اسلام آباد صوبہ بنے گا تو پیسہ کہاں سے آئے گا؟ آئینی معاملات کیا ہوں گے؟
اسلام آباد صوبہ بنے گا تو پیسہ کہاں سے آئے گا؟ آئینی معاملات کیا ہوں گے؟
تیحریر ڈاکٹر رضوان بھیو
پاکستان میں نئے صوبوں کے قیام کی بحث جب بھی سامنے آتی ہے تو اسے صرف انتظامی ضرورت کے زاویے سے دیکھنا کافی نہیں۔ صوبہ صرف نقشے پر ایک لکیر کھینچنے کا نام نہیں؛ صوبہ ایک مکمل آئینی، سیاسی، انتظامی اور مالیاتی اکائی ہوتا ہے۔
اگر وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کو پاکستان کا پانچواں صوبہ بنانے کی تجویز سامنے آتی ہے تو سب سے پہلے ایک بنیادی سوال کا جواب دینا ہوگا:
اسلام آباد صوبہ بنے گا تو پیسہ کہاں سے آئے گا؟
وہ کتنا کمائے گا؟
اپنے اخراجات کا کتنا حصہ خود اٹھائے گا؟
وفاق کو کتنا دے گا؟
اور اگر اسے NFC میں حصہ دیا جائے گا تو وہ حصہ کہاں سے آئے گا؟
کیا وفاق اپنے حصے سے دے گا یا پہلے سے موجود چاروں صوبوں کے حصے میں سے؟
یہ سوال اسلام آباد کے عوام کے خلاف نہیں بلکہ وفاقی انصاف کے حق میں ہے۔
سندھ کو نظر انداز کرکے یہ بحث مکمل نہیں ہوسکتی
اس بحث میں سندھ کا ذکر محض اس لیے نہیں ہونا چاہیے کہ وہ ایک صوبہ ہے، بلکہ اس لیے کہ پاکستان کی معیشت، وفاقی محصولات اور قومی توانائی کی ریڑھ کی ہڈی میں سندھ کا غیر معمولی کردار ہے۔
کراچی پاکستان کا سب سے بڑا تجارتی، صنعتی، مالیاتی اور بندرگاہی مرکز ہے۔ وفاقی ٹیکس وصولیوں میں سندھ بشمول کراچی کا حصہ تاریخی طور پر غیر معمولی رہا ہے۔ تجزیوں میں سندھ بشمول کراچی سے وفاقی ٹیکس وصولی تقریباً 70 فیصد تک رپورٹ ہوئی ہے ۔
اس لیے سیاسی گفتگو میں کراچی یا سندھ کے بارے میں 70 فیصد کا عدد استعمال کرتے ہوئے ہمیں یہ فرق ضرور واضح کرنا چاہیے کہ وفاقی بجٹ، وفاقی ٹیکس وصولی اور قومی آمدنی ایک ہی چیز نہیں ہیں۔
سندھ صرف ٹیکس نہیں دیتا، پاکستان کو توانائی بھی دیتا ہے۔
سرکاری سندھ انرجی ہولڈنگ کمپنی کے مطابق سندھ پاکستان کی تقریباً 60 فیصد قدرتی گیس اور 40 فیصد خام تیل کی پیداوار فراہم کرتا ہے۔
سینیٹ کی متعلقہ کمیٹی کو مئی 2024 کے اعداد و شمار کی بنیاد پر بتایا گیا کہ پاکستان کی گیس پیداوار میں سندھ کا حصہ 64 فیصد ہے۔
یعنی کراچی کی بندرگاہوں سے آنے والی تجارت، سندھ کی صنعتی و کاروباری سرگرمیاں، وفاقی ٹیکسوں میں اس کا بڑا حصہ، اور ملک کے توانائی کے نظام میں سندھ کا بنیادی کردار یہ سب مل کر سندھ کو پاکستان کی معاشی بنیادوں میں ایک غیر معمولی حیثیت دیتے ہیں۔
تو پھر جب نئے صوبے بنانے اور NFC کے حصے تقسیم کرنے کی بات ہو تو سندھ کے اس کردار کو نظر انداز کیسے کیا جاسکتا ہے؟
سوال یہ ہے: اسلام آباد صوبہ بنے گا تو کمائے گا کہاں سے؟
اسلام آباد کی معیشت اپنی جگہ اہم ہے۔ وفاقی دارالحکومت میں سرکاری ادارے، سفارت خانے، کارپوریٹ دفاتر، رئیل اسٹیٹ، تعلیم، صحت، خدمات اور کاروباری سرگرمیاں موجود ہیں۔
لیکن ایک مکمل صوبہ بننے کے بعد معاملہ صرف موجودہ اسلام آباد کی آمدنی تک محدود نہیں رہے گا۔
صوبہ بننے کے بعد:
صوبائی اسمبلی ہوگی؛
وزیر اعلیٰ اور کابینہ ہوگی؛
صوبائی سیکریٹریٹ ہوگا؛
صوبائی محکمے ہوں گے؛
پولیس اور انتظامی ڈھانچہ ہوگا؛
تعلیم اور صحت کا صوبائی نظام ہوگا؛
ترقیاتی بجٹ ہوگا؛
مقامی حکومت کا نظام ہوگا؛
اور ان سب کے لیے مستقل مالی وسائل درکار ہوں گے۔
لہٰذا سوال بالکل سادہ ہے:
یہ پورا نظام چلانے کے لیے پیسہ کہاں سے آئے گا؟
اگر جواب ہے کہ اسلام آباد اپنے وسائل سے سب کچھ چلائے گا تو پھر اس کا مکمل Revenue-Expenditure Model سامنے آنا چاہیے۔
اور اگر جواب ہے کہ اسے NFC سے حصہ ملے گا تو پھر سوال ہوگا کہ:
NFC اسلام آباد کا حصہ کس کے حصے سے آئے گا؟
اگر چار صوبوں کے حصے سے آئے گا تو سندھ کیوں مانے؟
یہ سب سے بنیادی سوال ہے۔
آئین کا آرٹیکل 160 وفاق اور صوبوں کے درمیان مالی وسائل کی تقسیم کا بنیادی فریم ورک فراہم کرتا ہے۔ NFC Award اسی نظام کے ذریعے وفاقی محصولات کی تقسیم کرتا ہے۔
آئین کی روح یہ ہے کہ صوبوں کے مالی حقوق محفوظ رہیں۔ اس لیے اگر کسی نئے صوبے کے قیام سے پہلے سے موجود صوبوں کے مالی حصے متاثر ہوتے ہیں تو اس کے اثرات کا مکمل حساب ضروری ہے۔
فرض کریں اسلام آباد کو NFC میں نیا حصہ دے دیا جاتا ہے۔
تو پھر:
کیا وفاق اپنے حصے میں کمی کرے گا؟
اگر ہاں، تو معاملہ قابلِ بحث ہے۔
لیکن اگر کہا جائے کہ وفاقی خزانے میں پہلے سے موجود چار صوبوں کے حصے میں کمی کرکے اسلام آباد کو نیا حصہ دیا جائے تو پھر سندھ، پنجاب، بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے عوام یہ سوال ضرور کریں گے:
ہمارا حصہ کیوں کم کیا جائے؟
بالخصوص سندھ یہ سوال زیادہ شدت سے پوچھ سکتا ہے کہ ایک طرف سندھ پاکستان کی گیس کا تقریباً 60–64 فیصد اور خام تیل کا تقریباً 40 فیصد پیدا کر رہا ہے، دوسری طرف کراچی وفاقی ٹیکس وصولی کا ایک بہت بڑا مرکز ہے، تو پھر سندھ کے مالی حصے پر مزید بوجھ کیوں ڈالا جائے؟
صوبہ بنانا ہے تو پہلے معاشی فزیبلٹی سامنے لائی جائے
اسلام آباد کو صوبہ بنانے کے حامیوں سے صرف سیاسی دلائل نہیں بلکہ مکمل معاشی فزیبلٹی مانگی جانی چاہیے۔
حکومت کو عوام کے سامنے یہ اعداد و شمار رکھنے چاہئیں:
اسلام آباد سالانہ کتنا کماتا ہے؟
اس کی اپنی مقامی آمدنی کتنی ہے؟
وفاقی ٹیکسوں میں اس کا حقیقی contribution کتنا ہے؟
صوبہ بننے کے بعد اس کے اخراجات کتنے ہوں گے؟
صوبائی اسمبلی، کابینہ، محکموں اور انتظامی ڈھانچے پر سالانہ کتنا خرچ آئے گا؟
اسلام آباد اپنے اخراجات کا کتنا حصہ خود پورا کرے گا؟
NFC سے کتنی رقم مانگے گا؟
اور سب سے اہم:
اس رقم کا بوجھ وفاق اٹھائے گا یا موجودہ صوبوں کے عوام؟
جب تک ان سوالات کے جواب سامنے نہیں آتے، پانچویں صوبے کی بحث دراصل آدھی بحث ہے۔
اسلام آباد کو صوبہ بنانا محض پارلیمنٹ کے ایک عام قانون سے ممکن نہیں ہوگا۔ موجودہ آئینی حیثیت تبدیل کرنے کے لیے آئینی ترامیم درکار ہوں گی۔
آئین کے آرٹیکل 239 کے تحت آئینی ترمیم کا مخصوص طریقہ کار موجود ہے، جس میں پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں دو تہائی اکثریت بنیادی شرط ہے۔ اگر کسی موجودہ صوبے کی حدود تبدیل ہوں تو متعلقہ صوبائی اسمبلی کی دو تہائی منظوری بھی درکار ہوتی ہے۔
اسلام آباد کسی موجودہ صوبے کا حصہ نہیں، اس لیے اسے صوبہ بنانے کا معاملہ پنجاب یا سندھ کی حدود سے نیا صوبہ نکالنے جیسا نہیں ہوگا۔
لیکن اس کے باوجود آئین کے اندر اسلام آباد کی موجودہ حیثیت، قومی اسمبلی اور سینیٹ میں نمائندگی، صوبائی اسمبلی، صوبائی حکومت، عدالتی و انتظامی ڈھانچے اور مالیاتی نظام سے متعلق متعدد دفعات کو تبدیل یا ازسرنو ترتیب دینا ہوگا۔
یعنی اسلام آباد کو صوبہ بنانا پورے آئینی ڈھانچے میں ایک بڑی تبدیلی ہوگی۔
صرف اسلام آباد نہیں، پورے پاکستان کو سامنے رکھنا ہوگا
یہاں ایک اصول طے ہونا چاہیے:
نئے صوبے بنانا غلط نہیں، لیکن نئے صوبے کسی موجودہ صوبے کے آئینی یا مالی حق کی قیمت پر نہیں بننے چاہئیں۔
اگر اسلام آباد کو صوبہ بنانا انتظامی طور پر بہتر ہے تو اس پر کھل کر بحث ہونی چاہیے۔
اگر جنوبی پنجاب، ہزارہ، بہاولپور یا کسی دوسرے خطے کو صوبہ بنانا عوام کی ضرورت ہے تو اس پر بھی آئینی طریقے سے بحث ہونی چاہیے۔
لیکن اصول سب کے لیے ایک ہونا چاہیے۔
نہ اسلام آباد کے ساتھ ناانصافی، نہ سندھ کے ساتھ، نہ پنجاب کے ساتھ، نہ بلوچستان کے ساتھ اور نہ خیبر پختونخوا کے ساتھ۔
فیصلہ ماہرین کریں، سیاسی نعرے نہیں
وفاقی حکومت کو چاہیے کہ اسلام آباد کو صوبہ بنانے کی کسی بھی تجویز پر چاروں صوبوں اور اسلام آباد کے آئینی، معاشی، مالیاتی، انتظامی اور قانونی ماہرین کو ایک میز پر بٹھائے۔
NFC، CCI، پارلیمان اور صوبائی نمائندوں کے سامنے تمام اعداد و شمار رکھے جائیں۔
بحث کا آغاز اس سوال سے نہ ہو کہ:
"اسلام آباد کو صوبہ بنانا ہے یا نہیں؟"
بلکہ پہلے سوالات یہ ہونے چاہئیں:
اسلام آباد کتنا کماتا ہے؟
اسلام آباد کتنا خرچ کرے گا؟
اپنے اخراجات کا کتنا حصہ خود اٹھائے گا؟
وفاق کو کتنا دے گا؟
NFC سے کتنا لے گا؟
اور اگر NFC سے لے گا تو یہ رقم کس کے حصے سے آئے گی؟
خاص طور پر سندھ کے لیے سوال یہ ہے کہ:
جس صوبے سے ملک کی تقریباً 60–64 فیصد گیس، تقریباً 40 فیصد خام تیل اور جس کے معاشی مرکز کراچی سے وفاقی ٹیکس وصولیوں کا انتہائی بڑا حصہ حاصل ہوتا ہے، کیا اس صوبے کے مالی حقوق کو کم کرکے کسی نئے صوبے کا مالیاتی نظام بنایا جاسکتا ہے؟
اس سوال کا جواب صرف سیاست دانوں کو نہیں، آئین، NFC، CCI اور معاشی ماہرین کو دینا ہوگا۔
آخر میں ایک بات واضح ہونی چاہیے
اسلام آباد پاکستان کا دارالحکومت ہے۔ اس کی ترقی پورے پاکستان کی ذمہ داری ہے۔
لیکن اسلام آباد کو صوبہ بنانے کی قیمت سندھ، پنجاب، بلوچستان یا خیبر پختونخوا کے عوام کے آئینی و مالی حقوق کم کرکے ادا نہیں کی جانی چاہیے۔
سندھ نے پاکستان کو صرف کراچی کی بندرگاہ اور صنعت نہیں دی؛ سندھ کی زمین پاکستان کی توانائی کی ضرورت پوری کرنے میں بھی بنیادی کردار ادا کر رہی ہے۔
اس لیے اگر نئے صوبوں کی بحث شروع ہوتی ہے تو سندھ کے عوام کو بھی یہ حق حاصل ہے کہ وہ پوچھیں:
ہم جو کماتے ہیں، جو تیل دیتے ہیں، جو گیس دیتے ہیں، جو تجارت اور وفاقی محصولات کا بڑا حصہ پیدا کرتے ہیں—اس کے بعد ہمارے حصے میں کیا آتا ہے؟
اور اگر کسی نئے صوبے کو NFC میں حصہ دینا ہے تو:
پہلے یہ بتایا جائے کہ اس کا حصہ کہاں سے آئے گا۔
پاکستان کو نئے صوبے چاہئیں تو ضرور بنائے جائیں، مگر آئین کے مطابق، مکمل معاشی فزیبلٹی کے ساتھ، تمام اکائیوں کے اتفاقِ رائے سے اور کسی صوبے کے حق کو کم کیے بغیر۔
کیونکہ وفاق کا مطلب یہ نہیں کہ جو صوبہ زیادہ دے، اس کا حق کم کردیا جائے۔
وفاق کا مطلب یہ ہے کہ ہر اکائی کا حق محفوظ ہو، وسائل کی تقسیم شفاف ہو، آئین کی بالادستی ہو اور قومی فیصلے باہمی رضامندی سے ہوں۔
اور اسلام آباد کو صوبہ بنانے سے پہلے پاکستان کو ایک ہی سوال کا جواب دینا ہوگا:
اسلام آباد صوبہ بنے گا تو پیسہ کہاں سے آئے گا اور اس
کی قیمت کون ادا کرے گا؟
No comments yet.