مالیاتی نظام: تضادات اور اصلاحات
تحریر: قریش خٹک
پاکستان میں ہمیشہ سے سیاست کا محور وفاق اور اکائیوں کے درمیان تعلقات اور وسائل تقسیم رہی ہے۔ 1973ء کا آئین دراصل اسی تصور کا عملی اظہار تھا جس میں وفاقی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ صوبوں کو مالی اور انتظامی خودمختاری دینے کا وعدہ کیا گیا۔ بعد ازاں 2010ء کی اٹھارہویں آئینی ترمیم نے اس تصور کو مزید تقویت دی اور اختیارات کی مرکز سے صوبوں کی طرف منتقلی کو ایک تاریخی قدم قرار دیا گیا۔ اس ترمیم کو پاکستان میں جمہوری ارتقا کا ایک اہم سنگ میل سمجھا جاتا ہے کیونکہ اس کے ذریعے نہ صرف قانون سازی کے اختیارات صوبوں کو منتقل ہوئے بلکہ وسائل کی تقسیم کے نظام کو بھی زیادہ منصفانہ بنانے کی کوشش کی گئی۔
تاہم، آج جب پاکستان کی مالیاتی وفاقیت (Fiscal Federalism) کا سنجیدگی سے جائزہ لیا جائے تو ایک پیچیدہ اور تشویشناک تصویر سامنے آتی ہے۔ ایک طرف وفاقی سطح پر وسائل کی تقسیم کا بنیادی فارمولا گزشتہ سترہ برسوں سے منجمد ہے، تو دوسری طرف صوبائی حکومتیں اپنے اضلاع اور نچلی سطح کے اداروں کو وہ مالیاتی خودمختاری دینے سے گریزاں ہیں جس کا مطالبہ وہ خود وفاق سے کرتی رہی ہیں۔ اس دوہرے معیار نے نہ صرف پاکستان کے وفاقی ڈھانچے کو کمزور کیا ہے بلکہ عوامی سطح پر ترقی کے وعدوں کو بھی غیر مؤثر بنا دیا ہے۔
اس بحث کا آغاز ساتویں نیشنل فنانس کمیشن ایوارڈ (7th NFC Award) سے ہوتا ہے، جس کا اعلان دسمبر 2009ء میں کیا گیا تھا۔ یہ پاکستان کی مالیاتی تاریخ کا ایک انقلابی قدم تھا کیونکہ پہلی بار وسائل کی تقسیم کے لیے صرف آبادی کو بنیاد نہیں بنایا گیا بلکہ غربت، پسماندگی، محصولات کی وصولی اور رقبے جیسے عوامل کو بھی شامل کیا گیا۔ اس تبدیلی کا مقصد یہ تھا کہ کم ترقی یافتہ صوبوں کو زیادہ وسائل فراہم کیے جائیں تاکہ علاقائی عدم مساوات کو کم کیا جا سکے۔ اس فارمولے کے تحت وفاقی محصولات کے قابل تقسیم پول میں صوبوں کا حصہ بڑھا کر 57.5 فیصد کر دیا گیا، جو صوبائی خودمختاری کی طرف ایک بڑی پیش رفت تھی۔
آئین کے مطابق ہر پانچ سال بعد نیا این ایف سی ایوارڈ لانا ضروری ہے تاکہ وسائل کی تقسیم کو بدلتی ہوئی معاشی اور سماجی ضروریات کے مطابق ڈھالا جا سکے۔ لیکن حیران کن طور پر دسمبر 2009ء کے بعد سے آج تک کوئی نیا این ایف سی ایوارڈ نافذ نہیں ہو سکا۔ 2015ء، 2020ء اور اس کے بعد کے ادوار میں کئی مرتبہ کمیشن تشکیل دیے گئے، اجلاس ہوئے، مگر کوئی اتفاق رائے پیدا نہ ہو سکا۔ نتیجتاً پاکستان آج بھی 2009ء کے فارمولے کے تحت مالیاتی نظام چلا رہا ہے، حالانکہ اس دوران آبادی میں نمایاں اضافہ ہو چکا ہے، مہنگائی کی شرح کئی گنا بڑھ چکی ہے، اور ملک کو درپیش معاشی چیلنجز بھی یکسر بدل چکے ہیں۔
یہ جمود صرف ایک انتظامی یا تکنیکی مسئلہ نہیں بلکہ ایک بڑا سیاسی اور معاشی بحران ہے۔ وفاق کا مؤقف ہے کہ دفاعی اخراجات، قرضوں کی ادائیگی اور دیگر قومی ذمہ داریوں کے لیے اس کے پاس وسائل محدود ہو گئے ہیں، اس لیے صوبوں کو یا تو اپنے حصے میں کمی قبول کرنی چاہیے یا پھر قومی اخراجات میں حصہ ڈالنا چاہیے۔ دوسری طرف صوبے اس موقف کو اپنی مالیاتی خودمختاری کے خلاف سمجھتے ہیں اور کسی بھی قسم کی کمی قبول کرنے سے گریزاں ہیں۔ اس کشمکش نے پاکستان کی مالیاتی پالیسی میں غیر یقینی صورتحال پیدا کر دی ہے، جس کے نتیجے میں طویل مدتی معاشی منصوبہ بندی متاثر ہو رہی ہے۔
تاہم، مالیاتی وفاقیت کا اصل مسئلہ وفاق اور صوبوں کے درمیان نہیں بلکہ خود صوبوں کے اندر بھی موجود ہے۔ مالیاتی وفاقیت کا حقیقی مقصد یہ ہے کہ وسائل صوبائی دارالحکومتوں سے نکل کر اضلاع، تحصیلوں اور یونین کونسلوں تک پہنچیں۔ یہی وہ سطح ہے جہاں عوام براہِ راست ریاستی خدمات حاصل کرتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے صوبائی مالیاتی کمیشن (Provincial Finance Commission) کا تصور دیا گیا تھا تاکہ صوبوں کے اندر وسائل کی تقسیم ایک شفاف اور منصفانہ فارمولے کے تحت ہو سکے۔
بدقسمتی سے، یہی وہ مقام ہے جہاں پاکستان کا مالیاتی نظام کمزور پڑ جاتا ہے۔ صوبائی حکومتیں وہی رویہ اختیار کرتی ہیں جس کی شکایت وہ وفاق سے کرتی رہی ہیں۔ صوبے وفاق سے زیادہ وسائل کا مطالبہ کرتے ہیں، مگر جب انہیں یہ وسائل مل جاتے ہیں تو وہ انہیں نچلی سطح تک منتقل کرنے میں دلچسپی نہیں لیتے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ مالیاتی خودمختاری کا فائدہ عوام تک پہنچنے کے بجائے صوبائی دارالحکومتوں تک محدود رہ جاتا ہے۔
بلوچستان کی مثال اس حوالے سے سب سے زیادہ تشویشناک ہے۔ رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا اور ترقی کے اعتبار سے سب سے پسماندہ صوبہ ہونے کے باوجود وہاں آج تک کوئی مؤثر اور مستقل صوبائی مالیاتی ایوارڈ نافذ نہیں کیا جا سکا۔ جب وسائل کی تقسیم کا کوئی واضح اور قانونی فارمولا موجود نہ ہو تو فنڈز کی تقسیم سیاسی ترجیحات کے تحت ہونے لگتی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ کچھ اضلاع کو زیادہ وسائل ملتے ہیں جبکہ دور افتادہ اور پسماندہ علاقے مزید محرومی کا شکار ہو جاتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ بلوچستان کے کئی علاقوں میں آج بھی بنیادی سہولیات کا شدید فقدان ہے۔ صاف پانی، معیاری سکول اور بنیادی صحت کی سہولیات کئی علاقوں میں نایاب ہیں۔ جب وسائل کی تقسیم شفاف اور قانونی بنیادوں پر نہ ہو تو ترقی کا عمل غیر متوازن ہو جاتا ہے اور احساسِ محرومی میں اضافہ ہوتا ہے۔
پنجاب، سندھ اور خیبر پختونخوا کی صورتحال بھی مکمل طور پر اطمینان بخش نہیں۔ اگرچہ ان صوبوں میں ماضی میں صوبائی مالیاتی ایوارڈز دیے گئے، مگر گزشتہ کئی برسوں سے نئے ایوارڈز کا اجرا نہیں کیا گیا۔ نتیجتاً وسائل کی منتقلی ایڈہاک بنیادوں پر ہو رہی ہے۔ اس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ اضلاع کو اپنے مستقبل کی مالیاتی منصوبہ بندی کا کوئی واضح خاکہ میسر نہیں ہوتا۔جب وسائل کی تقسیم غیر یقینی ہو تو ضلعی حکومتیں بڑے ترقیاتی منصوبے شروع کرنے سے گریز کرتی ہیں۔ تعلیم، صحت اور انفراسٹرکچر جیسے شعبے براہِ راست متاثر ہوتے ہیں۔ اگر کسی ضلع کو معلوم ہو کہ اسے اگلے پانچ سالوں میں باقاعدہ فارمولا کے تحت فنڈز ملیں گے تو وہ طویل مدتی منصوبہ بندی کر سکتا ہے۔ لیکن جب فنڈز وزیراعلیٰ یا صوبائی حکومت کی صوابدید پر ہوں تو ترقی کا عمل متاثر ہوتا ہے۔
مالیاتی وفاقیت کا ایک اور اہم پہلو محصولات کی وصولی ہے۔ این ایف سی ایوارڈ کے بعد صوبوں کو وفاق سے بڑی مقدار میں وسائل ملنے لگے، جس کے نتیجے میں صوبوں کی اپنی محصولات بڑھانے کی ترغیب کم ہو گئی۔ زرعی ٹیکس، پراپرٹی ٹیکس اور دیگر مقامی محصولات کی وصولی اب بھی بہت کم ہے۔ صوبے وفاق سے وسائل تو لیتے ہیں مگر اپنی مالیاتی بنیاد کو مضبوط بنانے کے لیے مؤثر اقدامات نہیں کرتے۔یہ صورتحال مالیاتی ذمہ داری کے اصول کے خلاف ہے۔ خودمختاری کے ساتھ ذمہ داری بھی ضروری ہوتی ہے۔ اگر صوبے اپنی محصولات بڑھائیں اور وسائل کو نچلی سطح تک منتقل کریں تو مالیاتی وفاقیت زیادہ مؤثر ہو سکتی ہے۔
شفافیت کی کمی عوامی اعتماد کو بھی متاثر کرتی ہے۔ ایک عام شہری کے لیے یہ سوال بجا ہے کہ اگر صوبے کو اربوں روپے مل رہے ہیں تو اس کے علاقے میں بنیادی سہولیات کیوں نہیں پہنچ رہیں۔ یہ سوال صرف مالیاتی نظام کی کمزوری نہیں بلکہ گورننس کے بحران کی نشاندہی بھی کرتا ہے۔وقت کا تقاضا ہے کہ پاکستان میں مالیاتی وفاقیت کو عملی شکل دی جائے۔ سب سے پہلے آٹھواں این ایف سی ایوارڈ لایا جائے تاکہ وسائل کی تقسیم موجودہ معاشی حالات کے مطابق ہو سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ تمام صوبوں کو چاہیے کہ فوری طور پر صوبائی مالیاتی کمیشن کو فعال کریں اور اضلاع کے درمیان وسائل کی تقسیم کے لیے شفاف فارمولے متعارف کرائیں۔اگر ایسا نہ کیا گیا تو مرکز اور صوبوں کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوگا اور صوبوں کے اندر بھی علاقائی عدم مساوات بڑھے گی۔ یہ صورتحال سیاسی عدم استحکام کو جنم دے سکتی ہے۔ پاکستان جیسے متنوع معاشرے میں مالیاتی انصاف نہ صرف ترقی بلکہ قومی یکجہتی کے لیے بھی ضروری ہے۔
پاکستان کی معاشی بقا اسی میں ہے کہ وسائل کی تقسیم کو شفاف اور منصفانہ بنایا جائے۔ طاقت اور وسائل اسلام آباد سے نکل کر صوبوں تک، اور صوبائی دارالحکومتوں سے نکل کر اضلاع اور دیہات تک پہنچیں۔ مالیاتی وفاقیت کی کامیابی کا اصل معیار یہی ہے کہ عام شہری کی زندگی میں بہتری آئے۔ اگر ایسا نہ ہوا تو مالیاتی خودمختاری کا تصور محض ایک نعرہ بن کر رہ جائے گا، اور پاکستان ایک مضبوط وفاق کے بجائے کمزور انتظامی ڈھانچے کا شکار رہے گا۔
No comments yet.