ہفتہ ،21 مارچ 2026 لائیو دیکھیں
Effy Jewelry

پاکستان پیپلز پارٹی کا فکری بحران — ایک جائزہ

تحریر جنید قیصر

Editor

6 دن قبل

Voting Line

 

پاکستان پیپلز پارٹی کا جنم لاہور کی اُس فکری اور سیاسی فضا میں ہوا تھا، جہاں سیاست صرف اقتدار کا کھیل نہیں بلکہ جہاں نظام اور سماج میں تبدیلی کیلئے نظریات، بحث و مباحثہ اور سیاسی نشستوں کو اہم ترین تصور کیا جاتا تھا۔ پاکستان کو ایک نئی سیاسی جہت دینے والی اس پارٹی کی بنیاد رکھنے میں اُس دور کے دانشوروں، ادیبوں اور لکھاریوں نے اہم کردار ادا کیا تھا۔

 شہید ذوالفقار علی بھٹو اور شہید بینظیر بھٹو محض سیاسی رہنما نہیں تھے بلکہ فکری سطح پر بھی عالمی نمایاں شخصیات تھے۔ ان کی تحریریں اور شہرہ آفاق کتابیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ پیپلز پارٹی کے ابتدائی سفر میں اُس وقت کے جدید نظریات اور فکر بنیادی ستون کی حیثیت رکھتے تھے۔ نظریات بھی زمانے کی طرح مستقل نہیں ہوتے، ان کو بھی وقت اور حالات کے مطابق بدلنا ہوتا، ورنہ وہ جمہوری نہیں رہتے بلکہ رجعت پسندی کا روپ دھار لیتے ہیں۔

چونکہ جدید تقاضوں کے مطابق نظریات کی آبیاری نہیں ہوئی، اس لئے وقت کے ساتھ ساتھ یہ پارٹی خصوصاً پنجاب میں مسلسل تنزلی کا شکار ہوتی چلی گئی۔ شہید بینظیر بھٹو کی شہادت کے بعد 2008 سے جو زوال شروع ہوا، وہ اب تک پوری طرح جاری و ساری ہے۔ اس کے کئی سیاسی اور تنظیمی اسباب ہوسکتے ہیں، مگر ایک اہم وجہ وہ فکری بحران ہے جس نے پارٹی کے اندر جڑیں پکڑ لی ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ گزشتہ برسوں میں اس پہلو پر سنجیدگی سے کام نہیں کیا گیا۔

سیاسی جماعتیں صرف انتخابی مہمات، الیکٹیبلز اور اتحادوں کے ذریعے نہیں چلتیں بلکہ انہیں ایک فکری بنیاد بھی درکار ہوتی ہے۔ پیپلز پارٹی کے اندر ایسے تھنک ٹینک یا فورمز قائم نہیں کیے گئے جہاں نئی سوچ، بحث و مباحثہ اور پالیسی سازی کے ذریعے پارٹی کے مستقبل کی سمت متعین کی جا سکے۔ اس کے برعکس، پارٹی کو اکثر روزمرہ کے سیاسی معاملات تک محدود رکھا گیا۔ انتخابی سیاست میں جوڑ توڑ، الیکٹیبلز کی تلاش اور وقتی حکمت عملیوں نے اس خلا کو مزید گہرا کر دیا ہے۔

اس عمل کا نتیجہ یہ نکلا کہ پارٹی اپنے ہی کارکنوں اور نئے سیاسی کارکنوں کے لیے کوئی ایسا واضح فکری یا سیاسی ماڈل پیش نہ کر سکی جس میں کشش ہو۔ اگر کسی جماعت کے اپنے نظریاتی کارکن مضبوط اور نمایاں نہ ہوں تو وہ عوام کے لیے تحریک بننے کے بجائے محض ایک انتخابی ڈھانچہ بن کر رہ جاتی ہے۔

وسطی پنجاب میں پیپلز پارٹی کی موجودہ قیادت پر نظر ڈالی جائے تو ایک اور مسئلہ نمایاں ہوتا ہے۔ وسطی پنجاب میں آج بھی وہی مرکزی رہنما نمایاں ہیں جنہیں شہید بینظیر بھٹو نے دہائیوں پہلے متعارف کروایا تھا۔ اسی طرح پارٹی کے فکری حلقوں میں بھی زیادہ تر وہی آوازیں سنائی دیتی ہیں جو شہید ذوالفقار علی بھٹو کے زمانے سے وابستہ ہیں۔ ان میں سے کئی آج بھی عالمی سیاست کو سرد جنگ کے تناظر میں دیکھتے ہیں، وہ اسی نظریاتی سرد جنگ کے زمانے میں ذندہ ہیں۔ اس صورتحال کے باعث پارٹی بعض اوقات ماضی میں جمی ہوئی ایک جماعت محسوس ہوتی ہے، جو بدلتے ہوئے سیاسی اور سماجی تقاضوں کے ساتھ پوری طرح ہم آہنگ نہیں ہو پائی۔

سیاسی جماعتوں کا بنیادی کردار صرف مقبول بیانیوں کو دہرانا نہیں بلکہ عوام کی فکری رہنمائی اور سیاسی تربیت کرنا بھی ہوتا ہے۔ جو جماعتیں اس ذمہ داری سے غافل ہوجاتی ہیں وہ رفتہ رفتہ تاریخ کا حصہ بننے لگتی ہیں۔ پیپلز پارٹی جیسی بڑی اور فکری جماعت کے لیے یہ لمحۂ فکریہ ہے۔

اگر پیپلز پارٹی واقعی خود کو موجودہ دور میں مؤثر اور relevant بنانا چاہتی ہے تو اسے اپنے اندر اس فکری بحران کا سنجیدگی سے جائزہ لینا ہوگا۔ پارٹی کے اندر ایسے ادارہ جاتی فورمز اور تھنک ٹینکس قائم کرنے کی ضرورت ہے جہاں نوجوان ذہنوں، دانشوروں اور پالیسی ماہرین کو شامل کر کے نئی بحث اور نئی سوچ کو جگہ دی جائے۔ اسی عمل کے ذریعے ایک ایسی سیاسی سمت متعین کی جا سکتی ہے جو نہ صرف پارٹی کو دوبارہ متحرک کرے بلکہ اسے مستقبل کی سیاست میں بھی باوقار مقام دلائے۔

Comments

No comments yet.

سب سے زیادہ پڑھا
Effy Jewelry
Effy Jewelry