پاکستان میں جنسی زیادتی کے قوانین میں اصلاحات کے باوجود انصاف کی شرح صرف 0.5 فیصد: ایکوایلیٹی ناؤ کی رپورٹ
پاکستان میں جنسی ز یادتی سے متاثره افراد کو قانونی اصلاحات کے باوجود انصاف تک رسائی میں شد ید مشکلات کا سامنا - ، تازه رپورٹ
اسلام آباد، پاکستان (31 مارچ 2026): پاکستان میں جنسی تشدد کے خلاف قوانین کو سخت کرنے اور طریقہ کار میں بہتری کے دعووں کے باوجود، متاثرہ افراد کو انصاف کی فراہمی میں کوئی خاطر خواہ تبدیلی نہیں آئی۔ عالمی انسانی حقوق کی تنظیم 'ایکوایلیٹی ناؤ' (Equality Now) کی تازہ ترین رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ملک میں ریپ کے مقدمات میں سزا کی شرح اب بھی صرف 0.5 فیصد ہے، جو کہ انتہائی تشویشناک حد تک کم ہے۔
رپورٹ بعنوان "پاکستان میں جنسی تشدد کے خلاف قانونی ردعمل: نفاذ اور انصاف تک رسائی میں درپیش چیلنجز" کے مطابق، قوانین کے ناقص نفاذ، تحقیقات میں طویل تاخیر، اور عدالت سے باہر غیر قانونی "سمجھوتوں" نے پورے نظامِ عدل کو مفلوج کر رکھا ہے۔
نظامِ انصاف کی خامیاں اور رکاوٹیں
رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ محض قانون سازی کافی نہیں، بلکہ اس کا عملی اطلاق اصل مسئلہ ہے۔ انصاف کی راہ میں حائل چند اہم رکاوٹیں درج ذیل ہیں:
-
ثبوتوں کی کمی اور ناقص تفتیش: پولیس اکثر صرف ڈی این اے یا طبی تصدیق پر انحصار کرتی ہے اور دیگر اہم فرانزک شواہد کو نظر انداز کر دیتی ہے۔
-
رضامندی کی غلط تشریح: پاکستانی قانون کے مطابق جنسی عمل کے لیے "آزادانہ رضامندی" لازمی ہے، لیکن پولیس اور عدالتیں اب بھی جسمانی چوٹ یا مزاحمت کے نشانات کو ریپ کا لازمی ثبوت تصور کرتی ہیں۔
-
متاثرین کو موردِ الزام ٹھہرانا: ویمن میڈیکو لیگل آفیسرز (WMLOs) کی جانب سے اب بھی متاثرہ خواتین کے "کنوارہ" ہونے کا ریکارڈ رکھا جاتا ہے، جو کہ نہ صرف غیر متعلقہ ہے بلکہ متاثرہ فرد کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی ایک فرسودہ کوشش ہے۔
-
پسماندہ طبقات کی مشکلات: رپورٹ کے مطابق مسیحی اور ہندو برادری سے تعلق رکھنے والی خواتین اور معذور افراد کو جنسی تشدد اور جبری تبدیلیِ مذہب کے زیادہ خطرات لاحق ہیں۔ معذور خواتین کے ساتھ زیادتی کے امکانات عام خواتین سے تین گنا زیادہ ہیں۔
قانونی تضادات اور اصلاحات کی ضرورت
رپورٹ کی مرکزی مصنفہ اور معروف وکیل سحر بندیال کا کہنا ہے کہ:
"پاکستان میں جنسی تشدد سے متاثرہ افراد کے لیے انصاف تک رسائی اب بھی ایک طویل اور کٹھن سفر ہے، جو اکثر انہیں دوبارہ صدمے سے دوچار کرتا ہے۔ قوانین میں اصلاحات ایک مثبت قدم ہیں، لیکن اصل ضرورت تھانوں اور عدالتوں میں ان کے عملی نفاذ کی ہے۔"
رپورٹ میں چند کلیدی تجاویز پیش کی گئی ہیں:
-
شادی کی عمر میں یکسانیت: پورے ملک میں شادی کی کم از کم عمر بغیر کسی استثنا کے 18 سال مقرر کی جائے تاکہ قانونی ابہام ختم ہو سکے۔ (فی الحال خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں یہ حد 16 سال ہے)۔
-
ازدواجی زیادتی اور محرم رشتوں میں تشدد: ازدواجی زیادتی (Marital Rape) اور محرم رشتوں میں جنسی تشدد کو واضح طور پر الگ جرم قرار دیا جائے تاکہ رپورٹنگ میں اضافہ ہو۔
-
وسائل کی فراہمی: 'اینٹی ریپ کرائسز سیلز' کو فعال بنایا جائے اور میڈیکو لیگل افسران کی کمی دور کی جائے تاکہ متاثرین کو دور دراز کا سفر نہ کرنا پڑے۔
ایکوایلیٹی ناؤ کا پیغام
ایکوایلیٹی ناؤ کی گلوبل لیڈ جیکوئی ہنٹ نے زور دیا کہ پاکستان کو اب اپنی تمام تر توجہ بہتر وسائل، تربیت اور احتساب پر مرکوز کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک ریاست کی جانب سے فراہم کردہ معاون خدمات بہتر نہیں ہوں گی، متاثرین کو وہ انصاف نہیں مل سکے گا جس کے وہ حق دار ہیں۔
یہ پریس ریلیز ویمنز میڈیا سینٹر، پاکستان کے تعاون سے جاری کی گئی ہے، جس کا مقصد خواتین اور لڑکیوں کے خلاف ہر قسم کے امتیاز اور تشدد کا خاتمہ کرنا ہے۔
No comments yet.