بدھ ،13 مئی 2026 لائیو دیکھیں
Effy Jewelry

خیبر پختونخوا اسمبلی میں پارلیمانی احتساب کا بحران

تحریر: قریش خٹک

Special Correspondent

ایک ماہ قبل

Voting Line
کسی بھی جمہوری معاشرے میں عوامی وسائل کی نگہبانی اور مالیاتی شفافیت کا قیام ریاست کی اولین ذمہ داریوں میں شمار ہوتا ہے۔ پارلیمانی طرزِ حکومت میں اس مقصدِ جلیل کے حصول کے لیے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) کو کلیدی اور مؤثر ترین احتسابی فورم کی حیثیت حاصل ہے۔ سیاسی اصطلاح میں اسے پارلیمان کی آنکھ اور کان سے تعبیر کیا جاتا ہے، کیونکہ یہ ادارہ نہ صرف آڈٹ رپورٹس کا باریک بینی سے جائزہ لیتا ہے بلکہ سرکاری اخراجات کی کڑی نگرانی کے ذریعے اس امر کو یقینی بناتا ہے کہ عوامی ٹیکس کا ایک ایک پیسہ قانونی ضوابط اور شفافیت کے معیارات کے عین مطابق خرچ ہو۔ چنانچہ، پی اے سی محض ایک روایتی کمیٹی نہیں بلکہ پارلیمانی بالادستی اور
مالیاتی نظم و ضبط کا بنیادی ستون سمجھی جاتی ہے۔
 
تاریخی پس منظر میں دیکھا جائے تو پاکستان میں پہلی وفاقی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا قیام 11 مئی 1948 کو عمل میں لایا گیا۔ عصرِ حاضر میں یہ ایک مشترکہ پارلیمانی فورم کی شکل اختیار کر چکی ہے جس میں قومی اسمبلی اور سینیٹ دونوں ایوانوں کی نمائندگی شامل ہے۔ عالمی جمہوری روایات، بالخصوص برطانیہ، بھارت، کینیڈا اور آسٹریلیا کے پارلیمانی نظاموں کے مطالعے سے یہ حقیقت عیاں ہوتی ہے کہ اس کمیٹی کی سربراہی حزبِ اختلاف (اپوزیشن) کے سپرد کی جاتی ہے۔ اس روایت کا بنیادی فلسفہ یہ ہے کہ انتظامیہ کے اخراجات کا محاسبہ مکمل طور پر غیر جانبدارانہ اور سیاسی مصلحتوں سے بالاتر ہو کر کیا جا سکے۔ پاکستان میں بھی وفاقی سطح پر میثاقِ جمہوریت کے بعد اس روایت کو تقویت ملی، جس کی حالیہ مثالیں عمر ایوب اور بعد ازاں جنید اکبر کی بطور چیئرمین نامزدگی ہیں۔ اگرچہ پی ٹی آئی کے داخلی سیاسی خلفشار کے باعث یہ عہدہ فی الوقت مصلحتوں کا شکار ہے کیونکہ جنید اکبر اپنے عہدے سے استعفیٰ دے چکے ہیں، تاہم وفاقی پی اے سی کی جانب سے 1947 سے اب تک کا ریکارڈ قومی اسمبلی کی ویب سائٹ پر عام کرنا ادارہ جاتی فعالیت اور شفافیت کی جانب ایک مثبت قدم ہے۔
 
اس کے برعکس، جب ہم خیبر پختونخوا اسمبلی کے تناظر میں اس ادارے کا تجزیہ کرتے ہیں تو ایک مایوس کن صورتحال سامنے آتی ہے۔ صوبائی اسمبلی کی پندرہ رکنی پی اے سی گزشتہ کئی برسوں سے اپنی آئینی و قانونی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں تساہل کا شکار دکھائی دیتی ہے۔ یہ امر اس لیے بھی محلِ نظر ہے کہ صوبے میں گزشتہ تیرہ برسوں سے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی مسلسل حکومت قائم ہے، جس کی سیاست کی بنیاد ہی کرپشن کے خاتمے اور کڑے احتساب کے بیانیے پر استوار تھی۔ توقع تو یہ تھی کہ صوبے میں طویل اقتدار کے دوران احتسابی ڈھانچے کو مثالی بنایا جائے گا، مگر عملی طور پر پی اے سی کی فعالیت میں وہ انقلابی تبدیلیاں نظر نہیں آئیں جن کا وعدہ کیا گیا
تھا۔
 
حالیہ آڈٹ رپورٹس اس ادارے کی ساختی کمزوری اور بیوروکریسی کی جانب سے درپیش مزاحمت کا نوحہ پیش کرتی ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق بلدیاتی اداروں میں 354 ارب روپے جبکہ دیگر محکموں میں 64 ارب روپے سے زائد کی مالی بے ضابطگیوں کی نشاندہی ہوئی، مگر ریکوری کی صورتحال انتہائی ناگفتہ بہ ہے۔ یہ اعداد و شمار ثابت کرتے ہیں کہ موجودہ نظام میں خرابیوں کی نشاندہی تو ممکن ہے، مگر ان کے تدارک اور ذمہ داروں کے تعین کا میکانزم انتہائی مفلوج ہے۔
اس ناکامی کا ایک بنیادی سبب صوبائی اسمبلی کے قواعد و ضوابط میں موجود سقم ہیں۔ پی اے سی کے پاس سرکاری افسران کو طلب کرنے کا اختیار تو ہے، لیکن اسے تعزیری اختیارات، فوری ریکوری کے احکامات یا براہِ راست ریفرنس بھیجنے کی قانونی قوت حاصل نہیں ہے۔ اس قانونی محدودیت نے کمیٹی کو محض ایک مشاورتی ادارے میں بدل دیا ہے جس کی سفارشات پر عملدرآمد انتظامیہ کی صوابدید پر منحصر ہے۔ مزید برآں، خیبر پختونخوا اسمبلی کے قواعد کے تحت اسپیکر کا بذاتِ خود پی اے سی کا چیئرمین ہونا مفادات کے ٹکراؤ کا باعث بنتا ہے۔ جب ایوان کا کسٹوڈین، جو کہ حکومتی اکثریت کا نمائندہ ہوتا ہے، خود ہی احتسابی عمل کی سربراہی کرے گا تو شفافیت اور غیر جانبداری کے تقاضے مجروح ہونا فطری ہے۔
 
احتسابی عمل میں حائل ایک اور بڑی رکاوٹ آڈٹ بیک لاگ اور تکنیکی معاونت کا فقدان ہے۔ پانچ سے سات سال پرانے معاملات کا جائزہ لینے تک متعلقہ افسران یا تو ریٹائر ہو چکے ہوتے ہیں یا ریکارڈ غائب کر دیا جاتا ہے، جس سے احتساب کی افادیت دم توڑ دیتی ہے۔ بیوروکریسی کی جانب سے ریکارڈ کی فراہمی میں دانستہ تاخیر احتسابی پہیے کو روکنے کا ایک آزمودہ حربہ بن چکا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، پیچیدہ مالیاتی امور اور پبلک پروکیورمنٹ رولز کی باریکیوں کو سمجھنے کے لیے کمیٹی کے پاس آزاد آڈیٹرز اور قانونی ماہرین کی وہ مستقل ٹیم موجود نہیں ہے جو ترقی یافتہ ممالک کے پارلیمانی نظاموں کا خاصہ ہے۔
 
ان تمام معروضات کی روشنی میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ اگر خیبر پختونخوا میں طرزِ حکمرانی کی اصلاح اور عوامی اعتماد کی بحالی مقصود ہے تو پی اے سی کے ڈھانچے میں بنیادی اصلاحات ناگزیر ہیں۔ عالمی پارلیمانی اقدار کے مطابق پی اے سی کی سربراہی اپوزیشن کو منتقل کرنا، کمیٹی کو باقاعدہ تعزیری و قانونی اختیارات سے لیس کرنا، آڈٹ کے عمل کو ڈیجیٹلائز کرنا اور کمیٹی اجلاسوں اور مانیٹرنگ کے عمل میں میڈیا و سول سوسائٹی کی رسائی کو یقینی بنانا وہ اقدامات ہیں جو اس ادارے کو بے بسی کی دلدل سے نکال کر بااختیار بنا سکتے ہیں۔
 
حرفِ آخر یہ کہ پی اے سی کی مضبوطی دراصل پارلیمان کی مضبوطی ہے۔ تحریک انصاف کے پاس اب بھی یہ موقع ہے کہ وہ اپنے منشور کے مطابق ان احتسابی اصلاحات کو عملی جامہ پہنائے۔ احتساب کا اصل مقصد محض خامیوں کی نشاندہی نہیں بلکہ نظام کی تطہیر اور عوامی وسائل کا تحفظ ہے۔ جب تک  پی اے سی ایک بااختیار ادارہ نہیں بنتی، صوبے میں شفاف طرزِ حکمرانی کا خواب شرمندہِ تعبیر نہیں ہو سکے گا۔
Comments

No comments yet.

سب سے زیادہ پڑھا
Effy Jewelry
Effy Jewelry