بدھ ،13 مئی 2026 لائیو دیکھیں
Effy Jewelry

وزیراعلیٰ کے پاس  بیس محکمے: خیبر پختونخوا حکومت کس ڈگر پر؟

تحریر: قریش خٹک

Editor

ایک ماہ قبل

Voting Line


خیبر پختونخوا اس وقت ایک ایسے انتظامی تضاد کا شکار ہے جو نہ صرف حیران کن ہے بلکہ صوبے کے مستقبل کے لیے خطرناک بھی۔ ایک ایسا صوبہ جو پہلے ہی بدامنی، معاشی دباؤ، بڑھتی ہوئی بے روزگاری اور گورننس کے پیچیدہ چیلنجز کا سامنا کر رہا ہو، وہاں حکومتی ڈھانچے کا مضبوط اور فعال ہونا ناگزیر ہے۔ مگر بدقسمتی سے موجودہ صورتحال اس کے برعکس ہے؛ صوبہ ایک ایسے کابینہ ڈھانچے کے تحت چلایا جا رہا ہے جو نہ صرف محدود ہے بلکہ عملی طور پر غیر مؤثر دکھائی دیتا ہے۔ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا بیک وقت بیس مختلف محکموں کے قلمدان سنبھالنا کسی بھی جدید انتظامی نظام کے لیے ایک غیر فطری اور غیر عملی صورتحال ہے۔
یہ مسئلہ محض انتظامی تقسیم کا نہیں بلکہ حکمرانی کے بنیادی اصولوں سے جڑا ہوا ہے۔ جس صوبے میں کل چونتیس محکمے ہوں، وہاں اگر ایک ہی فرد بیس محکموں کی نگرانی کرے تو اس کا سادہ سا مطلب یہ ہے کہ حکومت کے ساٹھ فیصد سے زائد امور ایک ہی میز تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں۔ اختیارات کا یہ ارتکاز گورننس کے عمل کو سست کرنے کا سب سے بڑا سبب بن رہا ہے۔ جب ہر اہم فائل، ہر نئی پالیسی اور ہر انتظامی منظوری کے لیے ایک ہی دفتر کی طرف دیکھنا پڑے، تو وہاں انتظامی رکاوٹ پیدا ہونا فطری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صوبے میں بیوروکریسی غیر یقینی کا شکار ہے، ترقیاتی منصوبے سست روی کا شکار ہیں اور عوامی خدمات کی فراہمی میں ایک واضح تعطل نظر آ رہا ہے۔
اس وقت صوبائی کابینہ کا مجموعی حجم صرف تیرہ اراکین پر مشتمل ہے، جن میں دس وزراء، دو مشیر اور ایک معاون خصوصی شامل ہیں۔ چونتیس میں سے صرف چودہ محکمے ان تیرہ افراد میں تقسیم ہیں، جبکہ بقیہ تمام بوجھ وزیراعلیٰ کے کندھوں پر ہے۔ یہ صورتحال اس وقت مزید تشویشناک ہو جاتی ہے جب ہم صوبے کے مالی حالات پر نظر ڈالتے ہیں۔ خیبر پختونخوا اس وقت تقریباً 680 ارب روپے کے بھاری بھرکم قرضے تلے دبا ہوا ہے، جس پر سود کی مد میں صرف ماہانہ ادائیگی ہی 5 ارب روپے تک پہنچ چکی ہے۔ یہ پانچ ارب روپے وہ رقم ہے جو عوام کی صحت، تعلیم اور بنیادی ڈھانچے پر خرچ ہونی چاہیے تھی، مگر اب یہ محض قرضوں کی بھینٹ چڑھ رہی ہے۔ مالیاتی بحران کے اس دور میں جب صوبے کو ہمہ وقت فعال وزیرِ خزانہ اور ماہرین کی ٹیم کی ضرورت ہے، وہاں محکموں کا لاوارث ہونا لمحہ فکریہ ہے۔
اس انتظامی خلا کو مزید پیچیدہ وہ خبریں بنا رہی ہیں جو سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہیں۔ رپورٹس کے مطابق کابینہ میں توسیع میں تاخیر محض سیاسی مصلحت نہیں، بلکہ اس کے پیچھے مبینہ طور پر مالی لین دین کے محرکات بھی شامل ہیں۔ یہ اطلاعات کہ بعض اراکینِ اسمبلی کابینہ میں شمولیت کے لیے کروڑوں روپے کی پیشکش کر رہے ہیں یا پارٹی کے بااثر حلقوں کو راضی کرنے کی کوشش میں ہیں، سیاسی نظام کی بنیادیں ہلا دینے کے لیے کافی ہیں۔ اگر کوئی وزیر بننے کے لیے بھاری سرمایہ کاری کرے گا، تو اس کی پہلی ترجیح عوامی خدمت کے بجائے اپنی لگائی گئی رقم کی واپسی ہوگی۔ یہ عمل نہ صرف کرپشن کو ادارہ جاتی شکل دے گا بلکہ عوام کا بچا کھچا اعتماد بھی سسٹم سے اٹھ جائے گا۔
گورننس دراصل ایک اجتماعی عمل اور ٹیم ورک کا نام ہے، یہ کسی "ون مین شو" کا تقاضا نہیں کرتی۔ ایک وزیراعلیٰ کے لیے، جو پہلے ہی سیاسی جلسوں، پارٹی امور اور مرکز کے ساتھ سیاسی محاذ آرائی میں مصروف ہو، یہ ممکن ہی نہیں کہ وہ بیس محکموں کی باریکیوں کو سمجھ سکے یا وہاں ہونے والی بدعنوانی پر نظر رکھ سکے۔ جب سیاسی بقا اور احتجاجی سیاست ترجیح بن جائے، تو انتظامی امور پسِ منظر میں چلے جاتے ہیں۔ صوبہ اس وقت دہشت گردی کی نئی لہر اور سرحدی مسائل جیسے سنگین خطرات سے نبرد آزما ہے، ایسے میں ایک فعال اور مکمل کابینہ کی عدم موجودگی ریاست کی رٹ کو کمزور کر رہی ہے۔
مختصر یہ کہ جب ہر فائل، ہر پالیسی، اور ہر منظوری ایک ہی دفتر سے گزرے تو تاخیر ناگزیر ہو جاتی ہے۔ یہی وہ انتظامی رکاوٹ ہے جو خیبر پختونخوا کی حکمرانی میں واضح طور پر نظر آ رہی ہے۔ محکموں کی کارکردگی متاثر ہو رہی ہے، ترقیاتی منصوبے سست روی کا شکار ہیں، اور عوامی خدمات کی فراہمی میں تعطل پیدا ہو رہا ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو انتظامی خلا مزید گہرا ہوگا اور مالیاتی دیوالیہ پن کا خطرہ حقیقت بن کر سامنے آئے گا۔
خیبر پختونخوا کے عوام محض سیاسی نعروں کے نہیں، بلکہ ایک ایسی فعال حکومت کے مستحق ہیں جو ان کے روزمرہ مسائل حل کر سکے۔ کابینہ میں فوری توسیع، میرٹ پر مبنی تقرریاں اور اختیارات کی نچلی سطح تک تقسیم ہی وہ واحد راستہ ہے جو صوبے کو اس دلدل سے نکال سکتا ہے۔ وقت آگیا ہے کہ قیادت سیاسی مفادات سے اوپر اٹھ کر صوبے کے انتظامی ڈھانچے کو بچانے کے لیے فیصلہ کن اقدامات کرے۔ بصورتِ دیگر، اختیارات کا ایک شخص کے ہاتھوں میں ارتکاز پورے نظام کو لے ڈوبے گا۔

Comments

No comments yet.

سب سے زیادہ پڑھا
Effy Jewelry
Effy Jewelry