پمز میں انتظامی لاپروائی اور بے حسی: ایک اور سانحہ پر سانحہ۔
پمز میں انتظامی لاپروائی اور بے حسی: ایک اور سانحہ پر سانحہ۔
تیحریر ڈاکٹر رضوان بھیو
پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (PIMS)، جو کہ وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال کی براہِ راست نگرانی اور وزیر اعظم شہباز شریف کی حکومت کی زیرِ سرپرستی چلنے والا ملک کا اہم ترین سرکاری ہسپتال ہے، ایک بار پھر آئینی و قانونی دائرہ کار سے انحراف اور انتظامی بے حسی کا مرکز بن چکا ہے۔ متاثرہ نومولود بچوں کی میتوں کی شناخت کے بغیر ورثاء کے حوالے کرنے کی کوشش نہ صرف بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے بلکہ ملکی قوانین اور آئینِ پاکستان کا واضح استہزاء ہے۔
نومولود شہیدوں کے ماموں (طاہر) کی جانب سے اٹھایا گیا یہ سوال کہ "بغیر DNA ٹیسٹ کے کس بنیاد پر میتیں ہمارے حوالے کی جا رہی ہیں؟" ایک آئینی اور قانونی حق ہے جسے مسترد کرنا انتظامیہ کا مجرمانہ فعل ہے۔
آئینی و قانونی دلائل اور ثبوت
1. آئینِ پاکستان کے تحت بنیادی حقوق کی خلاف ورزی:
آرٹیکل 9 (زندگی اور وقار کی تحفظ کا حق): دستورِ پاکستان کا آرٹیکل 9 ہر شہری کو زندگی اور تحفظ کی ضمانت دیتا ہے۔ انسانی وقار کی پاسداری محض زندگی تک محدود نہیں بلکہ وفات کے بعد بھی میت کی حرمت اور اس کے قانونی ورثاء کو درست اور سائنسی شناخت کے بعد تسلیم کرنا ریاست اور اس کے اداروں کی آئینی ذمہ داری ہے۔
آرٹیکل 14 (انسان کے وقار کا تحفظ): انسان کی عزت و وقار کو ناقابلِ تسخیر قرار دیا گیا ہے۔ میتوں کے ساتھ غیر انسانی اور نامناسب رویہ اختیار کرنا انسانی وقار کی شدید ترین پامالی ہے۔
2. میڈیکو لیگل اور DNA ایکٹ کی خلاف ورزی:
دی پنجاب این ایف ایس اے / نیشنل فارنسک سائنس ایکٹ اور بین الاقوامی فارنسک قوانین: جہاں کسی بھی حادثے یا سانحے کے نتیجے میں میتیں اس حالت میں ہوں کہ ظاہری شناخت ممکن نہ رہے، وہاں قانونی طور پر DNA پروفائلنگ لازمی اور قانونی طور پر واجب عمل ہے۔
بغیر سائنسی و فارنسک ثبوت (DNA Match Report) کے میتیں یا ان کے بقایا جات ورثاء کو سونا قانوناً ایک سنگین جرم ہے، کیونکہ یہ اصل حقداروں کے حق اور قانونی کارروائی میں تحریف کے مترادف ہے۔
3. ہسپتال انتظامیہ اور متعلقہ وزارت کی ذمہ داری (Vicarious Liability):
قانونی اصول Vicarious Liability (سربراہ کی ذمہ داری) کے تحت ہسپتال کا عملہ اور انتظامیہ وفاقی وزارتِ صحت کے ماتحت ہیں۔ پمز کی انتظامیہ، وفاقی وزیرِ صحت مصطفی کمال اور حکومتی سربراہ وزیر اعظم شہناز شریف اس سنگین غفلت اور آئینی انحراف کے برابر کے ذمہ دار ہیں۔
ہسپتال میں اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجرز (SOPs) کو نظر انداز کر کے لواحقین کو غفلت کا نشانہ بنانا قانونی طور پر criminal negligence (مجرمانہ غفلت) کے زمرے میں آتا ہے۔
مطالبات
فوری DNA ٹیسٹ: تمام متاثرہ نومولود بچوں کے سائنسی اور فارنسک آئڈینٹیفکیشن (DNA) کا عمل شفاف طریقے سے فوری مکمل کیے بغیر میتیں بغیر DNA کے غیر آئینی اور غیر قانونی طریقے سے لواحقین کے حوالے کر دی گئیں۔
اس سانحے اور اس کے بعد ہونے والی انتظامی غفلت پر آئینی عدالت سپریم کورٹ چاروں صوبوں کے چیف جسٹس ہر مشتمل ہائی پاور ایک آزاد اور شفاف جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا جائے۔
جو وزیر اعظم وزیر صحت پمز انتظامیہ، متعلقہ ڈاکٹرز اور انتظامی عہدیداروں پر آئین و قانون کی پامالی اور مجرمانہ غفلت کا مقدمہ درج کیا جائے۔
No comments yet.