ہفتہ ،21 مارچ 2026 لائیو دیکھیں
Effy Jewelry

میں نے ڈھاکہ ابھرتے دیکھا

تحریر: آفتاب احمد گورائیہ

Editor

1 ہفتے قبل

Voting Line

 

 
 

 
سیاست کے علاوہ کسی اور موضوع پر لکھنے کا موقع مجھے کم ہی ملا ہے۔ پاکستان کے سیاسی حالات ہمیشہ اس قدر تیز رفتاری سے بدلتے رہے ہیں کہ توجہ زیادہ تر اسی جانب مرکوز رہی۔ تاہم اس بار بنگلہ دیش کے ایک ہفتے پر محیط دورے نے مجھے مجبور کیا کہ سیاست سے ہٹ کر کچھ اور بھی لکھا جائے۔ یہ سفر اگرچہ دفتری امور کے سلسلے میں تھا، مگر اس دوران بنگلہ دیش میں گھومنے پھرنے اور لوگوں کو قریب سے دیکھنے کا بھی خوب موقع ملا۔ یہ بنگلہ دیش کا میرا دوسرا دورہ تھا۔ اس سے پہلے میں 2009 میں بنگلہ دیش آیا تھا، اس لیے اس تحریر کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ ان سولہ برسوں میں بنگلہ دیش میں آنے والی تبدیلیوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھے گئے تجربات کی روشنی میں بیان کیا جا سکے۔
ڈھاکہ شہر کا انفراسٹرکچر اب پہلے سے کہیں بہتر نظر آتا ہے۔ ایکسپریس ویز اور فلائی اوورز بن چکے ہیں اور شہر میں بلند عمارات ہر طرف دکھائی دیتی ہیں۔ پرانی بسیں اور سائیکل رکشے اب بھی موجود ہیں، البتہ بہت سے سائیکل رکشے اب بیٹری پر منتقل ہو چکے ہیں جنہیں مقامی لوگ مزاحاً “ٹیسلا” کہہ کر پکارتے ہیں۔ اس کے علاوہ آٹو رکشے بھی تیزی سے سائیکل رکشوں کی جگہ لیتے جا رہے ہیں۔ ہم لاہور میں اورنج ٹرین بنا کر اس کا مقابلہ یورپ سے کرنے لگے ہیں، ڈھاکہ آ کر معلوم ہوا کہ ایک یورپ یہ بھی ہے کیونکہ ڈھاکہ میں بھی میٹرو ٹرین بن چکی ہے۔
ایک خوشگوار فرق یہ محسوس ہوا کہ میرے پہلے دورہ بنگلہ دیش کے وقت، جب شیخ حسینہ واجد کے دورِ حکومت کا آغاز تھا، لوگ پاکستان کا نام لینے سے بھی ہچکچاتے تھے۔ لیکن اب صورتحال مختلف ہے۔ جس کسی کو بھی معلوم ہوا کہ میرا تعلق پاکستان سے ہے، اس نے نہایت گرمجوشی سے ملاقات کی اور بڑی خوش دلی سے بات چیت کی۔ میں نے واضح طور پر محسوس کیا کہ آدھی صدی لگ گئی لیکن خون کے دھبے دھلنا شروع ہو گئے ہیں۔ پتہ نہیں یہ میرا وہم ہی ہے یا واقعی ایسا ہو چکا ہے۔۔۔
سیاسی علامتوں میں بھی نمایاں تبدیلی نظر آئی۔ سولہ سال پہلے ہر طرف شیخ مجیب الرحمن اور شیخ حسینہ واجد کی تصاویر دکھائی دیتی تھیں جبکہ بیگم خالدہ ضیا اور ضیا الرحمن کی تصاویر غائب تھیں۔ اب منظر الٹ چکا ہے۔ اب جگہ جگہ طارق رحمان، بیگم خالدہ ضیا اور ضیا الرحمن کی تصاویر نظر آتی ہیں جبکہ شیخ مجیب الرحمن اور شیخ حسینہ واجد کی تصاویر منظر سے مکمل طور پر غائب ہیں۔
اس دورے کے دوران مجھے بنگلہ دیش کے آٹھ میں سے تین ڈویژنز، ڈھاکہ، سلہٹ اور چٹاگانگ جانے کا موقع ملا۔ چٹاگانگ کا نام اب سرکاری طور پر “چٹوگرام” رکھ دیا گیا ہے جو دراصل چٹاگانگ کا ہی بنگالی نام ہے۔ یاد رہے بنگلہ دیش میں صوبے نہیں ہیں بلکہ ڈویژنز ہیں۔
سلہٹ ڈویژن کے سفر کے دوران مجھے ضلع سلہٹ، ضلع مولوی بازار اور سب ضلع (تحصیل) سری مینگل جانے کا موقع ملا۔ سلہٹ دنیا بھر میں چائے کی کاشت کے حوالے سے مشہور ہے۔ سری مینگل کے دورے کے دوران مجھے ایک آئی سینٹر کے وزٹ کے لئے Finlay اسٹیٹ جانے اور چائے کے مشہور برانڈ Finlay کے وسیع و عریض چائے کے باغات دیکھنے کا موقع بھی ملا۔ چائے کے خوبصورت باغات کے اندر کام کرنے والی خواتین کی اُجرت کا سُن کر اور ان کی غربت دیکھ کر میری نظر میں چائے کے باغات کی خوبصورتی کسی حد تک ماند ضرور پڑ گئی۔
سلہٹ شہر میں حضرت شاہ جلالؒ کے مزار پر حاضری بھی اس سفر کا اہم حصہ رہی۔ ڈھاکہ کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کا نام بھی حضرت شاہ جلال کے نام پر رکھا گیا ہے۔ اس سے پہلے اس کا نام ضیا الرحمن انٹرنیشنل ایئرپورٹ تھا، جسے شیخ حسینہ واجد کے دور حکومت میں تبدیل کر دیا گیا تھا۔
کہا جاتا ہے کہ بنگلہ دیش میں اسلام کے پھیلاؤ میں حضرت شاہ جلالؒ کی تبلیغ کا بڑا کردار ہے۔ وہ تقریباً چھ سو سال پہلے ترکی سے یہاں آئے اور سلہٹ میں قیام پذیر ہوئے۔ شاید اسی نسبت سے سلہٹ کے لوگوں میں مذہبی رجحان بھی زیادہ محسوس ہوتا ہے۔ حالیہ انتخابات میں یہاں بی این پی اور جماعت اسلامی کے درمیان سخت مقابلہ دیکھنے کو ملا۔ اگرچہ جماعت اسلامی سلہٹ سے کوئی نشست جیت نہ سکی اور بی این پی نے یہاں سے کلین سوئپ کر لیا، تاہم جماعت اسلامی نے قابلِ ذکر ووٹ حاصل کیے۔
چٹاگانگ کے ضلع کاکس بازار کا دورہ بھی یادگار رہا۔ کاکس بازار کا ساحل دنیا کے طویل ترین ساحلوں میں شمار ہوتا ہے۔ رات کے وقت یہاں کا منظر خاص طور پر نہایت دلکش ہوتا ہے جب فیملیز ساحل پر چٹائیاں بچھا کر پکنک کا سا ماحول بنا لیتے ہیں۔ غروبِ آفتاب کے وقت ساحل سمندر کا منظر واقعی دل موہ لینے والا ہوتا ہے۔
ڈھاکہ شہر میں پچھلے پندرہ سولہ سالوں میں واضح بہتری آئی ہے۔ انفراسٹرکچر مضبوط ہوا ہے، ایکسپریس ویز اور فلائی اوورز کی وجہ سے ٹریفک کی صورتحال کسی حد تک بہتر ہوئی ہے اور ہائی رائز عمارات بھی زیادہ نظر آتی ہیں۔ تاہم ڈھاکہ سے باہر نکلنے پر صورتحال میں اتنی نمایاں تبدیلی محسوس نہیں ہوتی۔
ڈھاکہ میں قیام کے دوران پارلیمنٹ ہاؤس بھی دیکھنے کا موقع ملا، اگرچہ صرف باہر سے۔ دھان منڈی میں شیخ مجیب الرحمن کا جلا ہوا گھر دیکھنا ایک تکلیف دہ تجربہ تھا۔ اپنے پہلے دورے کے دوران میں نے یہ گھر اندر سے دیکھا تھا کیونکہ اس گھر کو میوزیم میں تبدیل کر دیا گیا تھا جہاں متحدہ پاکستان کے دور کے سیاستدانوں کی شیخ مجیب الرحمن سے ملاقاتوں کی تصاویر اور دیگر تاریخی یادگاریں محفوظ تھیں۔ 1975 میں شیخ مجیب الرحمن اور ان کی فیملی کے قتل کی رات کا کرائم سین بھی اسی حالت میں محفوظ رکھا گیا تھا، مگر اگست 2024 کے فسادات کے دوران اس گھر کو جلا دیا گیا اور ایک اہم تاریخی ورثہ راکھ میں تبدیل ہو گیا۔
 
حالیہ انتخابات میں عوامی لیگ کے بہت سے ووٹرز نے جماعت اسلامی کی مخالفت میں بی این پی کو ووٹ دیا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ اب بنگلہ دیش میں عوامی لیگ کے دفاتر دوبارہ کھلنے لگے ہیں اور عوامی لیگ کے بہت سے رہنما جو بھارت یا دیگر ممالک میں چلے گئے تھے، واپسی کا سوچ رہے ہیں۔ ایک مفروضہ یہ بھی سننے میں آیا کہ ایک ڈیڑھ سال کے اندر شیخ حسینہ واجد بھی واپس آ سکتی ہیں اور ممکن ہے کہ وہ اپنی سزا ہاؤس اریسٹ میں پوری کریں۔ بہرحال سیاسی جماعتوں کو ایک دوسرے کے لیے سیاسی گنجائش ضرور پیدا کرنی چاہیے تاکہ اگست 2024 جیسے واقعات کی نوبت نہ آئے۔
بنگلہ دیش کے پورے قیام کے دوران میں ایک عجیب سی کیفیت میں مبتلا رہا۔ کبھی ڈھاکہ کی سڑکوں پر چلتے ہوئے، کبھی سلہٹ کے چائے کے باغات میں کھڑے ہو کر، اور کبھی کاکس بازار کے ساحل پر سمندر کو دیکھتے ہوئے، میں ماضی کے کسی دھندلے رشتے کو تلاش کرتا رہا، متحدہ پاکستان کی یادوں کے کچھ نقوش ڈھونڈنے کی کوشش کرتا رہا مگر جو چیز مجھے سب سے زیادہ نمایاں نظر آئی وہ غربت تھی، وہ غربت جو متحدہ پاکستان کے زمانے میں بھی تھی اور آج بھی ہے۔ وقت بدل گیا، سرحدیں بدل گئیں لیکن عام انسان کی جدوجہد آج بھی ویسی ہی ہے۔ یہی احساس دل میں ایک عجیب سی اداسی چھوڑ جاتا ہے کہ ہم الگ ہو گئے، راستے جدا ہو گئے، مگر ہمارے لوگوں کی محرومیاں اور خواب آج بھی ایک دوسرے سے بہت مختلف نہیں ہیں۔
Comments

No comments yet.

سب سے زیادہ پڑھا
Effy Jewelry
Effy Jewelry