بدھ ،13 مئی 2026 لائیو دیکھیں
Effy Jewelry

ذوالفقار علی بھٹو پاکستان کی ترقی کے معمار

تحریر : محمد ضرار یوسف

Editor

ایک ماہ قبل

Voting Line

جب ذوالفقار علی بھٹو نے 20 دسمبر 1971 کو پاکستان کے صدر اور چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر کا عہدہ سنبھالا، تو ملک اپنی تاریخ کے بدترین بحران سے گزر رہا تھا۔ یہ محض حکومت کی تبدیلی نہیں تھی بلکہ ایک ٹوٹے ہوئے، جنگ زدہ اور عالمی سطح پر تنہا پاکستان کی باگ ڈور سنبھالنے کا لمحہ تھا۔
1971 کی پاک بھارت جنگ کے نتیجے میں مشرقی پاکستان الگ ہو کر بنگلہ دیش بن گیا۔ ملک دو لخت ہو چکا تھا اور پاکستان نے اپنی تقریباً نصف آبادی اور جغرافیہ کھو دیا۔ قومی شناخت اور ریاستی بیانیہ شدید بحران کا شکار تھا۔ مغربی پاکستان کے تقریباً پندرہ ہزار مربع کلومیٹر رقبے پر بھارت نے قبضہ کر لیا تھا، جس میں تھرپارکر، ننگرپارکر اور عمرکوٹ کے علاقے شامل تھے، جبکہ پنجاب کے سیالکوٹ اور نارووال کے کچھ سرحدی دیہات و چوکیوں پر بھی قبضہ تھا۔
بلتستان کے خپلو/گھانچے سے جڑے ہوئے ترتک، تھنگ، چلنکہ (Chalunka)، تیاقشی (Tyakshi) اور چوربت ویلی (Chorbat Valley) کے سرحدی اور بعض بیرونی حصوں میں بھی بھارت نے پیش قدمی کی، تاہم مرکزی آبادی والے علاقے پاکستان کے کنٹرول میں برقرار رہے۔ یہ علاقے شایوک (Shyok) وادی میں واقع ہیں اور ان کی سٹریٹجک اہمیت نمایاں تھی۔
جنگ کے نتیجے میں تقریباً 93 ہزار پاکستانی فوجی اور سول اہلکار بھارت کی قید میں تھے۔ فوج کی ساکھ اور مورال بری طرح متاثر ہوئی، اور دفاعی نظام کو ازسرِ نو منظم کرنے کی ضرورت پیدا ہو گئی۔
معیشت بھی تقریباً تباہ ہو چکی تھی۔ صنعتیں سست روی کا شکار تھیں، برآمدات میں کمی واقع ہوئی، زرمبادلہ کے ذخائر نہایت کم ہو گئے، جبکہ بے روزگاری اور مہنگائی میں اضافہ ہو چکا تھا۔ صنعتی ڈھانچہ چند خاندانوں کے قبضے میں ہونے کی وجہ سے غربت اور عدم مساوات میں اضافہ ہوا تھا، معاشی ترقی سست، اور تعلیمی و صحت کی سہولتیں محدود تھیں۔ وسائل کی زیادہ تر تقسیم امیروں کے ہاتھ میں تھی۔
بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی سفارتی تنہائی نمایاں تھی۔ بھارت اور سوویت یونین کا گٹھ جوڑ مضبوط تھا، جبکہ امریکہ کی حمایت محدود اور غیر یقینی تھی۔ عالمی سطح پر پاکستان کا تشخص متاثر ہوا، صوبائی و لسانی اختلافات بڑھ گئے اور عوام میں شدید مایوسی، غصہ اور بے چینی پائی جاتی تھی۔ فوجی حکومت کے خاتمے کے بعد سیاسی استحکام پیدا کرنا ایک بڑا امتحان تھا۔
اسی بحران کے بیچ ذوالفقار علی بھٹو کی “سحر انگیز” اور “کرشمہ ساز” شخصیت نے قومی قیادت کا کردار ادا کیا۔ ان کی سیاسی جدوجہد اور عوامی تعلق نے پاکستان کو ترقی کی نئی منزلوں کی طرف گامزن کیا۔ بھٹو نے نہ صرف سیاسی معاملات میں زیرکی اور حکمت عملی کا مظاہرہ کیا بلکہ عالمی سطح پر سفارتکاری اور اسٹریٹجک فیصلوں میں بھی ماہرانہ کردار ادا کیا۔ 1960 کی دہائی میں پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھنے میں ان کا کردار اہم رہا، جو ان کے وژن اور سیاسی بصیرت کا مظہر ہے۔
بھٹو نے وقت کے حالات کو پہلے ہی بھانپ لیا تھا اور وطن کے دفاع کے لیے فیصلہ کیا کہ “گھاس کھائیں گے مگر ایٹم بم بنائیں گے۔” اس مقصد کے لیے انہوں نے اپنی سیاسی اور ذاتی رائے کے ساتھ ساتھ اپنی جان کو بھی قربان کیا۔ تاہم، ملک کی کچھ مذہبی جماعتوں نے سی آئی اے کے بھٹو مخالف ایجنڈے کے تحت انتہائی ناپسندیدہ کردار ادا کیا، جس نے ملک کی سیاسی راہ میں مزید مشکلات پیدا کر دیں۔

ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستان کی سیاسی، اقتصادی اور سماجی ترقی کے لیے ایک جامع وژن اور مضبوط قیادت کے تحت اقدامات کیے، جو آج بھی یادگار ہیں۔ ان کی قیادت میں متعارف ہونے والی پالیسیاں اور منصوبے ملک کی بنیاد مضبوط کرنے میں معاون ثابت ہوئے اور پاکستان کو ایک مضبوط ریاست کے طور پر ابھارنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
بھٹو نے ہمیشہ مسلمانان عالم کی فلاح و بہبود اور اتحاد اُمہ کو اپنی خارجہ پالیسی کا محور بنایا۔ پاکستان کو اسلامی دنیا میں ایک فعال اور معتبر مقام دلانے کی کوشش کی، اور او آئی سی (Organization of Islamic Cooperation) کے پلیٹ فارم کو مستحکم کرنے میں پیش پیش رہے۔
1960 کی دہائی سے بھٹو نے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھی تاکہ ملک کی دفاعی خودمختاری اور سلامتی یقینی بنائی جا سکے۔ انہوں نے اپنے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا: "گھاس کھائیں، مگر ایٹم بم بنائیں۔" اس وژن کے تحت پاکستان نے ایٹمی ہتھیاروں سے لیس ہونے کی راہ ہموار کی، جو ملک کے قومی دفاع کا مضبوط ستون بنے۔
بھٹو کی حکومت نے ملک کے ہر خطے میں تعلیم تک مساوی رسائی ممکن بنانے کے لیے نئی یونیورسٹیاں، کالجز اور سکولز قائم کیے۔ اعلیٰ تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے یونیورسٹیوں میں اصلاحات کی گئیں اور نئے شعبے متعارف کرائے گئے۔ تعلیم کو معاشی و سماجی ترقی کا سب سے مؤثر ذریعہ قرار دیا گیا، اور تمام نجی تعلیمی اداروں کو قومی تحویل میں لے کر مفت تعلیم کی فراہمی کو رائج کیا گیا۔

بھٹو نے مزدور طبقے کے لیے قانونی تحفظات اور سہولتیں فراہم کیں۔ اجرتوں، کام کے اوقات اور معاشرتی فوائد کے حوالے سے قواعد مرتب کیے، تاکہ مزدوروں کی فلاح اور سماجی مساوات یقینی بنائی جا سکے۔ ان کی لیبر پالیسی نے صنعتی ترقی اور سماجی انصاف دونوں کو فروغ دیا۔ ان کے لئے سوشل سیکیورٹی اور اولڈ ایج بینفٹ جیسے ادارے قائم کئے ۔ 

1972 میں بھارت کے ساتھ شملہ معاہدہ کے ذریعے خطے میں امن قائم کرنے کی کوشش کی گئی۔ یہ معاہدہ سرحدی تنازعات کے حل اور باہمی تعلقات کی مضبوطی کا سنگ بنیاد بنا اور پاکستان کی بین الاقوامی ساکھ کو مستحکم کیا۔ اسی معاہدے کے تحت پاکستان کے 93 ہزار جنگی قیدی واپس وطن آئے، جو قومی جذبے کی بحالی میں اہم ثابت ہوا۔ اور پاکستان کا مقبوضہ علاقہ بھی بھارت سے واپس واگزار کروایا گیا ۔

ذوالفقار علی بھٹو کی قیادت نے نہ صرف سخت سیاسی بحران اور اقتصادی مشکلات کے دوران ملک کو سنبھالا، بلکہ دفاعی خودمختاری، عوامی فلاح و بہبود، تعلیمی اور سماجی ترقی، اور مزدوروں کے حقوق کے شعبوں میں مستحکم بنیادیں فراہم کیں۔ ان کی شخصیت میں کرشمہ، وژن اور عوامی اپیل کا حسین امتزاج تھا، جس نے پاکستان کو ترقی کی نئی منزلوں کی جانب گامزن کیا۔

اج پاکستان کے اکثر اداروں کی بنیاد دیکھنے پہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ ادارہ جناب ڈوالفقار علی بھٹو نے عوامی فلاح و بہبود کے لئے قائم کیا تھا ۔

ذوالفقار علی بھٹو کی سیاسی بصیرت، عوامی مقبولیت اور پاکستان کو ایک خودمختار ریاست بنانے کی جدوجہد بعض عالمی قوتوں کے لیے ناقابلِ برداشت بن چکی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو کو راستے سے ہٹانے کے لیے ایک منظم سازش تیار کی گئی، جس میں داخلی کمزوریوں کو بیرونی ایجنڈے کے ساتھ جوڑ دیا گیا۔ سی آئی اے کے مفادات کے عین مطابق عدالتی نظام کو استعمال کرتے ہوئے ایک ایسا فیصلہ سنایا گیا جس پر انصاف کا نہیں بلکہ انتقام واضع نظر اَتا ہے۔ بھٹو کا عدالتی قتل درحقیقت ایک منتخب عوامی رہنما کو سبق سکھانے کی کوشش تھی تاکہ آئندہ کوئی بھی لیڈر عالمی طاقتوں کے سامنے سر اٹھانے کی جرات نہ کرے۔ یہ فیصلہ آج بھی پاکستانی تاریخ پر ایک سیاہ دھبہ سمجھا جاتا ہے، جس نے عدل، خودمختاری اور جمہوریت—تینوں کو شدید نقصان پہنچایا۔

 

Comments

No comments yet.

سب سے زیادہ پڑھا
Effy Jewelry
Effy Jewelry