ایک دو افسران کی معطلی کافی نہیں، ذمہ داران پر قتل کا مقدمہ درج ہو، فیصل میر کا مطالبہ
ایک دو افسران کی معطلی کافی نہیں، ذمہ داران پر قتل کا مقدمہ درج ہو، فیصل میر کا مطالبہ
لاھور: پاکستان پیپلز پارٹی لاہور کے صدر فیصل میر داتا دربار کے قریب واقع ہونے والے المناک حادثے کی جگہ پر پہنچ گئے۔ ان کے ہمراہ مجید غوری، عزیز عباسی اور دیگر پارٹی کارکنان بھی موجود تھے۔
جائے وقوعہ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فیصل میر نے کہا کہ وہ شورکوٹ کے متاثرہ خاندان سے اظہار یکجہتی کرنے کے لیے آئے ہیں اور وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی نااہلی کے خلاف آواز بلند کرنے آئے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس سانحے کے ذمہ داروں کی شناخت بہت ضروری ہے اور اس معاملے میں کوئی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔
فیصل میر نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ بہت محنتی خاتون ہیں لیکن انہیں تھوڑی زیادہ نگرانی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سانحے کو گزرے چوبیس گھنٹے سے زیادہ عرصہ ہو چکا ہے لیکن ابھی تک کوئی وزیر جائے وقوعہ پر نہیں پہنچا۔ انہوں نے مریم نواز سے گزارش کی کہ وہ خود یہاں تشریف لائیں اور متاثرہ خاندان کے غم میں شریک ہوں۔
پیپلز پارٹی کے صدر نے بتایا کہ حادثے والے مین ہول پر عوام نے اپنی مدد آپ کے تحت لوہے کی شیٹ رکھی ہوئی ہے کیونکہ حکومتی انتظامیہ نے ابھی تک کوئی مناسب اقدام نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح پولیس نے اس واقعے کو کور کرنے کی کوشش کی، اس کی بھی تحقیقات ہونی چاہیے تاکہ حقائق سامنے آ سکیں۔
فیصل میر نے وزیر اعظم شہباز شریف، حمزہ شہباز، نواز شریف اور مریم نواز سے اپیل کی کہ وہ متاثرہ فیملی کو انصاف فراہم کریں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی سینئر قیادت متاثرہ فیملی کے گھر شورکوٹ جائے گی اور اس وقت تک اس کیس کا پیچھا نہیں چھوڑیں گے جب تک حادثے کے ذمہ داران کیفر کردار تک نہیں پہنچ جاتے۔
انہوں نے کہا کہ اٹھارہ گھنٹے بعد ردا کی لاش کا ملنا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ساری رات حکومت بھی سوئی رہی اور کوئی فوری اقدامات نہیں کیے گئے۔ فیصل میر نے مطالبہ کیا کہ ایک دو افسران کو معطل کرنا کافی نہیں ہے بلکہ ذمہ داران پر دفعہ 302 کے تحت مقدمہ درج ہونا چاہیے تاکہ انصاف کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔
پیپلز پارٹی کے رہنما مجید غوری نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ محض حادثہ نہیں بلکہ ایک سانحہ ہے اور پیپلز پارٹی کی قیادت اس دکھ کی گھڑی میں بچی اور اس کی والدہ کے ساتھ کھڑی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی لاہور حادثے میں شہید ہونے والوں کے دکھ میں شریک ہونے کے لیے آئی ہے اور متاثرہ خاندان کے ساتھ ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا ہے۔
No comments yet.