بدھ ،13 مئی 2026 لائیو دیکھیں
Effy Jewelry

آزادی کے سائے میں نظریاتی خاموشی: پیپلز پارٹی کی جدوجہد سے جمود تک

آزادی کے سائے میں نظریاتی خاموشی: پیپلز پارٹی کی جدوجہد سے جمود تک

Tahir Rao

ایک ماہ قبل

Voting Line

آج سوشل میڈیا کے پلیٹ فارم X پر ایک تصویر نظر سے گزری جس میں پاکستان پیپلز پارٹی کے چند کارکن ملتان میں ایک دوست کے گھر پر جمع ہو کر قائدِ عوام شہید ذوالفقار علی بھٹو کے سنتالیسویں یومِ شہادت پر خراجِ عقیدت پیش کر رہے تھے۔ بظاہر یہ ایک سادہ سی تصویر تھی، مگر اس نے ماضی کی کئی تلخ یادیں تازہ کر دیں۔

یہ منظر دیکھ کر فوراً جنرل ضیاء الحق کے مارشل لا کا دور ذہن میں تازہ ہو گیا۔ وہ ایک ایسا زمانہ تھا جب سیاسی سرگرمیاں جرم سمجھی جاتی تھیں، پیپلز پارٹی کا نام لینا خطرے سے خالی نہ تھا، اور بھٹو صاحب کا ذکر کرنا بھی ریاستی جبر کو دعوت دینے کے مترادف تھا۔ کارکنوں کو گرفتاریاں، کوڑے، اور پابندیاں برداشت کرنی پڑتی تھیں۔ اس کے باوجود وہ خاموش نہ بیٹھے—گھروں میں، بند کمروں میں، چوری چھپے، وہ اپنی سیاسی وابستگی کو زندہ رکھتے رہے۔ وہ جدوجہد ایک نظریے کی بقا کی جنگ تھی۔

لیکن آج، 2026 میں، حالات یکسر مختلف ہیں۔ ملک میں جمہوری نظام قائم ہے۔ پیپلز پارٹی خود حکومت کا حصہ ہے۔ ملتان جیسے بڑے شہر میں پارٹی کی مکمل تنظیمی ساخت موجود ہے—چیئرمین سینیٹ سے لے کر ارکانِ قومی و صوبائی اسمبلی تک، اور ضلعی سطح تک فعال ڈھانچہ۔ ایسے میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہی جماعت، جس نے آمریت کے اندھیروں میں بھی چراغ جلائے رکھے، آج مکمل آزادی کے باوجود ایک بھرپور عوامی پروگرام کرنے میں کیوں ناکام نظر آتی ہے؟

یہ تضاد صرف ایک تصویر کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک گہرے تنظیمی اور نظریاتی خلا کی نشاندہی کرتا ہے۔ ماضی میں کارکنوں کے پاس وسائل کم تھے مگر جذبہ بے پناہ تھا۔ آج وسائل، اختیارات اور پلیٹ فارم موجود ہیں، مگر وہی جوش و ولولہ کہیں کھو گیا ہے۔ پارٹی کی تقریبات محدود، رسمی اور اکثر غیر مؤثر دکھائی دیتی ہیں۔ یومِ شہادت جیسے اہم دن، جو نظریاتی تجدید اور عوامی رابطے کا موقع ہونا چاہیے، چند نجی محفلوں تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔

یہ صورتحال اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ شاید پارٹی کی توجہ اقتدار کے تقاضوں میں اس قدر الجھ گئی ہے کہ نظریاتی بنیادیں کمزور ہو گئی ہیں۔ کارکنوں اور قیادت کے درمیان فاصلہ بڑھ گیا ہے، اور وہ عوامی رابطہ، جو کبھی پیپلز پارٹی کی پہچان تھا، اب کمزور پڑتا دکھائی دیتا ہے۔

یہ وقت ہے کہ پارٹی اپنی تاریخ سے سبق لے۔ وہی جماعت جو کبھی آمریت کے خلاف عوام کی امید تھی، اسے دوبارہ اپنی جڑوں کی طرف لوٹنا ہوگا۔ یومِ شہادت جیسے مواقع کو محض رسمی تقاریب کے بجائے ایک عوامی تحریک کی صورت دینا ہوگا—ایسی تحریک جو نئی نسل کو بھی بھٹو کے نظریے سے جوڑ سکے۔

وہ تصویر ایک یاد دہانی ہے—کہ آزادی صرف حاصل کرنا کافی نہیں، اسے زندہ رکھنا بھی ضروری ہے۔ اور اس کے لیے جذبہ، تنظیم اور عوامی رابطہ—تینوں کا زندہ ہونا لاہے۔

Tahir Rao General Secratary PPP Canada

Comments

No comments yet.

سب سے زیادہ پڑھا
Effy Jewelry
Effy Jewelry