اٹھارویں آئینی ترمیم پر وار: وقت کی سوئیوں کو پیچھے موڑنے کی کوشش؟
تحریر: قریش خٹک
پاکستان کی سیاسی تاریخ میں وفاقیت اور مرکزیت کی کشمکش ایک ایسا طویل باب ہے جو قیامِ پاکستان سے لے کر آج تک کسی نہ کسی صورت میں زیرِ بحث رہتا ہے، لیکن حالیہ دنوں میں ایک بار پھر ملک کے سیاسی افق پر اٹھارویں آئینی ترمیم کو زائل کرنے یا صوبوں سے بعض اہم اختیارات واپس لینے کی سرگوشیاں شدت سے سنائی دے رہی ہیں، جو ممکنہ طور پر ایک نئے آئینی و سیاسی بحران کا پیش خیمہ چابت ہوسکتی ہیں۔
اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم جذباتی بیان بازی سے ہٹ کر وفاقی نظام کے ڈھانچے، اس کی منطق اور اس کے اندر چھپے ان تضادات کا علمی و منطقی جائزہ لیں جو پاکستان جیسے کثیر اللسانی اور کثیر الثقافتی ملک کے لیے شہ رگ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ وفاقیت کو عالمی سطح پر طویل عرصے سے متنوع معاشروں میں تنوع کو سنبھالنے کے لیے سب سے مؤثر اور پائیدار آئینی بندوبستوں میں سے ایک سمجھا جاتا رہا ہے کیونکہ یہ نظام ایک ایسی چھتری فراہم کرتا ہے جس کے سائے میں مختلف لسانی، نسلی، ثقافتی اور علاقائی شناختیں اوربرادریاں اپنی مخصوص شناخت برقرار رکھتے ہوئے بھی ایک ہی سیاسی وحدت کا حصہ بنی رہتی ہیں۔
پاکستان کے مخصوص حالات میں، جہاں تنوع محض ایک آبادیاتی حقیقت نہیں بلکہ سماجی و سیاسی بقا کا بنیادی جزو ہے، وفاقیت محض ایک انتظامی انتخاب نہیں بلکہ ایک ناگزیر سیاسی ضرورت بن کر ابھری ہے، مگر اسی ضرورت کے بطن میں وہ بنیادی تضاد بھی پوشیدہ ہے جسے سیاسی مفکرین "وفاقیت کا تضاد" قرار دیتے ہیں۔ یہ تضاد ایک طرف تو وفاقی نظام کے ذریعے مختلف اکائیوں کو جگہ دے کر تنازعات کی شدت کم کرنے کا وعدہ کرتا ہے، لیکن دوسری طرف یہی نظام جب علاقائی شناختوں کو آئینی تحفظ اور مالیاتی خود مختاری فراہم کرتا ہے، تو یہ مرکز سے گریزاں رجحانات کو نادانستہ طور پر تقویت دینے کا باعث بھی بن سکتا ہے۔ یہی وہ عملی حقیقت ہے جس نے پاکستان کی تاریخ میں مرکز اور صوبوں کے درمیان ایک مستقل کھینچا تانی کی فضا برقرار رکھی ہے اور آج جب دوبارہ اٹھارویں ترمیم کے خاتمے یا اس میں ترامیم کی باتیں ہو رہی ہیں، تو دراصل ہم اسی پرانے تضاد کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہے ہیں۔
وفاقیت کی بنیاد مشترکہ خودمختاری کے اس نازک اصول پر قائم ہوتی ہے جس میں اقتدار کی تقسیم صرف کاغذ کی حد تک نہیں بلکہ عملی طور پر مرکز اور اکائیوں کے درمیان اس طرح کی جاتی ہے کہ ہر سطح کو اپنے دائرہ کار میں آئینی تحفظ حاصل ہو، جس کا بنیادی مقصد حکومت کو عوام کے قریب لانا اور مقامی سطح پر فیصلے کرنے کی صلاحیت پیدا کرنا ہوتا ہے تاکہ اقلیتی گروہوں میں احساسِ محرومی پیدا نہ ہو سکے۔
پاکستان کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہاں کا تنوع اس قدر ہمہ گیر ہے کہ اسے کسی ایک مرکز سے کنٹرول کرنا نہ صرف مشکل بلکہ ناممکن ہے، کیونکہ پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کی زبانیں، روایات، جغرافیائی حالات اور معاشی ضروریات ایک دوسرے سے یکسر مختلف ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ایک واحد مرکز سے صادر ہونے والے احکامات اکثر و بیشتر مقامی سطح پر اجنبیت اور بیگانگی کا باعث بنتے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ پاکستان میں صوبائی خودمختاری کے مطالبات کبھی بھی بلاوجہ نہیں تھے، بلکہ یہ ہمیشہ وسائل کی غیر مساوی تقسیم، سیاسی نمائندگی کے فقدان اور وفاق کی جانب سے لیے گئے یکطرفہ فیصلوں کا ردعمل تھے، اور اٹھارویں ترمیم دراصل ان دہائیوں پرانی شکایات کا ایک دستوری علاج تھا جس نے تعلیم، صحت اور ثقافت جیسے شعبوں کو صوبوں کو منتقل کر کے ایک زیادہ شمولیتی نظام کی بنیاد رکھی تھی۔ تاہم، وفاقیت کا تضاد یہاں سر اٹھاتا ہے کہ جب صوبوں کو یہ خودمختاری مل جاتی ہے، تو وہ محض انتظامی دفاتر نہیں رہتے بلکہ ایک طاقتور سیاسی اکائی کے طور پر ابھرتے ہیں جن کی اپنی ترجیحات، اپنی قیادت اور اپنی مالیاتی پالیسیاں ہوتی ہیں، جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ علاقائی شعور کو اس قدر گہرا کر دیتی ہیں کہ بسا اوقات قومی یکجہتی کا بیانیہ ان کے سامنے دھندلا پڑنے لگتا ہے۔
یہ عمل لازمی طور پر علیحدگی پسندی کی طرف تو نہیں لے جاتا، لیکن یہ مرکز کے لیے چیلنجز ضرور پیدا کرتا ہے، خاص طور پر مالیاتی وفاقیت کے معاملے میں جہاں صوبے اپنے وسائل پر مکمل اختیار کا مطالبہ کرتے ہیں اور مرکز کو قومی دفاع یا قرضوں کی ادائیگی کے لیے وسائل کی کمی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں سے حالیہ بحث جنم لے رہی ہے کہ کیا اٹھارویں ترمیم نے وفاق کو مالی طور پر کمزور کر دیا ہے؟ لیکن اس کا دوسرا رخ یہ ہے کہ اگر یہ اختیارات واپس لیے گئے تو کیا ہم دوبارہ اسی احساسِ محرومی کے دور میں نہیں چلے جائیں گے جس نے ماضی میں ملک کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا؟
بلوچستان کی مثال ہمارے سامنے ہے جہاں وسائل کی تقسیم اور سیاسی شراکت داری کے سوال نے ہمیشہ ایک تیکھی صورتحال اختیار کیے رکھی، جبکہ سندھ میں شہری و دیہی تقسیم اور وسائل پر صوبائی حق کے مطالبات نے سیاست کو ایک مخصوص رنگ دے دیا ہے۔ اسی طرح خیبر پختونخوا میں حکمرانی اور سیکیورٹی کے مسائل نے وفاقی نظام کے اندر رہتے ہوئے نئے عمرانی معاہدے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
وفاقیت کا تضاد صرف انتظامی نہیں بلکہ نفسیاتی بھی ہے، کیونکہ جب ایک عام شہری اپنی شناخت کو صرف اپنی زبان یا صوبے تک محدود کر لیتا ہے، تو وفاق کے لیے ایک مشترکہ قومی بیانیہ بنانا مشکل ہو جاتا ہے، اور سیاسی جماعتیں بھی عوامی حمایت حاصل کرنے کے لیے اکثر علاقائی کارڈ کا استعمال کرتی ہیں جو وفاقی جمہوریت میں تو جائز ہے مگر قومی اتفاقِ رائے کی راہ میں رکاوٹ بن جاتا ہے۔ اس کا حل یہ نہیں ہے کہ اختیارات کو دوبارہ مرکز میں سمیٹ لیا جائے، کیونکہ ضرورت سے زیادہ مرکزیت ہی وہ بیج ہے جس سے علیحدگی پسند تحریکیں جنم لیتی ہیں، بلکہ حل اس میں ہے کہ وفاقی اداروں کو اتنا مضبوط اور شفاف بنایا جائے کہ وہ صوبوں کے درمیان ایک غیر جانبدار منصف کا کردار ادا کر سکیں۔
پاکستان کے لیے اصل چیلنج وفاقی نظام کو ختم کرنا نہیں بلکہ اسے مؤثر طریقے سے چلانا ہے، جس کے لیے بین الحکومتی رابطہ کار اداروں جیسے کہ مشترکہ مفادات کونسل کو فعال کرنا ہوگا تاکہ کوئی بھی صوبہ خود کو دیوار سے لگا ہوا محسوس نہ کرے اور معاشی تعاون کے ایسے منصوبے شروع کیے جائیں جہاں صوبے ایک دوسرے کے حریف بننے کے بجائے معاشی طور پر ایک دوسرے کے دست و بازو بنیں۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ وفاقیت کوئی جامد یا پتھر پر لکھی ہوئی تحریر نہیں بلکہ ایک مسلسل ارتقائی عمل ہے جس میں وقت اور حالات کے مطابق مکالمے اور سمجھوتے کی گنجائش ہونی چاہیے، لیکن یہ مکالمہ یکطرفہ نہیں بلکہ تمام اکائیوں کی مرضی اور منشا سے ہونا چاہیے۔
مالیاتی وفاقیت کے توازن کو برقرار رکھنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ وسائل کی منصفانہ منتقلی کے ساتھ ساتھ صوبوں کی اپنی کارکردگی اور آمدنی پیدا کرنے کی صلاحیت کو بھی جانچا جائے، لیکن اس کا مقصد انہیں سزا دینا نہیں بلکہ ان کی حوصلہ افزائی ہونا چاہیے تاکہ وہ خود کفیل ہو سکیں۔ پاکستان کے وفاقی مستقبل کا انحصار اب اس بات پر ہے کہ ہم کس طرح ترقیاتی تفاوت کو کم کرتے ہیں اور پسماندہ علاقوں میں سرمایہ کاری کر کے قومی یکجہتی کے اس تصور کو زندہ کرتے ہیں جس میں وفاقی حکومت ایک ظالم بڑے بھائی کے بجائے ایک شفیق سرپرست کے طور پر نظر آئے۔ اگر آج اٹھارویں ترمیم کے خلاف کوئی مہم شروع کی جاتی ہے تو اس کا ردعمل صرف سیاسی نہیں بلکہ عوامی سطح پر بھی شدید ہو سکتا ہے کیونکہ صوبے اب اپنے اختیارات کو ایک حاصل شدہ حق کے طور پر دیکھتے ہیں جسے چھیننا وفاق کی بنیادوں کو ہلانے کے مترادف ہوگا۔
اقتصادی انضمام اس پورے عمل میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، کیونکہ جب پنجاب کی صنعت، سندھ کی بندرگاہ، بلوچستان کی معدنیات اور خیبر پختونخوا کی ہائیڈل پاور ایک دوسرے سے جڑ جائیں گی، تو علیحدگی پسندی کی منطق خود بخود کمزور پڑ جائے گی۔ وفاقیت کا تضاد ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ جہاں خود مختاری ترقی کے مواقع لاتی ہے، وہیں یہ ذمہ داری کا بوجھ بھی ڈالتی ہے، اور پاکستانی وفاق کی مضبوطی اس بات میں ہے کہ ہم تنوع کو ایک بوجھ کے بجائے ایک اثاثہ تسلیم کریں اور مرکزیت کے قدیم خبط سے باہر نکل کر ایک جدید، جمہوری اور شمولیتی وفاق کی تشکیل کریں۔ تعلیم اور میڈیا کو اس سلسلے میں کلیدی کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ نئی نسل اپنی علاقائی شناخت پر فخر کرنے کے ساتھ ساتھ ایک ایسی قومی شناخت سے بھی جڑی رہے جو انصاف، برابری اور وفاقی حقوق کے تحفظ پر مبنی ہو۔
آخر میں یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ اٹھارویں ترمیم کو ختم کرنے کی باتیں کرنا دراصل گھڑی کی سوئیوں کو پیچھے موڑنے کی کوشش ہے، جبکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم وفاقیت کے اس تضاد کو مکالمے اور ادارہ جاتی اصلاحات کے ذریعے حل کریں تاکہ پاکستان ایک ایسا گلدستہ بن سکے جہاں ہر پھول کی اپنی خوشبو ہو لیکن وہ سب ایک ہی گلدان یعنی وفاقِ پاکستان کا حصہ ہوں۔ طاقت کا مرکز میں ارتکاز ہمیشہ کمزوری کا باعث بنتا ہے، جبکہ اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی ریاست کو عوامی سطح پر جائز اور معتبر بناتی ہے۔ لہٰذا، آج کے مخدوش حالات میں آئین کی وفاقی روح سے چھیڑ چھاڑ کرنے کے بجائے ہمیں ان کمزوریوں کو دور کرنا چاہیے جو گورننس کے نظام میں حائل ہیں، تاکہ وفاقیت تقسیم کا ذریعہ بننے کے بجائے اتحاد کا استعارہ بن کر ابھرے اور پاکستان کا ہر خطہ خود کو اس ملک کا برابر کا حصہ دار محسوس کرے۔
یہ سفر کٹھن ضرور ہے مگر پائیدار ترقی اور قومی سلامتی کا واحد راستہ یہی ہے کہ ہم وفاقیت کے اس مشکل توازن کو برقرار رکھیں اور کسی بھی ایسی مہم جوئی سے پرہیز کریں جو ملک کے سیاسی استحکام کو داؤ پر لگا دے۔ پاکستان کی بقا ایک مضبوط وفاق میں ہے اور وفاق کی مضبوطی اس کی اکائیوں کی خوشحالی اور خود مختاری میں پنہاں ہے، جسے زائل کرنا کسی بھی طور ملک کے مفاد میں نہیں ہو سکتا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
No comments yet.