ہفتہ ،21 مارچ 2026 لائیو دیکھیں
Effy Jewelry

پشتون معاشرے کا المیہ: دشمنِ کمال نفسیات، اسلحہ کلچر اور مسلسل ہجرت

تحریر: قریش خٹک

Editor

1 ہفتے قبل

Voting Line

 

پشتون معاشرہ اپنی طویل اور ہمہ گیر تاریخ میں بہادری، بے مثال مہمان نوازی اور غیرت و حمیت کے حوالے سے ایک منفرد شناخت رکھتا ہے۔ اس زرخیز سرزمین نے بڑے بڑے جید شعراء، بلند پایہ مفکرین، نڈر سپاہی اور بصیرت افروز رہنما پیدا کیے ہیں جنہوں نے تاریخ کے دھارے موڑ دیے۔ مگر آج کے اس جدید اور مسابقتی دور میں ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنی مجموعی سماجی حالت اور اجتماعی نفسیات کا بے لاگ اور سنجیدگی سے جائزہ لیں۔ پشتون معاشرے کا ایک ایسا افسوسناک اور تاریک پہلو نمایاں ہو رہا ہے جسے نظر انداز کرنا ناممکن ہے کہ یہاں کی اجتماعی نفسیات بڑی حد تک "کامیابی دشمن" بن چکی ہے۔ تلخ حقیقت یہ ہے کہ جب بھی کسی پشتون نوجوان یا فرد کو اپنی خداداد صلاحیت، شبانہ روز محنت اور اعلیٰ تعلیم کے ذریعے زندگی میں آگے بڑھنے کا موقع ملتا ہے، تو اسے سراہنے اور اس کی حوصلہ افزائی کرنے کے بجائے اکثر اس کے اپنے ہی معاشرے میں اس کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کر دی جاتی ہیں۔ گویا کامیابی یہاں خوشی کی خبر نہیں بلکہ بعض مخصوص گروہوں اور افراد کے لیے خطرے کی گھنٹی بن جاتی ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کسی ایک شخص کی انفرادی ترقی کئی لوگوں کی جھوٹی انا کو زخمی کر دیتی ہے۔ نتیجتاً، جس معاشرے میں تحسین اور تعاون کی فضا ہونی چاہیے تھی، وہاں حسد، بدگمانی اور سازشوں کا ایک ناختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔
کچھ عناصر اپنی زندگی میں بہتری لانے اور خود کو ثابت کرنے کے بجائے اپنی تمام تر توانائیاں اس بات پر صرف کر دیتے ہیں کہ کسی کامیاب شخص کو کیسے نیچا دکھایا جائے۔ افواہوں، تہمتوں اور سازشوں کا ایک ایسا جال بنا جاتا ہے جس کا واحد مقصد کسی بھی ابھرتے ہوئے ستارے کو گہنانا ہوتا ہے۔ یہ رویہ نہ صرف افراد کی ذاتی ترقی میں رکاوٹ بنتا ہے بلکہ پورے معاشرے کی اجتماعی ترقی کی راہ میں ایک پہاڑ بن کر کھڑا ہو جاتا ہے۔ جب ایک معاشرہ اپنے محنتی، دیانتدار اور قابل لوگوں کی حوصلہ شکنی کرنے لگے، تو وہاں نئی صلاحیتیں پنپنے کے بجائے دم توڑنے لگتی ہیں۔ نوجوان طبقہ یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ اگر محنت اور کامیابی کا صلہ صرف حسد، مخالفت اور دشمنی ہی ہے، تو پھر اس تگ و دو کا فائدہ کیا؟ یہ مایوسی معاشرے کو فکری بانجھ پن کی طرف دھکیل رہی ہے۔ اسی حسد اور تنگ نظری کا ایک نہایت خطرناک نتیجہ یہ نکلا ہے کہ کامیاب اور مثبت سوچ رکھنے والے لوگ اپنے آبائی علاقوں سے ہجرت کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔ جب ایک خلا پیدا ہوتا ہے، تو اسے منفی قوتیں پر کرتی ہیں۔ آج پشتون معاشرے کے کئی حصوں میں باگ ڈور ایسے لوگوں کے ہاتھوں میں چلی گئی ہے جو نہ علم رکھتے ہیں، نہ کوئی وژن اور نہ ہی کوئی ایسا کارنامہ جو قابلِ فخر ہو۔
بدقسمتی سے آج کئی علاقے ان ان پڑھ اور "ٹریگر ہیپی" تشدد پسند افراد کے ہاتھوں یرغمال نظر آتے ہیں، جو تعمیری میدان میں تو کوئی مقام حاصل نہ کر سکے مگر بندوق کے زور پر جھوٹی طاقت، دولت اور اثر و رسوخ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ ان میں صرف جاہل نوجوان ہی شامل نہیں بلکہ وہ "سفید پوش شیطانی عناصر" بھی پیش پیش ہیں جو بظاہر معزز بنے پھرتے ہیں مگر پسِ پردہ ہر کامیاب آدمی کو اپنی انا کے لیے خطرہ سمجھتے ہیں۔ یہ سفید پوش عناصر نوجوانوں کو جرائم کی دلدل میں دھکیلتے ہیں اور انہیں اپنے ذاتی مفادات کے لیے آلہ کار کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ یہ وہ درندے ہیں جو کسی بھی معصوم انسان کا خون بہانے سے دریغ نہیں کرتے، جرائم کی پشت پناہی کرتے ہیں اور مجرموں کو ہیرو بنا کر پیش کرتے ہیں۔ اس کا ہولناک نتیجہ یہ نکلا ہے کہ جن ہاتھوں میں قلم اور کتاب ہونی چاہیے تھی، وہاں اب کلاشنکوف نے جگہ لے لی ہے۔ جن ذہنوں کو سائنس، ٹیکنالوجی اور ادب کے ذریعے معاشرے کی تعمیر کرنی تھی، وہ اب خوف اور تشدد کے ذریعے اپنی موجودگی کا احساس دلانا چاہتے ہیں۔ اسلحہ ان کے لیے طاقت کی واحد علامت بن گیا ہے، کیونکہ وہ زندگی کے کسی بھی مثبت شعبے میں اپنی شناخت بنانے میں بری طرح ناکام رہے ہیں۔ یہ نالائق لوگ اپنی بے وقوفانہ انا کی تسکین کے لیے ان ہیروں کو قتل کر دیتے ہیں جو معاشرے کا اصل سرمایہ ہوتے ہیں۔ خیبر پختونخوا پولیس کے ریکارڈ میں ایسی درجنوں مثالیں موجود ہیں جہاں منشیات کے عادی یا جاہل افراد نے صرف حسد کی بنیاد پر  وکیلوں، ڈاکٹروں، انجینئروں اور پروفیشنلز کو نشانہ بنایا۔
اس گھٹن زدہ ماحول کا ایک اور تشویشناک پہلو سرمایے اور ٹیلنٹ کا فرار ہے۔ پشتون  پروفیشنلز  اور کاروباری لوگ اب مجبوراً اپنا سرمایہ اور خاندان اپنے علاقوں سے باہر منتقل کر رہے ہیں۔ آج اسلام آباد، پنجاب کے بڑے شہروں اور کراچی میں پشتونوں کی ایک بڑی تعداد آباد ہو چکی ہے۔ یہ ہجرت محض روزگار کی تلاش نہیں، بلکہ یہ "تحفظ" کی تلاش ہے۔ جب کسی معاشرے میں ایک ڈاکٹر، تاجر یا تعلیم یافتہ شخص خود کو غیر محفوظ محسوس کرے، تو وہ وہاں سے نکل جانے میں ہی عافیت سمجھتا ہے۔ نتیجتاً، وہ سرمایہ جو مقامی معیشت کو سہارا دے سکتا تھا، وہ اب دوسرے شہروں کی رونقیں بڑھا رہا ہے۔ 
یہ ایک خاموش المیہ ہے۔ ایک طرف ہم گلہ کرتے ہیں کہ ہمارے علاقے پسماندہ ہیں، اور دوسری طرف ہم خود ایسے حالات پیدا کر رہے ہیں کہ ہمارا اپنا ٹیلنٹ ہمیں چھوڑ کر جا رہا ہے۔ اگر بندوق برداروں کی بالادستی برقرار رہی، تو یہ ہجرت کبھی نہیں رکے گی اور ہمارے علاقے بتدریج  فکری طور پر بنجر ہوتے جائیں گے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی اجتماعی نفسیات کا جائزہ لیں۔ ہمیں سمجھنا ہوگا کہ کسی ایک شخص کی کامیابی دراصل پورے معاشرے کی کامیابی ہے۔ اگر ہم اپنے قابل اور محنتی لوگوں کی حوصلہ افزائی کریں اور بندوق کی ثقافت کے بجائے علم اور ہنر کو ترجیح دیں، تو یہی لوگ اپنے علاقوں میں سرمایہ کاری کریں گے اور ترقی کے نئے راستے کھولیں گے۔
اس دلدل سے نکلنے کے لیے پہلا قدم ریاست کی جانب سے قانون کی غیر متزلزل بالادستی کا قیام ہے۔ جب تک ریاست ان تشدد پسند عناصر اور جرائم کی پشت پناہی کرنے والے سفید پوشوں کے خلاف آہنی ہاتھ استعمال نہیں کرے گی، تب تک خوف کا یہ سایہ ختم نہیں ہوگا۔ ریاست کو یہ واضح پیغام دینا ہوگا کہ طاقت کا استعمال صرف ریاستی اداروں کا حق ہے۔ کسی فرد کو یہ اجازت نہیں دی جا سکتی کہ وہ اپنی جھوٹی انا یا حسد کی خاطر کسی کی زندگی اجیرن کر دے۔ جب مجرموں کو کٹہرے میں کھڑا کیا جائے گا، تبھی ایک عام شہری میں یہ اعتماد پیدا ہوگا کہ اس کی کامیابی اس کے لیے خطرہ نہیں بلکہ فخر کا باعث ہے۔ سماجی سطح پر ہمیں "کامیابی کی پذیرائی" کا کلچر متعارف کروانا ہوگا۔ ہمارے حجروں اور مساجد کے منبروں سے یہ پیغام عام ہونا چاہیے کہ حسد ایک روحانی کینسر ہے جو معاشرے کی بنیادیں کھا جاتا ہے۔ ہمیں اپنے "ہیروز" کے پیمانے بدلنے ہوں گے۔ اگر ہم بندوق اٹھانے والے کو غیرت مند قرار دیتے رہیں گے، تو نئی نسل کبھی قلم کی طرف راغب نہیں ہوگی۔ تعلیمی اداروں اور نصاب میں بھی ایسی اخلاقی تربیت شامل ہونی چاہیے جو طلبا کو دوسروں کے احترام اور تعمیری سوچ کا درس دے۔
 ہمارے دانشوروں اور قلم کاروں پر  بھی یہ بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ان  تشدد پسند سفید پوش  کے دوہرے معیار  اور انکے مجرمانہ نیٹ ورکس کوبے نقاب کریں۔ پشتون سرزمین کو بارود کی بو سے نجات دلا کر ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لئے ضروری  ہے کہ ریاست امن کے لیے طاقت دکھائے اور سماج اپنی سوچ کے زاویے تبدیل کرے۔

Comments

No comments yet.

سب سے زیادہ پڑھا
Effy Jewelry
Effy Jewelry