بدھ ،13 مئی 2026 لائیو دیکھیں
Effy Jewelry

مہنگائی، ملکی معیشت اور عام آدمی کی سسکیاں

تحریر: قریش خٹک

Editor

ایک ماہ قبل

Voting Line

پاکستان ایک مرتبہ پھر تاریخ کے اس سنگین موڑ پر کھڑا ہے جہاں اس کی معیشت کی نبض اور عوام کے جینے کی امیدیں توانائی کی بے لگام قیمتوں کے رحم و کرم پر ہیں۔ حالیہ دنوں میں پیٹرول کی قیمتوں میں یکمشت 55 روپے فی لیٹر کے ہوش ربا اضافے نے ابھی متوسط طبقے کی کمر سیدھی نہیں ہونے دی تھی کہ گیس کی قیمتوں میں 22 فیصد تک کے اضافے کا نوٹیفکیشن ایک نئے معاشی عذاب کی صورت میں نازل ہو گیا۔ لیکن ستم ظریفی کی انتہا یہیں نہیں ہوئی؛ عوام ابھی تک بجلی کی قیمتوں میں ہونے والے مسلسل اضافے اور 'فیول ایڈجسٹمنٹ' کے نام پر ماہانہ بنیادوں پر لگنے والے معاشی تازیانوں کا بوجھ بھی سکت سے بڑھ کر برداشت کر رہے ہیں۔ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) اور نیپرا کے ان فیصلوں نے نہ صرف گھریلو باورچی خانوں کے بجٹ کو راکھ کر دیا ہے بلکہ ملک کے دم توڑتے ہوئے صنعتی پہیے کو بھی مکمل طور پر جام کرنے کی نوید سنا دی ہے۔ یہ محض چند روپوں کا عدد نہیں ہے بلکہ یہ ایک ایسا معاشی سونامی ہے جس کی لہریں پاکستان کے سماجی، سیاسی اور اخلاقی ڈھانچے کو جڑوں سے ہلا کر رکھ دیں گی۔

اگر ہم اوگرا کے تازہ ترین اعداد و شمار کے گورکھ دھندے پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ مارچ کے مہینے کے لیے درآمدی مائع قدرتی گیس (RLNG) کی قیمتوں میں اضافہ ماضی کے تمام ریکارڈ توڑ چکا ہے۔ سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ کے لیے ڈسٹری بیوشن مرحلے پر قیمت 13.55 ڈالر فی mmBtu تک پہنچنا اس بات کی علامت ہے کہ اب پاکستان میں توانائی ایک ایسی "لگژری" بنتی جا رہی ہے جو صرف خواص کو نصیب ہوگی۔ سوئی سدرن کے صارفین کے لیے تو یہ بوجھ مزید ناقابلِ برداشت ہو چکا ہے جہاں قیمت 12.54 ڈالر تک جا پہنچی ہے۔ جب ہم ان ڈالرز کو پاکستانی روپے کے گرتے ہوئے نرخوں میں تبدیل کرتے ہیں، تو یہ اضافہ فی mmBtu تقریباً 634 روپے بنتا ہے۔ یہ اضافہ ایک ایسے وحشت ناک وقت میں ہو رہا ہے جہاں ایک مزدور کی پوری دیہاڑی بمشکل ایک کلو گیس کی قیمت کے برابر رہ گئی ہے۔ ریاست کی جانب سے یہ اعتراف کہ اب وہ توانائی پر ایک روپے کی سبسڈی دینے کی سکت بھی نہیں رکھتی، دراصل اس معاشی دیوالیہ پن کا کھلا اعلان ہے جو گزشتہ کئی دہائیوں کی بدانتظامی اور کج فہمی کا نچوڑ ہے۔

توانائی کے اس بحران کا سب سے خوفناک اور متنازع پہلو "آئی پی پیز" (IPPs) یعنی نجی بجلی گھروں کے ساتھ کیے گئے وہ ظالمانہ معاہدے ہیں جو ملکی معیشت کے لیے گلے کا طوق بن چکے ہیں۔ ان معاہدوں کی سب سے بڑی خرابی "کپیسٹی پیمنٹس" (Capacity Payments) کی کڑی شرط ہے، جس کے تحت حکومت ان کمپنیوں کو اربوں روپے اس بجلی کے بھی ادا کرنے کی پابند ہے جو سرے سے پیدا ہی نہیں کی گئی یا قومی گرڈ میں شامل ہی نہیں ہوئی۔ یہ کسی مذاق سے کم نہیں کہ ملک میں بجلی کی طلب کم ہونے کے باوجود ہم ان نجی اداروں کو صرف اس لیے اربوں روپے نچھاور کر رہے ہیں کہ ان کے کارخانے موجود ہیں۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق، سالانہ بنیادوں پر کھربوں روپے صرف ان "کپیسٹی چارجز" کی مد میں ادا کیے جا رہے ہیں، جس کا بوجھ براہِ راست غریب صارفین کے بجلی کے بلوں میں "فکسڈ چارجز" اور بھاری ٹیکسوں کی صورت میں لاد دیا جاتا ہے۔ ان میں سے اکثر معاہدے ڈالرز میں کیے گئے ہیں، جس کا مطلب ہے کہ جیسے جیسے روپے کی قدر گرتی ہے، بجلی پیدا نہ کرنے کے باوجود ان کمپنیوں کو دی جانے والی رقم میں خود بخود اضافہ ہو جاتا ہے۔ یہ ایک ایسا "دستوری ڈاکہ" ہے جس نے ریاست کو مفلوج اور عوام کو کنگال کر دیا ہے۔ جب تک ان معاہدوں پر نظرِ ثانی نہیں کی جاتی اور "پے ایز یو یوز" (Pay as you use) کا منصفانہ اصول رائج نہیں ہوتا، تب تک بجلی کی قیمتوں میں کمی کا خواب شرمندہِ تعبیر نہیں ہو سکتا۔

بجلی کے بلوں میں شامل ٹیکسوں کی بے رحم بھرمار نے سفید پوش طبقے کو اس نہج پر لا کھڑا کیا ہے کہ اب وہ اس اذیت ناک فیصلے میں مبتلا ہیں کہ مہینے کے آخر میں بچوں کے اسکول کی فیسیں ادا کریں، گھر کا راشن لائیں یا بجلی کا بل بھر کر اپنی چھت بچائیں۔ ایک طرف عوام کو شمسی توانائی (Solar Panels) کی طرف راغب کیا گیا اور جب لوگوں نے اپنی جمع پونجی لگا کر سولر سسٹم نصب کروا لیے، تو اب نیٹ میٹرنگ کے نرخوں میں تبدیلی اور فکسڈ چارجز کے نفاذ کی باتیں کر کے ان سے وہ ریلیف بھی چھیننے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ریاست عام آدمی کو سستی بجلی فراہم کرنے کے بجائے صرف آئی پی پیز کے مفادات کا تحفظ کرنے میں دلچسپی رکھتی ہے۔ بجلی کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ دراصل بدانتظامی، لائن لاسز اور انھی ناقص معاہدوں کا شاخسانہ ہے، جسے حکومت اپنی پالیسی سازی کی ناکامی چھپانے کے لیے غریب کی جیب سے نکال رہی ہے۔

توانائی کی قیمتوں میں یہ اضافہ کبھی بھی ایک اکائی کی صورت میں نہیں رہتا، بلکہ یہ ایک مہلک زنجیری عمل (Chain Reaction) کو جنم دیتا ہے۔ جب پیٹرول، گیس اور بجلی بیک وقت مہنگے ہوتے ہیں، تو ملک کا پورا لاجسٹک اور پیداواری نظام سکتہ میں آ جاتا ہے۔ ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھتے ہی اشیائے خوردونوش کی قیمتوں کو پر لگ جاتے ہیں۔ ایک کسان جو ٹیوب ویل چلانے کے لیے مہنگی بجلی یا تیل خریدتا ہے اور مہنگی کھاد استعمال کرتا ہے (جو گیس سے بنتی ہے)، وہ اپنی فصل کبھی بھی سستے داموں مارکیٹ میں نہیں لا سکے گا۔ یوں روٹی کا نوالہ مہنگا ہونا براہِ راست توانائی کی ناقص پالیسیوں کا مرہونِ منت ہے۔ پاکستان کی ٹیکسٹائل صنعت، جو ہماری برآمدات کی ریڑھ کی ہڈی ہے، اس وقت ایک ایسے مقام پر ہے جہاں بنگلہ دیش اور ویتنام جیسے حریف ممالک ہمیں عالمی منڈی سے باہر دھکیل رہے ہیں۔ گیس اور بجلی کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ ان ہزاروں صنعتی یونٹس کے لیے موت کا پروانہ ثابت ہو سکتا ہے جو پہلے ہی بلند شرحِ سود اور پیداواری اخراجات کے بوجھ تلے سسک رہے ہیں۔

عالمی بحرانوں کا رونا تو اپنی جگہ، لیکن کیا ہم نے کبھی اپنے گریبان میں بھی جھانک کر دیکھا ہے؟ پاکستان کے توانائی کے شعبے میں 'Unaccounted-for Gas' (UFG) کا ناسور اور بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (DISCOs) کے لائن لاسز ایسے زخم ہیں جنہیں بھرنے کی کبھی سنجیدہ کوشش ہی نہیں کی گئی۔ ریاست کی نااہلی کا عالم یہ ہے کہ ان چوروں کو پکڑنے کے بجائے اس چوری کا پورا بوجھ ان ایماندار شہریوں پر ڈال دیا جاتا ہے جو اپنی خون پسینے کی کمائی سے بل ادا کرتے ہیں۔ یہ سراسر ایک اخلاقی دیوالیہ پن ہے جہاں ریاست چوروں کی پشت پناہی اور شریف شہریوں کی جیب تراشی کرتی نظر آتی ہے۔ جب تک اس انتظامی ڈھانچے کی جراحت نہیں کی جائے گی، تب تک عالمی منڈی میں قیمتیں کم بھی ہو جائیں تو عام پاکستانی کو ریلیف نہیں ملے گا۔

پاکستان اس وقت آئی ایم ایف کے ساتھ جس معاہدے میں جکڑا ہوا ہے، اس نے حکومت کے ہاتھ پاؤں باندھ دیے ہیں۔ حکومت نے پیٹرولیم لیوی یا بجلی کے نرخوں میں رعایت دینے کی جو ہلکی سی کوشش کی تھی، اسے آئی ایم ایف نے ایک ہی جھٹکے میں مسترد کر دیا ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ محصولات کا ہدف ہر صورت پورا کیا جائے اور "کاسٹ ریکوری" کو یقینی بنایا جائے، چاہے اس کے لیے عوام کی کھال ہی کیوں نہ اتارنی پڑے۔ یہ صورتحال موجودہ سیاسی قیادت کے لیے ایک "سیاسی خودکشی" کے مترادف بن چکی ہے۔ ایک طرف عالمی اداروں کا دباؤ ہے اور دوسری طرف عوام کا غم و غصہ جو کسی بھی وقت ایک بے قابو احتجاج کی صورت میں سڑکوں پر امڈ سکتا ہے۔

اگر ہم واقعی اس گرداب سے نکلنا چاہتے ہیں، تو ہمیں اپنی قومی ترجیحات کو 180 ڈگری پر گھمانا ہوگا۔ ہمیں اس حقیقت کو تسلیم کرنا ہوگا کہ درآمدی ایندھن پر حد سے زیادہ انحصار پاکستان کی معاشی سلامتی کے لیے زہرِ قاتل ہے۔ ہمیں فوری طور پر شمسی اور ہوا سے بجلی بنانے کے منصوبوں کی طرف جانا ہوگا، اور اس میں حائل بیوروکریٹک رکاوٹوں کو دور کرنا ہوگا۔ آئی پی پیز کے ساتھ معاہدوں پر نظرِ ثانی کرنا اب ناگزیر ہو چکا ہے کیونکہ "کپیسٹی پیمنٹ" کے نام پر اربوں روپے ان کمپنیوں کو دینا ملکی خزانے پر ڈاکہ ڈالنے کے مترادف ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، توانائی کے استعمال میں کفایت شعاری کو ایک قومی مہم بنانا ہوگا۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک سورج ڈھلتے ہی غیر ضروری بجلی بند کر دیتے ہیں، جبکہ ہمارے ہاں بازار آدھی رات تک روشن رہتے ہیں۔ ہمیں اپنے طرزِ زندگی کو اپنی بساط کے مطابق ڈھالنا ہوگا۔

آخر میں، یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ توانائی کا مسئلہ اب صرف ایک معاشی بحث نہیں رہا، بلکہ یہ پاکستان کی بقا اور سالمیت کا سوال بن چکا ہے۔ ایک ایسا ملک جہاں کا نوجوان اپنے مستقبل سے مایوس ہو جائے اور جہاں کا سفید پوش طبقہ فاقوں پر مجبور ہو جائے، وہاں استحکام کی امید رکھنا عبث ہے۔ حکومت کو اب عالمی حالات کے پیچھے چھپنے کے بجائے ٹھوس اور کڑوی اصلاحات کرنی ہوں گی۔ ہمیں گیس اور بجلی چوری روکنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا سہارا لینا ہوگا اور توانائی کے شعبے میں موجود سیاسی بھرتیوں اور کرپشن کا بے رحمانہ خاتمہ کرنا ہوگا۔ آنے والے چند ماہ پاکستان کی معیشت اور سیاست کے لیے ایک کڑی آزمائش ہیں۔ اگر ہم نے اب بھی طویل المدتی منصوبہ بندی نہ کی اور صرف وقتی "فائر فائٹنگ" پر اکتفا کیا، تو مہنگی توانائی کا یہ طوفان ہماری صنعتوں، زراعت اور بالآخر ہمارے سماجی امن کو بھی بہا لے جائے گا۔ وقت کسی کا انتظار نہیں کرتا، اور اب ہمارے آپشنز بھی بہت محدود رہ گئے ہیں: یا تو ہم اس بوسیدہ نظام کی جراحت کر کے اسے بچا لیں، یا پھر ان حالات سے متوقع طور پر پیدا ہونے والے اس تاریخی سیلاب کے آگے ہتھیار ڈال دیں جو کسی کو معاف نہیں کرے گا

-----------------------

Comments

No comments yet.

سب سے زیادہ پڑھا
Effy Jewelry
Effy Jewelry