گلف میں کشیدگی اور پاکستان
گلف میں کشیدگی اور پاکستان
سعودی عرب اور یو اے ای کے درمیان جو کشیدگی ہے اگر یہ برقرار رہتی ہے تو یقین کریںکہ اس میں ان دونوں ممالک سے زیادہ پریشانی اورمسائل پاکستان کے لئے ہوں گے ۔ اس کی کیا وجہ ہے اس پر بات کرنے سے پہلے یہ صورت حال کیوں بنی اس پر چند گذارشات اور ساتھ ساتھ یہ بھی بتانا ضروری ہے کہ اسرائیل کی جانب سے صومالی لینڈ کو تسلیم کرنا اور ٹرمپ کا ایران کو دھمکیاں دینا اس ساری صورت حال کو مزید گمبھیر بناتے ہیں ۔ اس ساری صورت حال میں ایک بات سے دل کو اطمینان ہوا کہ جیسے ہی حالات میں تبدیلی آئی تو یو اے ای کے صدر محمد بن زاید النہیان فوراََ پاکستان پہنچے حالانکہ وہ امریکہ یا ہندوستان کسی بھی جگہ جا سکتے تھے لیکن اس سنگین صورت حال میں پاکستان کو پہلی ترجیح بنانا یقینا پاکستان کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے ۔ صورت حال یہ بنی کہ امارات کی بندر گاہ سے ایک جہاز چلتا ہے اور وہ یمن کی ایک بندر گاہ پر پہنچتا ہے تو اسے سعودی عرب کی جانب سے ہٹ کیا جاتا ہے اور سعودیہ کی جانب سے باقاعدہ بیان دیا جاتا ہے کہ یہ ہماری ریڈ لائن ہے اور اس میں اسلحہ تھا لیکن متحدہ عرب امارات کی جانب سے اس کی تردید کی جاتی ہے ۔ بات یہاں پر ہی نہیں رکتی بلکہ سعودی عرب کی جانب سے یو اے ای کے ایک کانوائے پر حضر موت جو یمن کا علاقہ ہے وہاں پر اسے نشانہ بنایا جاتا ہے ۔ اس کے بعد STC(Southern Transitional Council) کی جانب سے اس حملے کا جواب دینے کی دھمکی بھی دی گئی ہے ۔ پاکستان یقینا یہ کوشش کرے گا کہ ان دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم کر کے حالات کو معمول پر لائے اس لئے کہ اگر ایسا نہیں ہوتا تو اس میں خود پاکستان کے لئے بہت زیادہ پریشانی اور سنگین قسم کے مسائل جنم لے سکتے ہیں ۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ پاکستان دفاعی معاہدے کی وجہ سے سعودی عرب کا ساتھ دے گا کیونکہ یو اے ای کا تو ویسے بھی جھکاﺅ ہندوستان کی طرف ہے ۔ جو لوگ یہ بات کہہ رہے ہیں انھیں اس بات کا احساس ہی نہیں کہ اصل پریشانی یہی ہے اور پاکستان کے لئے خاص طور پر یہ معاملہ اتنا سادہ نہیں ہے کہ سعودی عرب کا ساتھ دے تو سب ٹھیک ہے ۔
کوئی شک نہیں کہ سعودی عرب نے ہمیشہ پاکستان کا ہر مشکل وقت میں ساتھ دیا ہے لیکن یو اے ای نے بھی پاکستان کو کبھی تنہا نہیں چھوڑا لیکن دوسری جانب کچھ اور حقائق کا پاکستان کو سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ۔ سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ امارات میں بیس لاکھ سے زائد پاکستانی شہری روز گار کے سلسلے میں مقیم ہیں اور سعودی عرب کے بعد متحدہ عرب امارات سے سب سے زیادہ زر مبادلہ پاکستان آتا ہے اور یہ کم و بیش آٹھ ارب ڈالر ہیں ۔ اب اگر پاکستان کلی طور پر سعودی عرب کا ساتھ دیتا ہے تو ان بیس لاکھ پاکستانی شہریوں کے امارات سے بے دخل ہونے کا خطرہ ہے اور اگر خدا نخواستہ ایسا ہوتا ہے تو یہ پاکستانی معیشت کے لئے انتہائی تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے لہٰذا یہ کہنا کہ اگر دفاعی معاہدے کی وجہ سے پاکستان کو کلی طور پر سعودیہ کا ساتھ دینا پڑا تو کوئی مسئلہ نہیں یہ بات درست نہیں ہے بلکہ ایسا ہونے سے پاکستان شدید مشکلات کا شکار ہو سکتا ہے اور پاکستانی شہریوں کے لئے صرف امارات میں مسائل نہیں ہوں گے بلکہ اس حوالے سے امارات کا قطر کے ساتھ بھی اتحاد ہے لہٰذا وہاں پر بھی پاکستانی شہریوں کو اسی طرح کی صورت حال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ۔ اس کے علاوہ یو اے ای اور قطر دو ایسے ممالک ہیں کہ جن کے طالبان کے ساتھ بڑے ہی اچھے تعلقات ہیں اور ان دونوں نے افغان حکومت کو تسلیم کیا ہوا ہے اور حالت یہ ہے کہ یو اے ای نے پاکستان کے لئے تو ویزے بند کئے ہوئے ہیں لیکن افغان باشندوں کے لئے افغان پاسپورٹ دکھا کر بغیر ویزہ کے داخل ہوا جا سکتا ہے ۔ سعودی عرب کی جانب مکمل جھکاﺅ اور ساتھ دینے پر طالبان ، ہندوستان ، یو اے ای ، قطر اور اسرائیل ایک پورا Nexusپاکستان کے خلاف پوری طاقت کے ساتھ متحرک ہو جائے گا اور پاکستان کو شدید دہشت گردی کی لہر کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جبکہ امریکہ بہادر تماشا دیکھنے کے لئے ویسے بھی موجود ہو گا ۔
اس پوری صورت حال کا ایک لمحہ کے لئے جائزہ لیں تو اندازہ ہو گا کہ یہ سب کچھ مسلم ممالک کے درمیان ہی ہو رہا ہے ۔ یمن کے حوثی باغی مسلمان ۔ سعودی عرب ، امارات ، قطر ، طالبان ، ایران اور پاکستان مسلمان جبکہ اسرائیل ، امریکہ اور ہندوستان ان مسلم ممالک کو ہی ایک دوسرے کے خلاف ہلہ شیری دے کر اپنے مذموم مقاصد کے ایجنڈے کی تکمیل کر رہے ہیں ۔ تھوڑی دیر کے لئے تصور کی آنکھ سے دیکھیں کہ اگر خدا نخواستہ ان برادر اسلامی ممالک میں جنگ تک نوبت پہنچ جاتی ہے تو پورے خطہ میں آگ کے شعلے بھڑک اٹھیں گے اور ان شعلوں میں بھسم ہونے والے تمام ممالک مسلمان ہی ہوں گے اور اس قدر تباہی ہو گی کہ عشروں کی جمع کی ہوئی تیل کی دولت دنوں میں خرچ ہو جائے گی بلکہ مزید قرض چڑھ جائے گا ۔ اس صورت حال کا ادراک پاکستان کو ہی نہیں بلکہ اس خطے میں موجود تمام ممالک کو کرنا ہو گا تاکہ یہ نہ ہو کہ اپنا اثر رسوخ قائم کرتے کرتے اپنی پراکسیز کی مدد کے چکروں میں اپنا گھر ہی جلا بیٹھیں لہٰذا پاکستان کی پوری کوشش ہونی چاہئے کہ وہ اپنا قائدانہ کردار ادا کرے اور ہر صورت وہ اس کشیدگی کو کم کرنے کی کوشش کرے اور بات کو بگڑنے نہ دے۔
No comments yet.