بدھ ،4 فروری 2026 لائیو دیکھیں
Effy Jewelry

مشتری ہوشیار باش

مشتری ہوشیار باش

Editor

2 ہفتے قبل

Voting Line

 

 

 

 

پاکستان اور ایران کو باہر سے شکست دینے کی کوشش مئی اور جون 2025میں ناکام ہو چکی لہٰذا اب جو ہو گا اس میں اندر کے غداروں کا کردار بڑا اہم ہو گا جس کے لئے انٹیلی جنس نیٹ ورک کو انتہائی موثر اور ہر لمحہ متحرک رکھنے کی ضرورت ہے ۔ حنی بعل 247قبل مسیح سے 183قبل مسیح کے دور میں شمالی افریقہ میں سلا جقہ یا قرطاجنہ کا ایک فوجی کمانڈر جو تاریخ کے نامور ترین کمانڈروں میں سے ایک تھا ۔ قرطاجنہ میں زیادہ تر تاجر پیشہ افراد تھے اور بڑے کامیاب تاجر تھے لیکن ان کے ساتھ المیہ یہ تھا کہ ان کی آمدن کا بیشتر حصہ اس وقت کی سپر پاور روما خراج کے طور پر لے لیتی تھی ۔ قرطاجنہ کے سربراہ حملقار برقا کے چار بیٹے تھے وہ اکثر کہا کرتا تھا کہ میرے یہ چاروں بیٹے روما پر چار چٹانیں بن کر گریں گی اور پھر یہی ہوا کہ حنی بعل واقعی اس وقت کی سپر پاور روما پر اسی طرح چٹان بن کر گرا پھر حنی بعل کا زوال بھی شروع ہوا لیکن اس کی شکست کی اہم وجہ دشمنوں کے ہاتھوں اس کے ایک بھائی کی موت تھی جو اس کی انٹیلی جنس تنظیم کا سربراہ تھا ۔ اس سے آگے آئیں تو سقوط بغداد چنگیز خان کے پوتے ہلاکو خان کے ہاتھوں 1255عیسوی میں ہوا لیکن اس سے بہت پہلے چنگیز خان کے دور میں بغداد میں منگولوں کاجاسوسی نیٹ ورک موجود تھا ۔ تاریخ کے صفحات پلٹتے چلے جائیں تو آپ کو ہر کامیاب حکمران کے پیچھے اس کا جاسوسی کے ادارہ کا بڑا اہم کردار ملے گا ۔ صدام کے دور میں کہتے ہیں کہ عراق میں اگر چار آدمی کہیں بیٹھے ہوتے تھے تو ان میں سے چوتھا آدمی صدام کی خفیہ تنظیم کا بندہ ہوتا تھا لیکن دور حاضر میں لیبیا ہو یا عراق یا پھر شام اور یا پھر اب وینزویلا ہر جگہ امریکہ نے ایک جیسا کھیل کھیلا ہے کہ وہاں کے انٹیلی جنس اداروں اور فوجی کمانڈروں کو خرید کر اپنا مقصد حاصل کیا اور امریکہ کے لئے یہ کوئی نیا کھیل نہیں ہے بلکہ اسے ان کاموں کا وسیع تجربہ ہے اور وہ دوسری جنگ عظیم کے بعد کم و بیش 50سے زائد حکومتوں کو تبدیل کر کے ان کی جگہ اپنی مرضی کی حکومتیں لا چکا ہے ۔ کوئی شک نہیں کہ ایران میں اگر حالات خراب ہوتے ہیں تو وہ انھیں بہتر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے لیکن وہاں پر جب بھی حالات خراب ہوئے تو اس کی سب سے بڑی وجہ انٹیلی جنس کی مکمل ناکامی ہے ۔ 

لبنان سے ایک Catherine Shakda نامی خاتون ایران آئی اور یہاں پر اپنے آپ کو شیعہ مسلم ظاہر کیا اور پھر اس حوالے سے لیکچر ، درس و تدریس اور کتابیں لکھیں اور بڑے مختصر عرصے میں اس کا حلقہ احباب وسیع سے وسیع تر ہوتا چلا گیا اور اہم ترین حلقوں میں اس کی رسائی کا عالم یہ تھا کہ سپریم لیڈر خامنائی سے بھی ملاقات ہو گئی لیکن پھر2022میں اس ساری صورت حال کا ڈراپ سین اس وقت ہوا کہ جب وہ اسرائیل منتقل ہو گئیں جس کے بعد ایرانی حکام کو ہوش آیا اور انھوں نے سرکاری ویب سائٹس سے اس کی تصاویر اور مضامین ہٹانا شروع کر دیئے۔ انٹیلی جنس کی ناکامی صرف یہی تک محدود نہیں بلکہ جون 2025کی ایران اسرائیل جنگ کے دوران بھی اس کی بہت بڑی ناکامی دنیا پر اس وقت بھی عیاں ہو گئی کہ جب اندر سے مخبریاں ہونا شروع ہو گئیں اور ایران کے انٹیلی جنس ادارے اس بات کا اندازہ ہی نہیں لگا سکے کہ ایران میں یہودی آبادی اور ہندوستانی انٹیلی جنس ایجنسیوں کا ایک بہت بڑا خفیہ نیٹ ورک بن چکا ہے لیکن ایرانی انٹیلی جنس ادارے ان کا سراغ لگانے اور انھیں بے نقاب کرنے میںمکمل طور پر ناکام رہے تاوقتیکہ ایران اسرائیل جنگ کے دوران جب ان کا گھناﺅنا کردار کھل کر سامنے نہیں آ گیا۔

آپ کو یاد ہے کہ پاک بھارت جنگ کے شروع میں جب بھی صحافیوں نے جنگ بند کرانے کے متعلق ٹرمپ سے پوچھا تو ان نے ایک ہی جواب دیا کہ یہ گذشتہ 15سو سال سے لڑ رہے ہیں خود ہی صلح کر لیں گے اور ایران اسرائیل جنگ میں صلح کے سوال پر ان کا جواب ہوتا کہ اب مذاکرات کا وقت گذر چکا ۔ در حقیقت ہندوستان کے ساتھ جنگ میں پاکستان کو اور پھر اسرائیل کے ساتھ جنگ میں ایران کو تباہ کرنے کا منصوبہ تھا لیکن پھر جب پاکستان نے جوابی وار کیا تو فقط چار گھنٹوں میں ہی ٹرمپ بہادر صلح کی طرف آ گئے اور پاکستان کے ہاتھوں ہندوستان کی تباہی کا اعتراف کرتے ہوئے صلح کی بات کی اسی طرح جب ایران نے اسرائیل میں تباہی مچا دی تو پھر یہ کہہ کر صلح کرائی کہ ایران نے آخری 48 گھنٹوں میں اسرائیل میں بہت زیادہ تباہی کی تھی ۔ جنگ ختم ہو گئی اور ایرانی پارلیمنٹ میں ” تشکر پاکستان “ کے نعرے لگے اور پوری دنیا میں پاکستان کے عزت و وقار میں بے پناہ اضافہ ہوا ۔ اس ساری صورت حال کے تناظر میں ایران کے صورت حال پر غور کریں تو اسے بیرون ملک سے تباہی میں ناکامی کے بعد اب کوشش کی جا رہی ہے کہ اندرونی خلفشار سے تباہ کیا جائے اور رجیم چینج کی جائے ۔ ان حالات میں سب سے زیادہ محتاط رہنے کی اگر کسی ملک کو ضرورت ہے تو وہ پاکستان ہے اس لئے کہ اسے بھی مئی2025میں جنگ سے تباہ کرنے کی کوشش کی گئی اور اس میں ہندوستانی مودیوں سے بڑھ کر پاکستانی مودیوں نے سوشل میڈیا پر پاکستان کے خلاف مہم چلائی لہٰذا مقتدر اداروں سے گذارش ہے کہ وہ اپنے انٹیلی جنس نیٹ ورک کو پوری استعداد کے ساتھ متحرک کر دیں تاکہ پاکستان میں ایران جیسے حالات پیدا نہ ہوں کہ جس کی ایک عرصہ سے کوشش بھی کی جا رہی ہے۔

Comments

No comments yet.

سب سے زیادہ پڑھا
Effy Jewelry
Effy Jewelry