پاک بھارت اور بنگلا دیش
پاک بھارت اور بنگلا دیش
بنگلادیش میں انتخابات کے بعد طارق رحمن وزارت عظمیٰ کا حلف اٹھا چکے ہیں اور اس طرح نئی حکومت قائم ہو چکی ہے ۔ حسینہ واجد کے 15سالہ دور حکومت میں بنگلا دیش کے تعلقات پاکستان کے ساتھ کبھی مثالی نہیں رہے اور اس دوران بنگلا دیش کا جھکائو ہندوستان کی جانب رہا ہے ۔ حسینہ واجد کس حد تک بھارت نواز تھیں اس کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ جب عوامی دبائو کے بعد انھیں ان کے عہدے سے بر طرف کیا گیا تو لندن یا کسی اور ملک میں با آسانی جا سکتی تھیں اور وہاں ایک طویل عرصہ تک رہ بھی سکتی تھیں لیکن انھوں نے اپنے قیام کے لئے دنیا کے کسی بھی ملک کی بجائے ہندوستان میں رہنا پسند کیا اور دوسری طرف ہندوستان نے بھی انھیں اپنے ملک میں رہنے پر کوئی اعتراض نہیں کیا ۔ چند سال پہلے تک ہندوستان اپنے آپ کو اس خطہ کا چوہدری سمجھتا تھا اور نیپال ، سری لنکا اور مالدیپ جیسے چھوٹے ممالک کو اپنے زیر نگیں رکھنے کے لئے طرح طرح کے منفی ہتھکنڈے استعمال کرتا تھا اور بنگلا دیش تو جیسا کہ عرض کیا کہ حسینہ واجد کے دور میں ویسے ہی ہندوستان کی جانب جھکائو رکھنے لگ گیا تھا ۔ قیام پاکستان کے بعد سے ہندوستان کی کوشش تو یہی رہی تھی کہ وہ پاکستان کو بھی دیگر پڑوسیوں کی طرح دبا کر رکھے لیکن تاریخ گواہ ہے کہ پاکستان نے کبھی ہندوستان کا دبائو قبول نہیں کیا اور اس نے ہمیشہ ہندوستان کے منفی ہتھکنڈوں کے سامنے جھکنے سے انکار کیا ہے لیکن مئی 2025کی جنگ میں پاکستان کے ہاتھوں شرم ناک شکست کے بعد ہندوستان کا پاکستان پر برتری کا خواب تو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے چکنا چور ہو چکا ہے لیکن اب بنگلا دیش میں طارق رحمن کے وزیر اعظم بننے کے بعد بنگلا دیش کو اپنے تابع رکھنے کے ارادے بھی خاک میں ملتے نظر آ رہے ہیں ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جسے بھی طارق رحمن اور حسینہ واجد کا شجرہ معلوم ہے وہ آنے والے دنوں میں ہندوستان اور بنگلا دیش کے تعلقات کے بارے میں بڑی آسانی کے ساتھ اندازہ لگا سکتا ہے ۔ طارق رحمن جنرل ضیاء رحمن کے بیٹے ہیں جو اس گروپ کے رکن تھے کہ جنھوں نے حسینہ واجد کے والد شیخ مجیب الرحمن کو فیملی سمیت قتل کیا ۔ حسینہ واجد اس وقت لندن میں تھیں جس کی وجہ سے وہ بچ گئیں ۔ اب صورت حال یہ ہے کہ جنرل ضیاء الرحمن کے بیٹے طارق رحمن بنگلا دیش کے وزیر اعظم ہیں جبکہ حسینہ واجد ہندوستان کی پناہ میں ہیں ۔
حسینہ واجد کی بر طرفی کے فوری بعد ہی بنگلا دیش اور پاکستان کے درمیان تعلقات میں گرمجوشی آنا شروع ہو گئی تھی اور اس کی دلیل یہ ہے کہ حال ہی میں 20ٹونٹی ورلڈ کپ میں جب بنگلا دیش کو ہندوستان میں میچ نہ کھیلنے کی پاداش میں ورلڈ کپ سے باہر کر دیا گیا تو پاکستان نے بنگلا دیش کے ساتھ اظہار یک جہتی کے لئے ہندوستان کے ساتھ کھیلنے سے انکار کر دیا اور بعد میں آئی سی سی سے بنگلا دیش کو اس کے بدلے ریلیف ملنے کے بعد بنگلا دیش کے کہنے پر ہندوستان کے ساتھ میچ کھیلنے پر آمادگی ظاہر کی ۔ یہ صورت حال آنے والے دنوں میں پاک بنگلا تعلقات کے متعلق سمجھنے کے لئے کافی ہے ۔ اب ایک طرف پاکستان ہے اور دوسری جانب پاکستان سے بھی زیادہ آبادی اور فوج رکھنے والا بنگلا دیش ہے اور یہ یاد رہے کہ یہ 1971نہیں ہے بلکہ ہم2026میںجی رہے ہیں ۔ ہندوستان کو مئی2025میں پاکستان نے جو مار ماری ہے اس کے بعد تو ویسے ہی اب ہندوستان پاکستان کو میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرأت نہیں کرے گا بلکہ صرف ’’ دھرندھر ‘‘ جیسی غیر حقیقی فلمیں بنا کر ہی اپنا رانجھا راضی کرے گا ۔
چند دن پہلے پاکستان نے افغانستان کے تین صوبوں میں دہشت گردوں کے خلاف انٹیلی جنس بنیاد پر فضائی حملے کئے جس میں بہت سے دہشت گرد مارے گئے ۔ پاکستان کی اس کارروائی کی پوری دنیا میں کسی ملک نے مخالفت یا مذمت نہیں کی بلکہ اکثر ممالک نے اس کی حمایت کی لیکن ہندوستان دنیا کا اکیلا ملک ہے کہ جس نے اس کارروائی کی مذمت بھی کی اور افغانستان میں بیٹھے دہشت گردوں کے ساتھ اظہار یک جہتی بھی کیا ۔ جیسا کہ عرض کیا کہ مئی 2025کی شرم ناک شکست کے بعد ہندوستان اب براہ راست پاکستان کے ساتھ جنگ کرنے کی جرات تو کبھی نہیں کرے گا لیکن بلوچستان اور خیبر پختون خوا میں اپنی پراکسیز کے ذریعے پاکستان میں عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش ضرور کرے گا اس لئے کہ ہندوستان کبھی یہ نہیں چاہے گا کہ پاکستان معاشی طور پر اپنے پائوں پر کھڑا ہو ۔ 9/11کے بعد پاکستان میں دہشت گردی نے جہاں پاکستان کے80ہزار بے گناہ شہریوں کو موت کے منہ میں دھکیل دیا تو وہیں پر پاکستان کی معیشت کو بھی کھربوں ڈالر کا نقصان پہنچایابلکہ مشرف دور میں اس دہشت گردی کی وجہ سے ایک وقت تو ایسا بھی آیا کہ 80%کاروباری طبقہ پاکستان سے بیرون ملک منتقل ہو گیا تھا ۔ اب جبکہ پاکستان کی معیشت انتھک محنت کے بعد مشکلات سے باہر نکل رہی ہے تو ہندوستان کی پوری کوشش ہے کہ وہ اپنی پراکسیز کے ذریعے بلوچستان اور خیبر پختون خوا میں دہشت گردی کے ذریعے پاکستانی معیشت کو اپنے پائوں پر کھڑا نہ ہونے دیا جائے لیکن غنیمت یہ ہے کہ اس وقت پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت دہشت گردوں کے خلاف ایک پیج پر ہیں لہٰذا ہندوستان کو اس میدان میں بھی منہ کی کھانا پڑے گی اور خطے کے دو بڑے ممالک پاکستان اور بنگلا دیش کی ہندوستان مخالف سوچ نے ہندوستان کا خطے کے چودھری بننے کا خواب تو ویسے ہی ہمیشہ کے لئے دفن کر دیا ہے۔
No comments yet.