بدھ ،4 فروری 2026 لائیو دیکھیں
Effy Jewelry

شہید بینظیر بھٹو

شہید بینظیر بھٹو

Editor

ایک ماہ قبل

Voting Line

 

 

 

عرصہ ہوا وطن عزیز قحط الرجال ایسی صورت حال سے دو چار تھا عوام کی مشکلات کم ہونے کی بجائے بڑھتی جا رہی تھیں۔ کوئی ایسا مسیحا نظر نہیں آتارہا تھاجو ملک کو در پیش مسائل کی گہری دلدل سے نکال سکے۔ پیٹرول سستا ہونے کے باوجود مہنگائی میں کمی کی بجائے اضافہ ہو رہا تھا۔ گرمیوں میں لوڈ شیڈنگ ختم کرنے کا دعویٰ کرنے والے سخت سردی کے موسم میں بھی عوام کو بجلی دینے سے قاصر تھے اور اب تو گیس بھی کم کم ہی آتی تھی اور ان سب سے بڑھ کر دہشت گردی تھی کہ جس سے اب معصوم بچے بھی محفوظ نہیں تھے اس وقت جن حالات سے ہمارا سامنا تھا اس میں ضرورت تھی کسی ایسی لیڈر شپ کی جو اپنی ذات کے خول سے باہر نکل کر اپنی جان کی پروا کیے بنا ملک اور قوم کے مفاد میں فیصلے کرتی اور پھر 18 سال قبل ایک شخصیت نے فیصلہ کیا تھا کہ جان جاتی ہے تو جائے لیکن وہ اپنے وطن ضرور جائیں گی۔ ملک میں ان کی جان کو خطرہ تھا لیکن اس عظیم شخصیت نے اپنی جان کی پروا نہ کرتے ہوئے ہر حال میں وطن واپسی کا فیصلہ کیا کیونکہ آمریت کی سیاہ رات طویل سے طویل تر ہوتی جا رہی تھی۔ حسب روایت اعلیٰ عدلیہ کی طرف سے آئین پامال کر کے ہر قسم کی ترامیم کی اجازت بہت پہلے ہی مل چکی تھی۔ جس کا اس نے بھر پور فائدہ بھی اٹھایا تھا اور جمہوری ادوار کے برعکس آئین کا حلیہ بگاڑنے والی ان ترامیم کےخلاف نہ تو کسی نے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا تھا اور نہ ہی جمہوری دور میں ہر روز ہر مسئلہ پر ازخود نوٹس لینے والے کسی منصف کی آنکھ خواب غفلت سے کھلی تھی۔ قومیتوں کے مسائل پیچیدہ ہو چکے تھے پاکستان کی وحدت کی امین لسانی اکائیاں ایک دوسرے کے ساتھ خطرناک حد تک صاف الجھتی نظر آ رہی تھیں۔ مسلکی اختلافات کی چنگاڑی فرقہ پرستی کے ہولناک الاﺅ کی شکل میں معصوم انسانی جانوں کو نگل رہی تھی، دہشت گردی کا جن بوتل سے باہر آ کر کشت و خون کی ہولی کھیل رہا تھا، توانائی، بیروزگاری اور مہنگائی کا طوفان اپنی ابتدائی شکل میں ہی اتنا بھیانک روپ دھار چکا تھا کہ صاف محسوس ہو رہا تھا کہ مستقبل قریب میںیہ طوفان اتنا شدید ہو جائے گا کہ اس طوفان پر قابو پانا جوئے شیر لانے کے مترادف ہو گا۔

ان معروضی حالات کی روشنی میں شہید ذوالفقار علی بھٹو کی غیور اور بہادر بیٹی نے طویل جلا وطنی کے بعد وطن واپسی کا فیصلہ کیا۔ دخترِ مشرق، پاکستان کے چاروں صوبوں کی زنجیر محترمہ شہید بینظیر بھٹو نے 18 اکتوبر کو دوپہر دو بج کر گیارہ منٹ پر طیارے سے باہر آ کر ایک طویل عرصے کے بعد وطن کی مٹی کو دیکھا تو فرطِ جذبات سے آنکھیں نم ہو گئیں۔ ربِ کریم کا شکر ادا کیا۔ داہنے بازو پر بندھے امام ضامن پر نظر پڑی تو اطمینان اور شکر کے جذبات آنسوﺅں کی صورت آنکھوں سے بہہ نکلے۔ ممکن ہے یہ کیفیت زیادہ دیر قائم رہتی مگر فضا میں گونجنے والی جئے بھٹو کی صدائیں جب کانوں تک پہنچی تو یکلخت نظروں نے ان صداﺅں کا تعاقب کرتے ہوئے ماحول کا جائزہ لیا تو پتہ چلا کہ تا حدِ نگاہ عوام کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر اپنی قائد کے استقبال کے لیے موجود ہے۔ بے پناہ ہجوم کی وجہ سے محترمہ شہید بینظیر بھٹو کا جلسہ گاہ کی طرف سفر انتہائی سست رفتاری سے جاری تھا ہر کارکن کی کوشش تھی کہ وہ کسی نہ کسی طرح اپنی قائد محترمہ شہید بینظیر بھٹو کی نزدیک سے ایک جھلک دیکھ لے۔ BBC کی رپورٹ کے مطابق گاڑیوں کی قطاریں دس کلو میٹر لمبی تھیں۔ ایک عام اندازے کے مطابق اس وقت محترمہ شہید بینظیر بھٹوکے استقبال کے لیے تیس لاکھ افراد موجود تھے جبکہ کروڑوں لوگ ٹیلی وژن پر بیٹھ کر اس بے مثال تاریخی استقبال کا نظارہ کر رہے تھے۔

مگر پھر وہی ہوا کہ جس کا اظہار محترمہ شہید بینظیر بھٹو سمیت اکثر لوگ کر رہے تھے۔ محترمہ شہید بینظیر بھٹو کا استقبالی قافلہ جب شارع فیصل پر کار ساز کے قریب پہنچا تو ملک دشمن طاغوتی طاقتیں جو کسی موقع کے انتظار میں تھیں انہوں نے جب دیکھا کہ اب تو محترمہ شہید بینظیر بھٹوجلسہ گاہ سے کافی قریب آ چکی ہیں اور ہمارا بس نہیں چل رہا تو انہوں نے بوکھلا کر یکے بعد دیگرے دو خودکش حملے کر دیئے۔ اس وقت آسمان نے جو منظر دیکھا، تاریخ ِانسانی میں شائد آسمان نے ایسے مناظر کم ہی دیکھے ہوں گے کہ لوگ دھماکے کی جگہ سے جان بچانے کے لیے دور جانے کی بجائے اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر اپنی قائد کی حفاظت کے لیے محترمہ شہید بینظیر بھٹوکے استقبالی ٹرک کی طرف دیوانہ وار دوڑ رہے تھے۔ ہر طرف کارکنوں کی نعشیں بکھری پڑیں تھیں اور دہشت گردوں کی بربریت کی گواہی دے رہی تھیں۔ دہشت گردوں کی اس بہیمانہ کارروائی میں 135افراد شہید ہوئے اور پانچ سو پچاس سے زائد زخمی ہوئے مگر یہ اطمینان تھا کہ محترمہ شہید بینظیر بھٹو ہمارے درمیان موجود ہیں مگر شائد تقدیر نے مزید آزمانا تھا، شائد قسمت میں کچھ اور امتحاں دینا باقی تھے اور شائد وطن کی مٹی کچھ مزید خراج کی طلب گارتھی۔

27 دسمبر کو راولپنڈی میں جلسہ گاہ سے واپسی پر محترمہ شہید بینظیر بھٹو جب کارکنوں کے والہانہ جذبات کو دیکھ کر ان کا جواب دینے کے لیے اپنی گاڑی کے سن روف سے باہر نکلیں تو ملک دشمن قوتوں کو موقع مل گیا اور پاکستان کے عوام پر ایک قیامتِ صغریٰ ٹوٹ پڑی۔ عوام کی محبوب رہنما اور وفاقِ پاکستان کی زنجیر کو توڑ دیا گیا۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو کی بیٹی نے شہید ہو کر یہ ثابت کر دیا کہ وہ استعماری قوتوں کے ہاتھوں سر کٹا تو سکتی ہیں مگر سر جھکا نہیں سکتیں۔

اب ڈھونڈ اس گوہرِ نایاب کو کہ جسے

اپنے ہاتھوں سے خاک کیا تو نے

Comments

No comments yet.

سب سے زیادہ پڑھا
Effy Jewelry
Effy Jewelry