جعلی تخمینہ لگایا گیا۔ اپنے من پسند افراد اور ماتحت اداروں کے ذریعے اصل قیمتوں کو چھپا کر عوام اور ریاست کی آنکھوں میں دھول جھونکی گئی۔ نتیجہ سب کے سامنے ہے؛ جو شخص کل تک اپنے فیصلوں کو ناقابلِ چیلنج سمجھتا تھا، آج وہی توشہ خانہ اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے مقدمات میں قانون کی گرفت میں ہے اور اپنے کیے کا خمیازہ بھگت رہا ہے۔
لیکن تاریخ سے سبق نہ سیکھنا ہمارے موجودہ حکمرانوں کا بھی پرانا شیوہ رہا ہے۔ اب وہی متکبرانہ انداز اور مالی بے ضابطگیوں کا عکس پنجاب کی سیاست میں نظر آ رہا ہے۔ وزیر اعلیٰ مریم نواز کے دورۂ لندن اور اس سے منسلک فضائی سفر و دیگر بھاری اخراجات پر عوامی اور قانونی سطح پر شدید سوالات اٹھ رہے ہیں۔ پنجاب حکومت کی جانب سے چند کروڑ یا مونگ پھلی کے دانوں کے برابر رقم کی "رضاکارانہ ادائیگی" کا دعویٰ کرنا محض ایک سیاسی ڈرامہ اور عوام کو بے وقوف بنانے کی کوشش ہے۔
تھرڈ پارٹی آڈٹ کا فقدان: پنجاب کے عوام کے ٹیکس کے پیسے سے ادا کیے گئے کروڑوں روپے کے جیٹ اور دورے کے اخراجات کو چند لاکھ روپے کی من مانی رسید دکھا کر پاک نہیں کیا جا سکتا۔ جب تک اس پورے دورے کا کسی آزاد، مستند اور تھرڈ پارٹی سے فارنسک آڈٹ نہیں کرایا جاتا، یہ تمام دعوے قانونی حیثیت سے محروم ہیں۔
اختیارات کا ناجائز استعمال (Abuse of Authority): نیب (NAB) اور اینٹی کرپشن قوانین کے تحت سرکاری وسائل کا ذاتی یا غیر متعلقہ مقاصد کے لیے استعمال اور بعد میں اپنی مرضی سے نام نہاد "قسط یا رقم" جمع کرانا جرم کی نوعیت کو ختم نہیں کرتا۔ توشہ خانہ کیس میں بھی یہی قانونی نقطہ بنیادی بنیاد بنا تھا کہ سرکاری شے کی اصل قیمت چھپا کر اس کا غلط استعمال کیا گیا۔
مستقبل کا قانونی طوق: اگر اس کیس میں اصل اور تصدیق شدہ بلز (Original Bills) عوامی اور قانونی فورمز پر پیش نہ کیے گئے، تو یہ کیس مریم نواز اور شریف خاندان کے لیے بالکل اسی طرح کا ایک سنگین توشہ خانہ مقدمہ بن جائے گا۔
شفافیت کسی حکمران کی خیرات نہیں بلکہ اس کا آئینی اور قانونی فرض ہوتی ہے۔ اگر موجودہ حکمران بھی ماضی کی طرح یہ سمجھتے ہیں کہ وہ قانون سے بالاتر ہیں اور ان کے فیصلوں پر تنقید کرنے کی کسی میں ہمت نہیں، تو انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ توشہ خانہ کا سبق ابھی تازہ ہے۔ اگر اصل آڈٹ رپورٹ اور اخراجات کے پورٹل کو پبلک نہ کیا گیا تو یہ دورۂ لندن اور اس کے مشکوک اخراجات شریف خاندان کی گردن میں ایک ایسا قانونی طوق بن کر گریں گے جس سے چھٹکارا ممکن نہ ہوگا۔
No comments yet.