سندھ مدینے کو توڑنے کی سازش کرنے والو! تاریخ پڑھو، پاکستان کا مقدمہ سمجھو اور پھر سندھ کے بارے میں بات کرو
سندھ مدینے کو توڑنے کی سازش کرنے والو! تاریخ پڑھو، پاکستان کا مقدمہ سمجھو اور پھر سندھ کے بارے میں بات کرو
تیحریر ڈاکٹر رضوان بھایو
سندھ صرف پاکستان کا ایک صوبہ نہیں، سندھ پاکستان کی تاریخ کا وہ باب ہے جسے مٹانے کی کوشش کرنے والا دراصل پاکستان کی بنیادوں کو ہلانے کی کوشش کررہا ہے۔
آج سندھ کو تقسیم کرنے، اسے نئے انتظامی حصوں میں بانٹنے یا کراچی کو سندھ سے الگ کرنے کی آوازیں اٹھ رہی ہیں۔ اس بحث کو محض انتظامی اصلاحات کا نام دے کر تاریخی حقیقتوں سے آنکھیں نہیں چرائی جا سکتیں۔ سوال یہ ہے کہ جس سندھ نے پاکستان کے قیام کی راہ ہموار کرنے میں سب سے پہلے بڑھ تاریخی کردار ادا کیا، کیا آج اسی سندھ کو پاکستان کے نام پر تقسیم کیا جائے گا؟
تاریخ کا ایک ناقابلِ تردید باب سامنے رکھ لیجیے۔
3 مارچ 1943 کو سندھ اسمبلی برطانوی ہندوستان کی پہلی قانون ساز اسمبلی بنی جس نے پاکستان کے قیام کے حق میں قرارداد منظور کی۔ خود سندھ اسمبلی کے سرکاری تاریخی ریکارڈ میں اس حقیقت کی تصدیق موجود ہے۔
یعنی پاکستان ابھی ایک خواب تھا، برصغیر تقسیم نہیں ہوا تھا، پاکستان کا نقشہ دنیا کے سامنے موجود نہیں تھا، مگر سندھ کی منتخب اسمبلی نے پاکستان کے قیام کے حق میں اپنی سیاسی رائے دے دی تھی۔
اور یہی وہ سندھ ہے جس نے 1947 میں پاکستان کے ساتھ اپنا مستقبل جوڑا۔
لہٰذا آج اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ سندھ کو سیاسی، لسانی یا انتظامی بنیادوں پر تقسیم کرکے اس کے تاریخی اور جغرافیائی تشخص کو ختم کیا جا سکتا ہے تو اسے ایک بات سمجھ لینی چاہیے:
سندھ کوئی عارضی سیاسی بندوبست نہیں؛ سندھ ایک تاریخی وطن ہے۔
پاکستان کے قیام کے بعد بھی سندھ نے پاکستان کی تعمیر میں اپنا حصہ ڈالا۔ اسی دھرتی نے ذوالفقار علی بھٹو پیدا کیا، جس کی قیادت میں پاکستان کے جوہری پروگرام کو سیاسی سرپرستی اور فیصلہ کن سمت ملی۔ پاکستان کے جوہری پروگرام کی بنیاد 1970ء کی دہائی میں بھٹو کے دور میں آگے بڑھی اور بالآخر پاکستان ایک جوہری ریاست بنا۔
اسی سیاسی خانوادے کی قیادت میں محترمہ بینظیر بھٹو نے پاکستان کے دفاع، جمہوریت اور وفاق کے لیے اپنا تاریخی کردار ادا کیا۔
اور پھر آصف علی زرداری نے "پاکستان کھپے" کا نعرہ لگا کر اس وقت پاکستان کی وحدت کی بات کی جب ملک شدید سیاسی بحران سے گزر رہا تھا۔
یہی پاکستان پیپلز پارٹی ہے جس نے وفاق، آئین، صوبائی خودمختاری اور جمہوریت کے مقدمے کو اپنی سیاست کا بنیادی حصہ بنایا۔
اور آج اسی سندھ کو تقسیم کرنے کی باتیں کی جا رہی ہیں!
یہ کیسا انصاف ہے؟
ایک طرف پاکستان کی وحدت کے لیے سندھ سے "پاکستان کھپے" کی آواز اٹھتی ہے، دوسری طرف اسی سندھ کے جغرافیے کو تقسیم کرنے کی تجاویز سامنے آتی ہیں۔
ایک طرف 18ویں ترمیم اور صوبائی خودمختاری کو پاکستان کے وفاقی ڈھانچے کا حصہ تسلیم کیا جاتا ہے، دوسری طرف سندھ کے عوام کے تاریخی، سیاسی اور جغرافیائی تشخص کو چیلنج کیا جاتا ہے۔
یہ تضاد ختم ہونا چاہیے۔
کراچی کا مسئلہ کراچی کی ترقی سے حل ہوگا، سندھ کی تقسیم سے نہیں
کراچی پاکستان کا معاشی مرکز ہے۔ کراچی کو دنیا کے بہترین شہروں میں شامل کرنے کے لیے مضبوط بلدیاتی نظام، مؤثر شہری حکومت، جدید ٹرانسپورٹ، صاف پانی، سیوریج، کچرے کے مؤثر انتظام، بہتر ماس ٹرانزٹ اور شفاف حکمرانی درکار ہے۔
اس کا حل سندھ کو توڑنا نہیں، کراچی کو سنوارنا ہے۔
اگر کسی شہر کے انتظامی مسائل کا حل صوبہ توڑنا قرار دے دیا جائے تو پھر پاکستان کے ہر بڑے شہر کے بارے میں یہی منطق استعمال کی جا سکتی ہے۔
اصل سوال یہ ہونا چاہیے کہ کراچی کو اختیارات، وسائل اور مؤثر بلدیاتی نظام کیسے دیا جائے—نہ کہ یہ کہ سندھ کو کیسے تقسیم کیا جائے۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے قومی کردار کو بھی تاریخ سے الگ نہیں کیا جا سکتا
پاکستان کے دفاعی اور معاشی سفر میں پیپلز پارٹی کے ادوار کے حوالے سے بھی بہت کچھ کہا اور لکھا گیا ہے۔
ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں پاکستان کے جوہری پروگرام کو فیصلہ کن سیاسی پشت پناہی ملی۔ بعد کی حکومتوں میں پاکستان کے میزائل پروگرام اور دفاعی صلاحیتوں میں پیش رفت ہوئی۔
JF-17 Thunder پاکستان اور چین کے مشترکہ دفاعی صنعتی تعاون کا اہم نتیجہ ہے؛ آج یہ پاکستان کی فضائی دفاعی صلاحیت اور دفاعی پیداوار کی نمایاں علامت بن چکا ہے۔
اسی طرح CPEC پاکستان اور چین کے درمیان ایک وسیع معاشی و انفراسٹرکچر منصوبہ ہے، جس کا مقصد رابطہ کاری، توانائی، انفراسٹرکچر اور معاشی تعاون کو فروغ دینا ہے۔
ان تمام منصوبوں کا کریڈٹ پاکستان پیپلز پارٹی کو جاتا ہے، یہ حقیقت ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی مختلف ادوار میں قومی سلامتی، خارجہ پالیسی، چین کے ساتھ تعلقات اور وفاقی سیاست میں ایک نمایاں سیاسی موجودگی رہی ہے۔
اب اصل سوال سندھ کے عوام سے ہے
کیا وہ سندھ کی تقسیم چاہتے ہیں؟ اور جواب ہے نہیں سندھ کے عوام اپنی جان تو دے سکتے ہیں لیکن سندھ تقسیم کا سوچ بھی نہیں سکتے۔
ہم سندھ دشمنوں کو کہتے ہیں:
سندھ کیب تاریخ یاد رکھو۔
سندھ دھرتی کی سیاسی شناخت یاد رکھو۔
یاد رکھو کہ 1943 میں سندھ اسمبلی نے پاکستان کے حق میں تاریخی قرارداد منظور کی تھی۔
یاد رکھو کہ پاکستان کی بنیاد رکھنے والی سیاسی تاریخ میں سندھ کا کردار کسی سے کم نہیں۔
اور یہ بھی یاد رکھو کہ وفاق مضبوط صوبوں سے بنتا ہے، کمزور اور تقسیم شدہ صوبوں سے نہیں۔
سندھ کو حقوق دو۔
سندھ کے وسائل پر سندھ کے عوام کا آئینی حق تسلیم کرو۔
سندھ کو تقسیم کرنے کا نسخہ مت دو۔
کیونکہ سندھ کے مسائل کا حل سندھ کو توڑنا نہیں، سندھ کو مضبوط کرنا ہے۔
سندھ کے مخالفیں کے نام آخری بات
دنیا جان لے:
ہم پاکستان کے خلاف نہیں۔
ہم پاکستان کے لیے کھڑے ہیں۔
ہم وفاق پاکستان کے خلاف نہیں۔
ہم مضبوط وفاق کے حامی ہیں۔
ہم کسی دوسرے صوبے کے دشمن نہیں۔
ہم پاکستان کے ہر صوبے کے حقوق کے ساتھ سندھ کے حق کی بات کرتے ہیں۔
لیکن اپنی دھرتی کے جغرافیے اور تاریخی تشخص کو سیاسی سودے بازی کی میز پر رکھنے کے لیے بھی تیار نہیں۔
سندھ نے پاکستان کو "ہاں" کہی تھی؛ سندھ نے پاکستان کو "پاکستان کھپے" بھی کہا ہے۔
اب سندھ کے عوام کا حق ہے کہ پاکستان بھی سندھ سے کہے:
تمہاری تاریخ، تمہاری شناخت اور تمہاری وحدت کا احترام کیا جائے گا۔
سندھ کو تقسیم کرنے والوں کو یہ حقیقت سمجھنی ہوگی کہ سندھ کو توڑنے کی کوشش سندھ کے عوام کے دلوں میں مزید مزاحمت پیدا کرے گی۔
اور ہماری جدوجہد واضح ہے:
پاکستان قائم رہے، وفاق مضبوط رہے، صوبے بااختیار رہیں اور سندھ متحد رہے۔
سندھ ہماری دھرتی ماں ہے۔
اس کے حقوق کے لیے آواز بلند کرنا پاکستان دشمنی نہیں—پاکستان کے وفاق کو مضبوط کرنے کی جدوجہد ہے۔
جیئے سندھ، جیئے پاکستان۔
جیئے بھٹو، جیئے بینظیر۔
پاکستان کھپے۔
No comments yet.