ھارون الرشید
ارتعاش
اردو ادب کے افق پر ایک یادگار شام اُس وقت رقم ہوئی جب پاک ہیریٹج ہوٹل، لاھور کے پروقار ماحول میں لیجنڈ شاعر،ادیب پرائیڈ آف پرفارمنس نذیر قیصر کے اعزاز میں منعقدہ شاندار تقریب “جشنِ نذیر قیصر” نے فکری وقار، شعری جمال اور تہذیبی تسلسل کو ایک روحانی وحدت میں سمو دیا۔ یہ محض ایک تقریب نہ تھی، بلکہ لفظوں کی تاج پوشی کا وہ منظر تھا جہاں تخلیق، تحقیق اور محبت نے مل کر ایک عہد کو سلام پیش کیا۔
پہلا سیشن: فہم و فراست کی صدارت
تقریب کے پہلے سیشن کی صدارت معروف دانشور ڈاکٹر نجیب جمال نے کی، جن کی بصیرت آمیز گفتگو نے محفل کو فکری وقار عطا کیا۔ مہمانانِ خصوصی میں ڈاکٹر محمد کامران، مسعود علی خان، بلقیس ریاض، سعیدہ دیپ، کوثر جمال چیمہ اور عبدالوحید چغتائی شامل تھے، جن کی موجودگی نے اس نشست کو علمی و ادبی وزن بخشا۔
اظہارِ خیال کرنے والوں میں محمد عباس مرزا، آصف عمران، ارشد نعیم علی، صفیہ کوثر، رخشندہ نوید، زوبیہ انور، ڈاکٹر فضیلت بانو، ڈاکٹر صائمہ کامران، پونم نورین، اور آفتاب جاوید شامل تھے، جنہوں نے نذیر قیصر کی شاعری کو عہد کی دھڑکن، تہذیب کی آواز اور محبت کی امانت قرار دیا۔ ان کے کلام کو لفظوں کی وہ روشنی کہا گیا جو دلوں کے اندھیروں میں بھی راستہ دکھاتی ہے۔
اسی سیشن میں “نئے خواب” کی سربراہ مقدس مجید اور محترمہ کلثوم نے خوبصورت شاعری پیش کی، جبکہ شہرِ ادب کے صدر نذیر قیصر اور سینیئر وائس پریزیڈنٹ ڈاکٹر کوثر جمال چیمہ نے عابدہ قیصر کے ہمراہ ادبی مقابلے میں کامیاب ہونے والے تین نوجوان لکھاریوں میں اسناد اور نقد انعامات تقسیم کئے۔ یہ منظر نسلِ نو کو روایت کے چراغ تھمائے جانے کی علامت تھا۔
دوسرا سیشن: عقیدت و اعتراف کا سنگم
دوسرے سیشن کی صدارت معروف ادیب ڈاکٹر امجد طفیل نے کی، جبکہ مہمانانِ خصوصی میں شہزادہ شبیر احمد صدیقی، غلام حسین ساجد، بابا نجمی اور ڈاکٹر عرفان الحق شامل تھے۔
اظہارِ خیال کرنے والوں میں شہزاد نیر، نوید صادق، رضا رومی، منشا قاضی، آسناتھ کنول، صبا انیل، افشین اور ایس آر پروڈکشن کے منیجنگ ڈائریکٹر انیل لارنس شامل تھے، جنہوں نے نذیر قیصر کو عہدِ حاضر کا وہ مینارِ نور قرار دیا جس کی روشنی میں ادب کی راہیں روشن ہیں۔
تعاون، نظامت اور وقار
یہ شاندار اور پروقار تقریب ایس آر پروڈکشن کے تعاون سے منعقد ہوئی، جسے شہرِ ادب کی مکمل سرپرستی حاصل تھی۔ پروگرام کی نظامت شہزاد نیْر اور صفیہ کوثر نے نہایت شائستگی، روانی اور جمالیاتی حسن کے ساتھ انجام دی، یوں محفل کا ہر لمحہ ترتیب، وقار اور حسنِ ذوق کی مثال بن گیا۔
“جشنِ نذیر قیصر” دراصل ایک شاعر کی نہیں، ایک عہد کی تکریم تھی۔ یہ وہ شام تھی جب لفظوں نے سر جھکایا، خیال نے سلام پیش کیا اور تخلیق نے اپنے محسن کے قدموں میں عقیدت کے پھول نچھاور کیئے۔ نذیر قیصر کا نام اس محفل میں صرف پکارا نہیں گیا، بلکہ دلوں میں لکھا گیا—ہمیشہ کے لیے۔
No comments yet.