انوکھے لاڈلے کھیلن کو مانگیں لگژری جیٹ
انوکھے لاڈلے کھیلن کو مانگیں لگژری جیٹ
تحریر: آفتاب احمد گورائیہ
وزیراعلیٰ پنجاب کے لیے نیا لگژری جیٹ خریدنے کے فیصلے نے ایک بار پھر پنجاب حکومت کی شفافیت اور گورننس پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ کیا لگژری جیٹ خریدنا واقعی ایک ناگزیر ضرورت تھی یا محض ذاتی آسائش اور نمائشی ترجیحات کا اظہار؟ ایک ایسے وقت میں جب عوام مہنگائی، بے روزگاری اور بنیادی سہولتوں کی کمی سے دوچار ہیں، دس ارب روپے کا لگژری بزنس جیٹ خریدنا صرف ایک مالی فیصلہ نہیں بلکہ ایک سیاسی اور اخلاقی سوال بھی ہے۔ یہ اسی عوام کا پیسہ ہے جس کے لیے سو روپے بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ عوام کی امانت سے لگژری سہولت خرید لینا کسی طور سادہ معاملہ نہیں۔
سب سے پہلا تضاد حکمران جماعت نون لیگ کی پالیسی کے تسلسل میں نظر آتا ہے۔ کیا نون لیگ کا مرکز اور پنجاب کے لیے منشور مختلف ہے؟ مرکز میں قومی ایئرلائن پی آئی اے کی نجکاری کر دی گئی ہے جبکہ پنجاب میں نئی صوبائی ایئرلائن بنانے کے دعوے کیے جا رہے ہیں۔ اگر وفاقی سطح پر ریاستی ایئرلائن چلانا بوجھ ہے تو صوبائی سطح پر یہ قابلِ عمل کیسے ہو گیا؟ اسی طرح پنجاب حکومت تعلیمی اداروں اور ہسپتالوں کو مؤثر انداز میں چلانے میں مشکلات کا اعتراف کرتے ہوئے انہیں آؤٹ سورس کر رہی ہے، مگر دعویٰ ہے کہ “ایئر پنجاب” کامیابی سے چلائی جائے گی۔ یہ تضاد بھی وضاحت طلب ہے۔
ایک دلیل یہ دی جا رہی ہے کہ پنجاب کا بجٹ اتنا بڑا ہے کہ دس ارب روپے خرچ کر دینا کوئی بڑی رقم نہیں۔ مگر سوال رقم کے حجم کا نہیں، ترجیحات کا ہے۔ اگر دس ارب معمولی ہیں تو کیا عوام کا ایک روپیہ بھی بلا سوچے سمجھے خرچ کیا جا سکتا ہے؟ عوامی خزانے کا ہر روپیہ امانت ہوتا ہے، اور امانت کے استعمال میں کفایت اور حکمت بنیادی اصول ہونے چاہئیں۔ رمضان میں چالیس ارب کی امداد دینے کا حوالہ دے کر دس ارب کے طیارے کو معمولی قرار دینا بھی کمزور دلیل ہے، کیونکہ وہ چالیس ارب بھی عوام کا تھا اور یہ دس ارب بھی عوام ہی کا ہے۔
حکومت کی جانب سے اس طیارے کے بارے میں مختلف مؤقف سامنے آئے ہیں۔ کبھی کہا جاتا ہے کہ یہ “ایئر پنجاب” کا حصہ ہے، کبھی دعویٰ کیا جاتا ہے کہ اسے کرائے پر دے کر آمدن حاصل کی جائے گی۔ مگر اب تک اس کا واضح کمرشل اسٹرکچر، ریونیو ماڈل، بک شدہ فلائٹس یا حاصل شدہ آمدن کی کوئی شفاف تفصیل سامنے نہیں آئی۔ اگر یہ واقعی ایک کمرشل منصوبہ ہے تو اس کے اعداد و شمار عوام کے سامنے ہونے چاہئیں۔
ایک اور بنیادی سوال خود “ایئر پنجاب” کے وجود کا ہے۔ اگر یہ باقاعدہ ایئرلائن ہے تو اس کی رجسٹریشن کہاں ہے؟ سول ایوی ایشن لائسنس، باقاعدہ دفتر، سی ای او، بورڈ آف ڈائریکٹرز اور آپریشنل ڈھانچہ کہاں ہے؟ اگر یہ سب ابھی کاغذی مراحل میں ہے اور ایئرلائن کا کوئی باقاعدہ ڈھانچہ موجود ہی نہیں، تو پھر لگژری جیٹ خریدنے کا فیصلہ کس بنیاد پر اور کس نے کیا؟
اگر یہ طیارہ براہِ راست وزیراعلیٰ پنجاب کے استعمال کے لیے خریدا گیا ہے تو پھر کون سی بےضابطگی چھپانے کے لئے “ایئر پنجاب” کا جھوٹا بیانیہ اختیار کیا گیا؟ جب ایک فعال اور قابلِ استعمال بہترین جہاز پہلے سے موجود ہے جس کی بیس پچیس سال کی فلائنگ مدت ابھی باقی ہے تو دوسرا جہاز خریدنے کی ضرورت ہی کیا تھی؟ کیا یہ فیصلہ ناگزیر تھا یا محض ترجیح کا مسئلہ یا عوام کے خون پسینے کی کمائی پر ذاتی شوق پورے کرنے کی خواہش؟
سرمایہ کاری کے جواز کی دلیل بھی نہایت کمزور اور بودی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ سرمایہ کار آپ کا جہاز نہیں دیکھتے، وہ آپ کی پالیسی کا تسلسل، گورننس کی شفافیت، ٹیکس کا نظام، قانونی تحفظ اور سیاسی استحکام دیکھتے ہیں۔ اگر یہ بنیادیں مضبوط ہوں تو سرمایہ کار خود چارٹر طیارے سے آ جاتے ہیں، اور اگر کمزور ہوں تو لگژری بزنس جیٹ بھی محض نمائشی شے بن کر رہ جاتا ہے۔ پنجاب میں ویسے بھی چند بڑے شہروں تک ہی ہوائی اڈوں کی سہولت موجود ہے، تو کیا یہ طیارہ صرف انہی چند شہروں تک محدود رہے گا؟ کیا پنجاب کے باقی شہر اس لگژری بزنس جیٹ کے ذریعے آنے والی ترقی سے محروم ہی رہیں گے؟
آج صورتحال یہ ہے کہ طیارہ لاہور ائیرپورٹ پر موجود ہے اور عملاً وزیراعلیٰ پنجاب کے استعمال میں آ رہا ہے، جبکہ “ایئر پنجاب” کا وجود تاحال واضح نہیں۔ اصل سوال نیت کا اور ترجیحات کا ہے۔ کیا عوامی وسائل کا استعمال نمائشی سہولتوں پر ہونا چاہیے یا بنیادی ضروریات پر؟ جب تک اس کا شفاف اور تسلی بخش جواب نہیں ملتا، یہ معاملہ محض ایک طیارے کا نہیں بلکہ مریم نواز کے طرزِ حکمرانی کا سوال بنا رہے گا اور مریم نواز کی پنجاب حکومت کی شفافیت، ترجیحات اور گورننس پر سوال اٹھاتا رہے گا۔
No comments yet.