بدھ ،13 مئی 2026 لائیو دیکھیں
Effy Jewelry

اوجڑی کیمپ دھماکے سے بہاولپور فضائی دھماکے تک

تحریر : محمد ضرار یوسف

Editor

ایک ماہ قبل

Voting Line

 

آج سے اٹھتیس برس قبل، اوجڑی کیمپ دھماکے کا سانحہ راولپنڈی کے ایک گنجان آباد علاقے میں پیش آیا—ایک ایسا واقعہ جس کی بازگشت آج بھی قومی حافظے میں سنائی دیتی ہے۔ 10 اپریل 1988 کی صبح تقریباً 10 بج کر 30 منٹ پر شروع ہونے والے اس المناک حادثے نے دیکھتے ہی دیکھتے پورے شہر کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ ہلاکتوں کی درست تعداد آج تک متنازع رہی ہے؛ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 100 سے 103 افراد جاں بحق ہوئے، جبکہ غیر سرکاری اور آزاد ذرائع اس تعداد کو 200 سے 300 یا اس سے بھی زائد قرار دیتے ہیں۔ اس سانحے میں ہزاروں افراد زخمی ہوئے اور راولپنڈی و اسلام آباد کے وسیع علاقے شدید متاثر ہوئے، جس نے نہ صرف انسانی جانوں کا ضیاع کیا بلکہ ریاستی نظم و نسق اور شفافیت پر بھی کئی سوالات چھوڑ گیا۔

اوجڑی کیمپ درحقیقت ایک وسیع فوجی اسلحہ ڈپو تھا، جہاں مختلف نوعیت کا بارود اور مہلک ہتھیار بڑی مقدار میں ذخیرہ کیے گئے تھے۔ اس ذخیرے میں FIM-92 سٹنگر میزائل، بی ایم-21 طرز کے راکٹس اور راکٹ لانچرز، مارٹر گولے، توپ خانے کا بارود، اینٹی ایئرکرافٹ گولہ بارود، بارودی سرنگیں اور چھوٹے ہتھیاروں کی گولیاں شامل تھیں۔
یہ اسلحہ دراصل روس افغانستان جنگ کے دوران افغان مجاہدین کو فراہم کرنے کے لیے جمع کیا گیا تھا۔ اس زمانے میں سی ائی اے اور دیگر بین الاقوامی نیٹ ورکس کے تعاون سے پاکستان ایک کلیدی راہداری کا کردار ادا کر رہا تھا، جہاں سے یہ ہتھیار افغان مزاحمت کاروں تک پہنچائے جاتے تھے تاکہ وہ روس کی افواج کے خلاف برسرِ پیکار رہ سکیں۔

اوجڑی کیمپ کی حیثیت محض ایک مقامی فوجی ذخیرے تک محدود نہیں تھی، بلکہ اس کے تانے بانے خطے کی بڑی عالمی جنگوں سے جا ملتے ہیں۔ ایک جانب یہ کیمپ روس افغانستان جنگ کے دوران افغانستان میں سوویت افواج کے خلاف برسرِ پیکار مجاہدین کے لیے اسلحہ کی ترسیل کا اہم مرکز تھا، تو دوسری طرف ایران عراق جنگ کے پیچیدہ علاقائی تناظر سے بھی منسلک ہے ۔
ایران۔عراق جنگ، جو 22 ستمبر 1980 کو عراق کے ایران پر اچانک حملے سے شروع ہوئی، بظاہر سرحدی تنازعات اور نظریاتی اختلافات کا نتیجہ تھی، مگر بین الاقوامی سیاست کے ماہرین کے نزدیک یہ ایک پراکسی جنگ کی شکل اختیار کر گئی تھی۔ اس جنگ میں امریکہ نے عراق کی سیاسی و عسکری پشت پناہی کی، اسے اسلحہ اور لاجسٹک سہولتیں فراہم کیں، تاکہ خطے میں طاقت کا توازن اپنے حق میں رکھا جا سکے۔
تاہم، اسی عرصے میں امریکی پالیسی کا ایک متضاد اور خفیہ پہلو بھی سامنے آیا، ایران کونٹرا اَفیئر  (Iran–Contra Affair) کی صورت میں پہلی بار 3 نومبر 1986 کو منظرِ عام پر آیا، جب لبنانی جریدے "اش-شراع" نے انکشاف کیا کہ امریکہ خفیہ طور پر ایران کو اسلحہ فروخت کر رہا ہے۔۔ اس اسکینڈل کے تحت امریکی انتظامیہ نے باضابطہ پابندیوں کے باوجود ایران کو خفیہ طور پر اسلحہ فروخت کر رہی تھی ۔ جس سے حاصل ہونے والی رقم دیگر مقاصد کے لیے استعمال کی گئی۔ یوں ایک ہی وقت میں خطے کی دو متحارب قوتوں کے ساتھ مختلف نوعیت کے تعلقات نے عالمی سیاست کی پیچیدگی کو بے نقاب کیا ۔

یہ خفیہ معاہدہ  میڈیا میں افشاء ہو گیا جس پہ ‎امریکی عوام اور کانگریس میں شدید ردعمل آیا ۔ اور ‎باقاعدہ تحقیقات ہوئیں ۔

عراق نے ایران–عراق جنگ کے دوران امریکہ کے کردار پر تحفظات کو کئی سطحوں پر اجاگر کیا۔ واشنگٹن میں اپنے سفارت خانے کے ذریعے عراق نے باضابطہ شکایات (diplomatic protests) بھیجی، جبکہ بغداد میں امریکی نمائندوں کو بالواسطہ پیغامات کے ذریعے یہ مؤقف پہنچایا گیا کہ اگر امریکہ واقعی عراق کا حامی ہے تو ایران کو اسلحہ کی فراہمی فوری طور پر بند کرے۔
عراق نے یہ معاملہ بین الاقوامی سطح پر بھی اٹھایا۔ اقوامِ متحدہ کے فورمز پر بغداد کی نمائندگی نے بارہا یہ دعویٰ کیا کہ ایران کو بیرونی طاقتوں سے اسلحہ کی ترسیل جاری ہے، اور یہ عالمی قانون اور جنگی اصولوں کی خلاف ورزی قرار دیا ۔ 
اسی دوران عراق نے عوامی اور میڈیا سطح پر بھی اپنا موقف مضبوط کیا۔ سرکاری میڈیا کے ذریعے عراق نے امریکہ پر “دوہرا کردار” ادا کرنے کا الزام لگایا ۔ 

افغان مجاہدین کو اسلحہ کی ترسیل کے دوران مبینہ بددیانتی کے حوالے سے امریکی کانگریس اور CIA میں تشویشات نے سر اٹھایا ۔ جس میں اظہار و اضطراب تھا کہ اوجڑی کیمپ سے اسلحہ بارود افغانستان کے متحارب گروپوں میں تقسیم نہیں ہو رہا ۔ بعض تجزیہ کاروں نے یہ اسلحہ ایران کو فروخت کرنے کا الزام عائد کیا ۔ 

اس سلسلے میں سب سے نمایاں نام چارلس ولسن  (Charlie Wilson) تھا، جو ٹیکساس کے رکن کانگریس اور اپریشن سائیکلون 
(Operation Cyclone)
 کے تحت افغان پروگرام کے لیے فنڈز بڑھانے میں کلیدی کردار ادا کر رہے تھے۔ رپورٹس کے مطابق، انہوں نے وقتاً فوقتاً یہ خدشہ ظاہر کیا کہ اسلحہ کی مکمل ٹریکنگ ممکن نہیں اور ہتھیار مطلوبہ گروپس تک نہیں پہنچ رہے۔ ہتھیاروں کی تقسیم میں بدیانتی ہو رہی ہے ۔
اسی طرح رون پال (Ron Paul) نے بعض مواقع پر تشویش ظاہر کی کہ اسلحہ کی ترسیل میں شفافیت نہیں، لیکن دیگر اراکین کے نام زیادہ تر میڈیا رپورٹس یا غیر سرکاری دستاویزات میں ملتے ہیں، جبکہ مستند ریکارڈ میں صرف انہی دو ممبران کانگرس کے نام ملتے ہیں ۔
سی ائی اے کے عہدیداروں میں جو اسلحہ کی منتقلی اور داخلی نگرانی کے معاملے میں شامل تھے ان میں گسٹ ایوراکوٹوس (Gust Avrakotos)، جو افغان پروگرام کے عملی سربراہ تھے،  انہوں نے داخلی رپورٹس میں مشکلات اور ٹریکنگ کے مسائل کی نشاندہی کی۔ اس کے ساتھ، (William J. Casey)  ڈائریکٹر سی ائی اے(1981–1987)، نے پالیسی سطح پر کہا کہ ہتھیار صحیح گروپ تک نہیں پہنچتے، لیکن عمومی طور پر پروگرام کامیاب رہا۔ دیگر سی ائی اے افسران نے بھی فیلڈ اپریشن“Field Operations” اور پاکستانی رابطہ افسران کے حوالے سے داخلی خدشات ظاہر کیے، تاہم ان کے نام عام طور پر منظرِ عام پر نہیں آئے۔

اوجڑی کیمپ کے اسلحہ اور بارود کے ذخیرے کی شفاف جانچ پڑتال کے لیے الاقوامی سطح پر بھی خدشات کے پیش نظر یہ خبر سامنے آئی کہ امریکہ نے ایک خصوصی ٹیم تشکیل دینے کا اعلان کیا، جس کا مقصد اوجڑی کیمپ میں موجود اسلحہ کے ریکارڈ اور ترسیل کے نظام کا آڈٹ کرنا تھا۔
رپورٹس کے مطابق یہ ٹیم اپریل 1988 کے دوران پاکستان آنے کا پروگرام رکھتی تھی، تاکہ زمینی حقائق کا جائزہ لے کر اس بات کا تعین کیا جا سکے کہ اسلحہ کی ترسیل، ذخیرہ اور نگرانی کے نظام میں کہاں خامیاں موجود تھیں۔ یہ پیش رفت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ اوجڑی کیمپ کا سانحہ محض ایک مقامی حادثہ نہیں تھا ۔ 

اوجڑی کیمپ حادثے کے فوری بعد اُس وقت کے وزیرِاعظم محمد خان جونیجو نے واقعے کی جامع تحقیقات کے لیے دو علیحدہ کمیٹیاں تشکیل دیں—ایک فوجی اور دوسری پارلیمانی۔ پارلیمانی کمیٹی کی سربراہی محمد اسلم خٹک کے سپرد کی گئی، جبکہ وزیرِ مملکت برائے دفاع رانا نعیم محمود بھی اس کا حصہ تھے۔ اس کمیٹی کا بنیادی مقصد حادثے کے اسباب، ممکنہ غفلت یا حتیٰ کہ غداری کے پہلوؤں کا تعین کرتے ہوئے ایک شفاف رپورٹ پارلیمنٹ کے سامنے پیش کرنا تھا۔
تاہم اس عمل نے اُس وقت کے صدر ضیاءالحق اور وزیرِاعظم جونیجو کے درمیان واضح اختلافات کو جنم دیا۔ جنرل ضیاء الحق اس رپورٹ کو قبول کرنے پر آمادہ نہ تھے، کیونکہ اس میں ممکنہ طور پر عسکری یا ریاستی اداروں کے بعض اعلیٰ عہدیداران پر ذمہ داری عائد ہونے کا اندیشہ تھا۔ ان کا مؤقف تھا کہ انکوائری کا عمل فوجی دائرہ اختیار میں رہے اور حساس معلومات کو منظرِ عام پر نہ آنے دیا جائے۔
اس کے برعکس، جونیجو ایک شفاف اور جوابدہ طرزِ حکمرانی کے حامی تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ حقائق عوام اور پارلیمنٹ کے سامنے لائے جائیں اور اگر کوئی ذمہ دار پایا جائے تو اس کے خلاف کارروائی کی جائے۔ یہی وجہ تھی کہ انہوں نے بعض اقدامات ضیاء الحق کی منظوری کے بغیر شروع کیے، جس سے دونوں کے درمیان کشیدگی مزید بڑھ گئی۔
اسی دوران جینوا اکارڈ پر دستخط ہوئے، جنہوں نے افغانستان سے سوویت افواج کے انخلا کی راہ ہموار کی۔ جونیجو اس معاہدے کے حامی تھے، جبکہ ضیاء الحق اس پر تحفظات رکھتے تھے—یوں یہ اختلاف پہلے ہی دونوں قیادتوں کے درمیان تناؤ کو بڑھا رہا تھا۔
بالآخر یہی اختلافات 29 مئی 1988 کو اس وقت فیصلہ کن موڑ پر پہنچے، جب صدر ضیاء الحق نے آئین کے آرٹیکل 58(2)(b) کے تحت جونیجو حکومت کو برطرف کر دیا۔ متعدد تجزیہ نگاروں کے نزدیک یہ اقدام محض سیاسی اختلافات کا نتیجہ نہیں تھا، بلکہ اوجڑی کیمپ کی تحقیقات اور ممکنہ رپورٹ کے منظرِ عام پر آنے کے خدشات سے بھی گہرا تعلق رکھتا تھا، جو ریاستی اداروں کے کردار پر سنگین سوالات اٹھاتی تھی۔

اوجڑی کیمپ دھماکہ محض ایک سانحہ نہیں تھا بلکہ اس نے پاکستان کی داخلی سیاست اور بین الاقوامی تعلقات پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ اس واقعے کے بعد جہاں ملک کے اندر ایک شدید سیاسی بحران نے جنم لیا، وہیں امریکہ اور ضیاءالحق کے درمیان تعلقات میں بھی ایک واضح اعتماد کا خلا پیدا ہوا، جس نے باہمی شراکت داری کی نوعیت پر سوالات اٹھا دیے۔
بعض زیرک سیاسی و عسکری تجزیہ کار اس سانحے کو بعد میں پیش آنے والے واقعات سے بھی جوڑتے ہیں، خصوصاً 17 اگست 1988 کو بہاولپور کے قریب ہونے والے اس فضائی حادثے سے، جس میں جنرل ضیاء الحق ہلاک ہوئے۔ اگرچہ اس حوالے سے کوئی حتمی اور مستند ثبوت موجود نہیں، تاہم یہ مؤقف پیش کیا جاتا ہے کہ اوجڑی کیمپ دھماکے کے بعد پیدا ہونے والی کشیدگی، بداعتمادی اور خفیہ نوعیت کے معاملات نے ایک ایسے ماحول کو جنم دیا جس کے اثرات بعد کے سانحات تک محسوس کیے جاتے ہیں ۔

Comments

No comments yet.

سب سے زیادہ پڑھا
Effy Jewelry
Effy Jewelry