تختِ لاہور کا آمرانہ راج اور تعلیمی تضادات کا دجل
تختِ لاہور کا آمرانہ راج اور تعلیمی تضادات کا دجل
تحریر: ڈاکٹر رضوان بھیو
سپریم کورٹ آف پاکستان اور آئین کے بنیادی حقوق کا ڈھانچہ اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ قانون کی نظر میں تمام شہری برابر ہوں۔ لیکن پنجاب کی موجودہ صورتحال اور سیاسی نظام کو دیکھا جائے تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ قانون کی پابندیاں اور کڑی شرائط صرف عام عوام، نچلی سطح کے نمائندوں اور بلدیاتی اداروں کے لیے ہیں، جبکہ اوپر بیٹھے حاکم وقت ہر قسم کی پابندی، تعلیمی شرط اور محاسبے سے بالاتر ہیں۔
۱۔ تعلیمی قابلیت کا تضاد اور دہرا معیار:
تصویر میں پیش کردہ حقیقت ایک سنگین آئینی اور سیاسی سوال کھڑا کرتی ہے۔ اگر بلدیاتی انتخابات میں کونسلر کے لیے FA اور چیئرمین کے لیے BA اور کریکٹر سرٹیفکیٹ لازمی قرار دیا جا رہا ہے، تو پھر یہی اصول صوبائی اسیمبلی، قومی اسیمبلی، سینٹ اور وفاقی و صوبائی کابینہ پر لاگو کیوں نہیں ہوتا؟
تاریخ شاہد ہے کہ جب پرویز مشرف کے دور میں "گریجویٹ ڈگری" (BA) کی شرط نافذ کی گئی تھی، تو اسی سیاسی طبقے اور ن لیگ نے اسے شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ سپریم کورٹ آف پاکستان نے بھی بعد میں تعلیمی شرط کی اس شق کو آئین کے آرٹیکل 17 (سیاسی جماعتوں اور الیکشن لڑنے کے حق) اور آرٹیکل 25 (مساوات) کی روح کے منافی قرار دے کر ختم کر دیا تھا تاکہ عوامی نمائندگی میں تعلیمی تفریق ختم ہو۔
لیکن اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ:
اگر وزرائے اعظم، وزرائے اعلیٰ، وفاقی و صوبائی وزراء اور ارکانِ اسمبلی کے لیے کوئی خاص تعلیمی شرط آئین میں نہیں رکھی گئی، تو عوام کے بنیادی و مقامی نمائندوں (کونسلرز اور چیئرمینز) کے لیے یہ کڑی شرائط کس بنیاد پر عائد کی جا رہی ہیں؟
کیا جمہوری نظام میں عام عوام کے حقوق کو محدود کرنے اور بلدیاتی انتخابات کو مؤخر یا سخت تر بنانے کے لیے یہ شرائط سیاسی حربے کے طور پر استعمال کی جا رہی ہیں؟
۲۔ مقامی حکومتوں (بلدیاتی اداروں) سے خوف کیوں؟
آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 140A واضح طور پر حکم دیتا ہے کہ ہر صوبہ قانون کے ذریعے مقامی حکومتیں قائم کرے گا اور انہیں سیاسی، انتظامی اور مالیاتی اختیارات و وسائل نچلی سطح پر منتقل کرے گا۔
اس کے باوجود، بلدیاتی انتخابات میں بار بار تاخیر، شرائط میں الجھاو اور اختیارات کی مرکزیت اس بات کا ثبوت ہے کہ حکمران طبقہ اقتدار کو نچلی سطح تک منتقل نہیں کرنا چاہتا۔ بلدیاتی نمائندوں کے لیے ناممکن یا کڑی شرائط عائد کرنا دراصل انتخابات کو طویل عرصے تک ٹالنے اور مقامی سطح پر عوامی قیادت کو ابھرنے سے روکنے کی کوشش معلوم ہوتی ہے۔
۳۔ تختِ لاہور اور وسائل کی غیر مساوی تقسیم:
پنجاب پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے، لیکن اس کی معیشت اور ترقیاتی بجٹ کا ایک بہت بڑا حصہ صرف چند مخصوص شہروں پر خرچ ہوتا ہے۔ جنوبی پنجاب اور پوٹھوہار کے اضلاع دہائیوں سے اپنے بنیادی حقوق، ہسپتالوں، سکولوں، پانی اور سڑکوں کی فراہمی کے لیے ترستے رہے ہیں۔
جنوبی پنجاب اور پوٹھوہار صوبے کا قیام:
رانا ثناء اللہ اور ن لیگ کے دور میں پنجاب اسمبلی سے جنوبی پنجاب اور دیگر انتظامی صوبوں کے قیام کی قراردادیں منظور ہو چکی ہیں۔ لیکن عملدرآمد کے وقت ان فیصلوں کو سرد خانے کی نذر کر دیا جاتا ہے۔
قانونی اور آئینی نقطہ نظر:
آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 239 صوبوں کی حدود کی تبدیلی اور نئے صوبوں کے قیام کا آئینی طریقہ کار فراہم کرتا ہے۔ جب تک جنوبی پنجاب اور پوٹھوہار کے عوام کو ان کے اپنے صوبائی خودمختاری اور وسائل کا کنٹرول نہیں ملے گا، تب تک ان علاقوں کی محرومی ختم نہیں ہو سکتی۔
نتیجہ و مطالبات:
قانون میں یکسانیت: آئین اور قانون تمام شہریوں کے لیے برابر ہونا چاہیے۔ اگر بلدیاتی نمائندوں کے لیے تعلیمی معیار اور کریکٹر سرٹیفکیٹ ضروری ہے، تو یہ اصول ایم این ایز، ایم پی ایز اور وزراء پر بھی بلا تفریق نافذ ہونا چاہیے، بصورت دیگر بلدیاتی اداروں پر ایسی پابندیاں غیر آئینی اور امتیازی ہیں۔
آرٹیکل 140A پر عملدرآمد: سپریم کورٹ کے احکامات کے مطابق پنجاب میں بلاتاخیر بلدیاتی انتخابات کروا کر اختیارات گراس روٹ لیول (Grassroots level) تک منتقل کیے جائیں۔
نئے صوبوں کا قیام: پنجاب اسمبلی کی منظور شدہ قراردادوں پر عمل کرتے ہوئے جنوبی پنجاب اور پوٹھوار صوبے کے قیام کا آئینی عمل فوری شروع کیا جائے تاکہ صوبے کے تمام علاقوں کو ان کے وسائل کا جائزہ اور ترقی کا مساوی حق مل سکے۔
No comments yet.