پختونخوا کا سیاسی سفر: ایک مسیحا کی تلاش میں گم ہوتی ہوئی ایک پوری نسل
تحریر: قریش خٹک
دھوکے اور کھوتے کا پتہ عوام کو تب چلتا ہے جب وہ کھا چکے ہوتے ہیں۔ یہ تلخ کہاوت خیبر پختونخوا کی حالیہ سیاسی تاریخ، خصوصاً تحریک انصاف کے ۱۳ سالہ دورِ اقتدار پر اس طرح صادق آتی ہے کہ آج اس کی کڑواہٹ صوبے کے ہر گھرانے میں محسوس کی جا رہی ہے۔ 2013 میں جب "تبدیلی" کا نعرہ بلند کیا گیا تو صوبے کے جذباتی اور امید سے بھرپور عوام کو یہ یقین دلایا گیا کہ اب پختونخوا ترقی، شفافیت اور خوشحالی کی ایسی مثال بنے گا جو سوئٹزرلینڈ کو بھی پیچھے چھوڑ دے گا۔ مگر ایک دہائی سے زیادہ عرصہ گزرنے کے بعد جب گرد بیٹھی اور زمینی حقائق سامنے آئے تو معلوم ہوا کہ تبدیلی کے نام پر محض ایک عالمی سطح کی اشتہاری مہم چلائی گئی تھی، جبکہ حقیقت میں صوبے کی معیشت، ادارے اور سماجی ڈھانچہ پہلے سے بھی زیادہ کمزور ہو چکے ہیں۔ اس سیاسی فریب کی سب سے ہولناک شکل وہ معاشی دیوالیہ پن ہے جس میں آج خیبر پختونخوا جکڑا ہوا ہے۔ جو صوبہ کبھی اپنے محدود وسائل میں سر اٹھا کر جیتا تھا، اسے پی ٹی آئی کے دور میں عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک کے اربوں ڈالرز کے قرضوں تلے دبا دیا گیا۔ آج صورت حال یہ ہے کہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور ریٹائرڈ بزرگوں کی پینشن کے لیے بھی وفاق کے سامنے کشکول پھیلانا پڑتا ہے۔ یہ وہ "کھوتا" ہے جسے عوام اب ہضم کرنے پر مجبور ہیں، کیونکہ ان قرضوں کی واپسی کے لیے آنے والی کئی نسلوں کو اپنی ترقی کی قربانی دے کر قیمت چکانی پڑے گی۔
پشاور کی بی آر ٹی اس سیاسی شو بازی اور بدانتظامی کی سب سے نمایاں یادگار بن چکی ہے۔ اسے ابتدا میں ایک سستا اور تیز ترین منصوبہ قرار دیا گیا، مگر بار بار ڈیزائن کی تبدیلیوں اور کرپشن کے الزامات نے اسے پاکستان کا مہنگا ترین ٹرانسپورٹ منصوبہ بنا دیا۔ پشاور کے شہری آج بھی روزانہ اس منصوبے کے اثرات دیکھتے ہیں جہاں شہر کا بنیادی ڈھانچہ بکھر چکا ہے اور سرکاری خزانے پر سبسڈی کا ایک مستقل بوجھ لاد دیا گیا ہے۔ اسی طرح "بلین ٹری سونامی" کے دعوے بھی بڑے پیمانے پر بین الاقوامی تشہیر کا حصہ بنے، مگر آڈٹ رپورٹس میں انکشاف ہوا کہ جتنا پیسہ درختوں پر خرچ کیا گٰیا دکھایا گیا، زمین پر اتنی شجرکاری موجود ہی نہیں۔ عوام کے ذہن میں یہ سوال آج بھی موجود ہے کہ ان منصوبوں پر خرچ ہونے والی اربوں روپے کی رقم کا حقیقی فائدہ کسے پہنچا اور کیا یہ سب محض ایک سیاسی برانڈ کو چمکانے کا طریقہ تھا۔
امن و امان کے حوالے سے "مثالی پولیس" کے دعوے بھی وقت کے ساتھ ریت کی دیوار ثابت ہوئے۔ پولیس کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے بجائے صرف بیانیے اور فوٹو شوٹس پر زور دیا گیا، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ دہشت گردی نے ایک بار پھر صوبے میں پنجے گاڑ لیے۔ پشاور پولیس لائنز جیسے سانحات نے ثابت کیا کہ انتظامی اصلاحات محض نعروں تک محدود تھیں اور جب حقیقی بحران سامنے آیا تو ادارے مفلوج نظر آئے۔ تعلیم کے شعبے میں "ایمرجنسی" کا ڈرامہ رچا کر سرکاری سکولوں کا بیڑہ غرق کر دیا گیا۔ آج بھی صوبے کے ہزاروں سکول بجلی، پانی اور واش رومز جیسی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں ۔ صوبے کی تمام بڑی یونیورسٹیاں مالی طور پر دیوالیہ ہو چکی ہیں اور اساتذہ اپنی تنخواہوں کے لیے سڑکوں پر احتجاج کرنے پر مجبور ہیں۔
صحت کے شعبے میں اصلاحات کے نام پر جو تجربات کیے گئے، ان کا سب سے تباہ کن اثر پشاور کے تاریخی لیڈی ریڈنگ ہسپتال (LRH) پر نظر آیا۔ ایم ٹی آئی ایکٹ کے ذریعے ہسپتالوں کو نام نہاد خود مختاری دے کر ڈاکٹر نوشیروان برکی کی سربراہی میں ایک ایسا نظام لایا گیا جس نے ہسپتال کے پرانے اور مستحکم ڈھانچے کو جڑوں سے اکھاڑ پھینکا۔ بیرون ملک سے آنے والے من پسند کنسلٹنٹس کو 20، 20 لاکھ روپے ماہانہ تنخواہیں دی گئیں، جبکہ مقامی تجربہ کار ڈاکٹروں کو دیوار سے لگا کر انہیں مستعفی ہونے پر مجبور کیا گیا۔ اس "برین ڈرین" نے صوبے کے صحت کے نظام کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا۔ آڈیٹر جنرل کی رپورٹس کے مطابق، ایل آر ایچ میں طبی مشینری کی خریداری میں سنگین بے ضابطگیاں ہوئیں اور اربوں روپے ایسے منصوبوں پر لٹائے گئے جن کا مریضوں کو کوئی فائدہ نہ ہوا۔ اسی طرح خیبر ٹیچنگ ہسپتال (KTH) میں آکسیجن کی کمی سے ہونے والی اموات اور حیات آباد میڈیکل کمپلیکس (HMC) میں تعمیراتی کاموں میں خورد برد نے ثابت کیا کہ اصلاحات کا مقصد عوامی خدمت نہیں بلکہ اقربا پروری اور سیاسی مفادات کا تحفظ تھا۔
صحت کارڈ کی پالیسی نے تو رہی سہی کسر بھی نکال دی، جہاں سرکاری ہسپتالوں کے فنڈز کا بڑا حصہ نجی ہسپتالوں کی جیبوں میں منتقل کر دیا گیا۔ اس پالیسی کے نتیجے میں سرکاری ہسپتالوں میں دوائیاں اور سہولیات نایاب ہو گئیں کیونکہ تمام تر توجہ نجی شعبے کو نوازنے پر تھی۔ نوجوان نسل، جو اس تحریک کا ہراول دستہ تھی، اسے "ڈیجیٹل زہر" پلا کر ان کے سیاسی شعور کو مفلوج کیا گیا۔ انہیں سوشل میڈیا پر گالی گلوچ اور ٹرولنگ پر لگا دیا گیا، مگر جب عملی زندگی میں روزگار کا وقت آیا تو صوبے میں کوئی نیا کارخانہ لگا نہ سرمایہ کاری آئی۔ آج پختونخوا کا نوجوان ڈگری ہاتھ میں لیے بے روزگاری کے سمندر میں غوطے کھا رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ سیاست میں معجزے نہیں ہوتے اور نہ ہی 90 دن میں نظام بدلتا ہے۔ پختونخوا کے عوام نے تین بار مینڈیٹ دے کر اپنی امیدوں کا اظہار کیا، مگر بدلے میں انہیں صرف قرض، بدامنی اور کھوکھلے نعرے ملے۔ اب جبکہ "تبدیلی" کا کڑوامزہ عوام مکمل طور پر چک چکے ہیں، تو ان کے لیے سب سے بڑا سبق یہی ہے کہ آئندہ کسی بھی مسیحا کے پیچھے آنکھیں بند کر کے نہ چلا جائے۔ اگر ایک بار دھوکہ کھانا نادانی ہے، تو بار بار اسی غلطی کو دہرانا اجتماعی خودکشی کے مترادف ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
No comments yet.