پاکستان: جنگ میں امن کا سفیر
تحریر: قریش خٹک
کسی نے سچ کہا ہے کہ امن کمزوری کی علامت نہیں بلکہ سیاسی قیادت کی سب سے بڑی طاقت ہے۔ تاریخ مستقبل میں آج کے عالمی رہنماؤں کا فیصلہ اس بنیاد پر نہیں کرے گی کہ انہوں نے کتنی جنگیں لڑیں اور کتنے معرکے سر کیے، بلکہ ان کا قد اس بات سے ناپا جائے گا کہ انہوں نے کتنی جنگوں کو اپنی بصیرت اور حکمتِ عملی سے روکا۔ یہ وہ بنیادی حقیقت ہے جسے عصرِ حاضر کی سیاسی قیادت کو ہر صورت سمجھنا ہوگا، کیونکہ جنگ کبھی مسائل کا حل نہیں ہوتی بلکہ یہ صرف مزید تباہ کن جنگوں کو جنم دیتی ہے۔ جنگ نہ تو استحکام لا سکتی ہے اور نہ ہی دیرپا امن کی ضامن بن سکتی ہے۔ امریکہ، ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری حالیہ کشیدگی اسی تلخ حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ گن شپ ہیلی کاپٹروں کی گھن گرج اور دہکتے ہتھیاروں کی آگ تنازعات کو ختم نہیں کرتی، بلکہ انسانیت کو ایسے گہرے زخم لگا دیتی ہے جن کے نشانات مٹنے میں دہائیاں بیت جاتی ہیں۔
موجودہ محاذ آرائی کوئی اچانک رونما ہونے والا واقعہ نہیں ہے۔ امریکہ اور ایران کے مابین تلخیوں کی جڑیں 1979 کے ایرانی انقلاب تک پھیلی ہوئی ہیں، جس کے بعد دہائیوں پر محیط بداعتمادی، معاشی پابندیوں، پراکسی جنگوں اور ناکام سفارتی کوششوں کا ایک طویل باب موجود ہے۔ یہ کشیدگی فروری 2026 کے اواخر میں اس وقت ایک ہولناک موڑ اختیار کر گئی جب امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے عسکری ڈھانچے اور قیادت کو نشانہ بناتے ہوئے بڑے پیمانے پر مربوط فضائی حملے کیے۔ جواب میں ایران کے جوابی میزائل اور ڈرون حملوں نے پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، جس سے پہلے سے بارود کے ڈھیر پر بیٹھا مشرقِ وسطیٰ براہِ راست تصادم کے جہنم میں تبدیل ہو گیا۔ آج یہ تنازعہ مسلسل پھیل رہا ہے، جس نے عالمی بحری گزرگاہوں، تجارت اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔
خلیجی ریاستیں اس تشویش میں مبتلا ہیں کہ ایران سے وابستہ گروہ اس آگ کو مزید وسعت دے سکتے ہیں، جس سے جغرافیائی سیاسی تنازعہ ان کے داخلی عدم استحکام کا سبب بن جائے گا۔ لیکن اس آگ کی تپش صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں ہے۔ ایشیا میں امریکی اتحادیوں کو خدشہ ہے کہ یہ طویل جنگ انڈو پیسیفک خطے میں امریکی اثر و رسوخ کو کمزور کر دے گی، جبکہ عالمی منڈیاں پہلے ہی لرز رہی ہیں۔ یہ صورتحال ثابت کرتی ہے کہ جدید جنگیں اب صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہتیں۔ آج کی باہم جڑی ہوئی دنیا میں مشرقِ وسطیٰ میں داغا گیا ایک میزائل ایشیا میں پٹرول اور ایندھن کی قیمتیں آسمان پر پہنچا دیتا ہے اور یورپ کے مضبوط اتحادوں کو دباؤ میں ڈال دیتا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ آج کہیں بھی لگی جنگ کا مطلب پوری دنیا کے لیے عدم تحفظ ہے۔
جنگوں کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ یہ اکثر سلامتی اور امن کے نام پر شروع کی جاتی ہیں، مگر ان کا انجام ہمیشہ عدم تحفظ اور عدم استحکام کی صورت میں نکلتا ہے۔ فوجی طاقت عمارتیں تو گرا سکتی ہے اور کمانڈروں کو ختم کر سکتی ہے، لیکن یہ دشمنی کے بیجوں کو تلف نہیں کر پاتی۔ اس کے برعکس، ہر دھماکہ نئی نفرتوں اور انتہاپسندی کے نئے چکروں کو جنم دیتا ہے۔ عراق سے شام اور غزہ سے یمن تک، مشرقِ وسطیٰ کی حالیہ تاریخ چیخ چیخ کر کہہ رہی ہے کہ بمباری نے امن نہیں بلکہ صرف ملبے کے ڈھیر اور نفرت کے انبار پیدا کیے ہیں۔ موجودہ تصادم اسی تاریخی غلطی کو ایک بھیانک پیمانے پر دہرانے کا پیش خیمہ ثابت ہو رہا ہے۔
دنیا کے سیاسی رہنماؤں کو یہ ادراک ہونا چاہیے کہ جنگیں صرف نقشے نہیں بدلتیں، بلکہ یہ نسلوں کے ذہنوں کو مسخ کر دیتی ہیں۔ بارود کے سائے میں آنکھ کھولنے والے بچے وراثت میں صرف خوف اور انتقام کی آگ پاتے ہیں۔ یہ وہ نفسیاتی زخم ہیں جو جنگ ختم ہونے کے برسوں بعد بھی مندمل نہیں ہوتے اور ایسی نسلیں تیار کرتے ہیں جو امن کے بجائے تشدد کی طرف مائل ہوتی ہیں۔ آج کا خطرہ اس لیے بھی سنگین ہے کہ اس میں عالمی طاقتیں اور جدید ترین ٹیکنالوجی شامل ہے۔ ایک چھوٹی سی تکنیکی غلطی یا ایک بھٹکا ہوا میزائل اس علاقائی بحران کو عالمی تباہی میں بدل سکتا ہے، بالکل ویسے ہی جیسے پہلی جنگِ عظیم ایک مقامی واقعے سے شروع ہوئی تھی۔ 28 جون 1914 کو سربیا کے ایک 19 سالہ قوم پرست نوجوان، گیوریلو پرنسپ نے جب آسٹریا-ہنگری کے ولی عہد آرک ڈیوک فرانز فرڈینینڈ کو سرائیوو میں قتل کیا، تو اس کا مقصد صرف اپنے علاقوں کی آزادی تھا، لیکن اس ایک واقعے نے پوری دنیا کو ایسی آگ میں جھونک دیا جس میں لاکھوں معصوم جانیں ضائع ہوئیں اور کروڑوں انسان برسوں تک کرب و اذیت کا شکار رہے۔ آج کا مشرقِ وسطیٰ اسی قسم کی کسی بڑی تباہی کے دہانے پر کھڑا ہے۔
معاشی طور پر، اس جنگ کی سب سے بھاری قیمت پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک چکا رہے ہیں۔ تیل کی بڑھتی قیمتوں اور تجارتی راستوں کے غیر یقینی ہونے سے پاکستان میں مہنگائی کا ایک ایسا طوفان اٹھا ہے جس نے عام آدمی کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ توانائی کا سنگین بحران دستک دے رہا ہے اور معاشی بحالی کے خواب بکھرتے نظر آ رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ، پاکستان کو ایک کڑے سلامتی کے چیلنج کا بھی سامنا ہے؛ ایران کے ساتھ طویل سرحد کی حفاظت اور واشنگٹن و خلیجی ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات میں توازن برقرار رکھنا کسی کٹھن امتحان سے کم نہیں۔
تاہم، ان مشکل حالات میں بھی پاکستان نے ایک سفارتی پل بن کر امید کی شمع روشن کی ہے۔ اسلام آباد میں ہونے والے حالیہ مذاکرات اور پس پردہ سفارتی رابطے اس بات کا ثبوت ہیں کہ امن کی مشینری کو کبھی رکنا نہیں چاہیے۔ پاکستان کی جانب سے مکالمے کا پلیٹ فارم مہیا کرنا یہ واضح پیغام ہے کہ بحرانوں کا حل جنگی طیاروں کے کاک پٹ میں نہیں بلکہ مذاکرات کی میز پر ہوتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جرمنی اور فرانس جیسے جانی دشمن آج بہترین شراکت دار بن سکتے ہیں، تو مشرقِ وسطیٰ میں امن کیوں ممکن نہیں؟
آج کے رہنماؤں کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ آنے والی نسلوں کو کیسا مستقبل دینا چاہتے ہیں۔ وقتی سیاسی مفادات کی خاطر کی گئی اشتعال انگیزی پورے کرہ ارض کو تباہ کر سکتی ہے۔ اگر ہم واقعی مشرق اور مغرب کے درمیان کی خلیج کو پاٹنا چاہتے ہیں، تو ان جنگوں کو فوری طور پر روکنا ہوگا۔ مکالمہ، تعاون اور ترقی ہی وہ راستے ہیں جو انسانیت کو بچا سکتے ہیں۔ یاد رکھیے، تاریخ صرف ان رہنماؤں کو احترام سے یاد رکھتی ہے جنہوں نے انسانیت کو جنگ کی آگ سے بچایا، نہ کہ ان کو جنہوں نے دنیا کو راکھ کے ڈھیر میں بدل دیا۔
No comments yet.