بدھ ،4 فروری 2026 لائیو دیکھیں
Effy Jewelry

شہید محترمہ بینظیر بھٹو کرشماتی لیڈر

تحریر:گل محمد خان جکھرانی

Editor

ایک ماہ قبل

Voting Line

تحریر:گل محمد خان جکھرانی ( سینیئر )
ممبر سندھ کونسل پاکستان پیپلزپارٹی

موت ایک اٹل حقیقت ہے وہ تو ہر ذی روح کو ہر حال میں اتی ہے مگر بعض ہستیوں کی زندگی اور موت دونوں ہی قابل رشک بن جاتی ہیں شہید محترمہ بے نظیر بھٹو بھی ایک ایسے ہی غیر معمولی مدبر اور عالمی سطح کی لیڈر تھی جو اپنے نظریات کی آبیاری اور عوام کی ہمت بندھانے کے لیے اپنی جان کا نظرانہ پیش کر کے امر ہو گئی ہیں جمہوریت کی علمبردار دختر مشرق شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کو ہم سے بچھڑے ہوئے 18 سال بیت گئے ہیں مگر ان کے ناقابل فراموش کارہائے نمایاں دنیا کے سیاسی افق پر ہمیشہ چمکتے رہیں گے دو مرتبہ پاکستان کی وزیراعظم بننے والی محترمہ بے نظیر بھٹو نے محض 35 برس کی عمر میں پاکستان اور عالم اسلام کی پہلی مسلم خاتون وزیراعظم کا اعزاز حاصل کیا

شہید محترمہ بے نظیر بھٹو طویل جلاوطنی کے بعد 18 اکتوبر 2007 کو جب اپنے وطن واپس پہنچی تو ان پر کراچی کے علاقے کارساز پر پہلا حملہ ہوا جس میں 200 سے زائد پاکستان پیپلز پارٹی کے جانثار کارکن شہید ہو گئے بہرحال اس حملے کے باوجود بھی شہید محترمہ بے نظیر بھٹو نے بہادری کے ساتھ دوسرے روز اپنے زخمی کارکنوں کی عیادت کے لیے مختلف ہاسپٹل پہنچیں واضح رہے 27 دسمبر 2007 کو راولپنڈی کے لیاقت باغ میں شہادت سے قبل اپنی تاریخی خطاب میں شہید محترمہ بے نظیر بھٹو نے کہا تھا کہ ہم اپنی زندگی یا اپنی ازادی اپنی جوانی اپنا ذہنی سکون سب جمہوریت کے لیے قربان کر دیا ہے اور پاکستان کی ترقی اور عزت جمہوریت میں ہے میں پاکستان کے لیے اپنی جان بھی دے سکتی ہوں شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی زندگی پھولوں کی سیج نہ تھی

انہوں نے اپنی زندگی میں بڑے دکھ سہے جس میں انہوں نے اپنے والد شہید ذلفقار علی بھٹو کی شہادت چھوٹے بھائی شاہنواز بھٹو کی پراصرار موت اور ایک بھائی میر مرتضی بھٹو کی سرعام قتل جیسے بڑے دکھ دیکھے یہ ایسے صدمات ہیں جنہیں سہنا اسان نہیں ہوتا شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی سیاسی سفر کردار عملی جدوجہد کو دیکھ کر بلا شبہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ انتہائی پختہ اور جرات مند سیاستدان تھی انہوں نے اپنے دکھوں کو عوام کے دکھوں سے جوڑ کر طاقت میں تبدیل کر دیا تھا وہ اپنی توانا اواز سے ملک دشمن قوتوں کو اخری سانس تک للکارتی رہیں

بہرحال 27 دسمبر 2007 کو راولپنڈی کے لیاقت باغ میں پاکستان کی بے مثال اور بہادر بیٹی شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کو ایک دہشت گرد حملے میں صفاقانہ طریقے سے قتل کر کے شہید کر دیا گیا اور بحالی جمہوریت کی مشل کو روشن کرتے کرتے تاریخ کا ایک امر کردار بن گئی جنہیں رہتی دنیا تک یاد رکھا جائے گا انقلابی شاعر فیض احمد فیض نے کہا تھا، "جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا، وہ شان سلامت رہتی ہے" بہرحال پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئر پرسن اور اسلامی دنیا کی پہلی منتخب مسلم خاتون وزیراعظم شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی آج شہادت کا دن ہے آج سے 18 سال قبل دنیا کی عظیم لیڈر سابق وزیراعظم پاکستان محترمہ بینظیر بھٹو کو فوجی آمر جنرل پرویز مشرف نے عالمی قوتوں کی سازش اور ملی بھگت سے دہشت گردوں کے ہاتھوں پنجاب کے شہر راولپنڈی کے لیاقت باغ میں محترمہ بینظیر بھٹو شہید کروایا اس کے علاوہ سینکڑوں پیپلز پارٹی کے کارکن کو شہید اور زخمی ہوئے۔

آج 27 دسمبر 2025 کو شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی 18ویں برسی ہے سامراجی قوتوں اور اسٹیبلشمنٹ کے سازش کے تحت شہید محترمہ بینظیر بھٹو کو قتل کرکے پاکستان کی عوام سے جسمانی طور پر ضرور جدا کیا گیا مگر 18 سال گزرنے کے باوجود بھی شہید محترمہ بینظیر بھٹو پاکستان کی کروڑوں عوام کی دلوں پر راج کر رہی ہیں بہرحال 27 دسمبر پاکستان کے علاوہ پوری دنیا کے لیے ایک سیاہ دن ہے 27 دسمبر 2007 وہ بدبخت دن ہے جس دن سندھ دھرتی سے تعلق رکھنے والی پاکستان پیپلزپارٹی کی چیئر پرسن محترمہ بینظیر بھٹو پاکستان کی کروڑوں عوام اور پارٹی کارکنان کو غمگین چھوڑ کر اس دنیا سے ہمیشہ کے لیے رخصت ہو گئی، سازشی کرداروں نے پاکستان کی حقیقی اور مقبول ترین رہنما محترمہ بینظیر بھٹو کو ہم سے جسمانی طور پر جدا کیا۔

شہید محترمہ بینظیر بھٹو اپنے والد قائد عوام شہید ذوالفقار علی بھٹو کی نقش قدم پر چلتے ہوئے پوری زندگی غریب عوام کے لیے وقف کر چکی تھی اور اپنی پوری زندگی عوام کے حقوق جمہوریت کی بحالی اور آئین کی بالادستی کے لیے وقف کر چکی تھی شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے جنرل ضیا سے لے کر جنرل مشرف کے تمام ظلم اور جبر کا بہادری کے ساتھ مقابلہ کیا اور ملک کے اندر جمہوریت کی بحالی اور ائین کی بالادستی کے لیے جدو جہد کرتے ہوئے اپنے جان کا نظرانہ پیش کر کے ہمیشہ کے لیے امر ہو گئی شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے اپنے سیاسی زندگی کا اغاز اس وقت شروع کیا جب دنیا کے ماڈل ڈکٹیٹر فوجی آمر جنرل ضیاء نے پاکستان پیپلزپارٹی کے بانی چیئرمین سابق وزیراعظم شہید ذوالفقار علی بھٹو کی منتخب حکومت کو ختم کرکے ملک کے اندر مارشل لا نافذ کیا اور آمریت کی بنیاد ڈالی جنرل ضیاء نے شہید ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کا خاتمہ کرنے کے بعد انہیں ایک جھوٹے مقدمے میں پھنسا کر عدالت کے ذریعے شہید کروا دیا جس کا سپریم کورٹ نے بھی کیا ہے کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو فیئر ٹرائل کا موقع نہیں دیا گیا اور انہیں انصاف نہیں ملا بہر حال شہید بھٹو کی شہادت کے بعد پاکستان پیپلزپارٹی کی باگ ڈور ان کی صاحبزادی محترمہ بینظیر بھٹو نے سنبھالی تھی اس طرح شہید محترمہ بے نظیر بھٹو نے عوام اور پاکستان پیپلز پارٹی کے کارکنوں کو اکیلا نہیں چھوڑا اور عوام کے ساتھ جینے اور مرنے کا فیصلہ کیا انہوں نے جنرل ضیاء الحق کے ہر جبر اور ظلم و زیادتی کا بہادری کے ساتھ مقابلہ کرنے کا فیصلہ کیا

بہرحال سازشی قوتوں نے 27 دسمبر 2007 کو لیاقت باغ راولپنڈی میں ایک بم دھماکے کے ذریعے انہیں شہید کروا دیا آج وہ جسمانی طور پر ہمارے درمیان موجود نہیں مگر ان کے بتائے گئے اصول اور پارٹی کا منشور ہمارے پاس موجود ہے، شہید ذوالفقار علی بھٹو اور شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی باقی ماندہ مشن کو جاری رکھنے کے لیے پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور صدر اصف علی زرداری کی قیادت میں آج بھی جدوجہد جاری ہے بہرحال اج 27 دسمبر 2025 کو گڑھی خدا بخش بھٹو میں شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی برسی کے موقع پر ایک عظیم الشان اور تاریخی جلسہ منعقد ہوگا جس میں پاکستان کے ہر صوبے سے پارٹی کے کارکنان اور لاکھوں کی تعداد میں عوام شہید محترمہ بینظیر بھٹو کو خراج عقیدت پیش کرینگے اور ان کی برسی کو جوش اور جذبے کے ساتھ منایا جائے گا ملک کے چاروں صوبوں کے علاوہ گلگت بلتستان اور ازاد کشمیر سمیت لاکھوں کی تعداد میں عوام بھرپور شرکت کر کے انہیں سلام عقیدت پیش کریں گے

شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے جنرل ضیاء سے لے کر جنرل مشرف کے سازشی اور سامراجی قوتوں کے ہر ظلم اور جبر کا دلیری سے مقابلہ کیا خاص کر جنرل ضیا کے ظالمانہ مارشل لا کے دور میں انہوں نے تقریبا ساڑھے پانچ سال جیل میں قید و صعوبتوں اور ہر سختی و ظلم کو برداشت کیا واضح رہے محترمہ بے نظیر بھٹو 1984 سے لے کر 1985 تک بیرون ملک جلاوطنی کی زندگی گزاری تھی شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی  جلاوطنی کے دوران ان کے چھوٹے بھائی شاہ نواز بھٹو کو فرانس میں شہید کروایا گیا تھا مگر ان کے باوجود اس نے ہمت نہ ہاری اور جنرل ضیا کے آمرانہ حکومت کے خلاف اپنے جدوجہد کو جاری رکھا۔ اخر کار شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے اپنے جلاوطنی کو ختم کرکے 10 اپریل 1986 کو پنجاب کے شہر لاہور پہنچی جہاں شہید محترمہ بینظیر بھٹو کا تاریخی استقبال کیا گیا جس میں تقریبا 10 لاکھ کے قریب عوام اور پارٹی کے کارکنان نے اپنے محبوب لیڈر کا تاریخی اور شاندار استقبال کیا

محترمہ بینظیر بھٹو کی تاریخی استقبال نے اسلام اباد کے ایوانوں کو ہلا کر رکھ دیا محترمہ بینظیر بھٹو کی واپسی کے بعد ملک کے اندر سیاسی ماحول میں گرما گرمی پیدا ہوئی اور بین الاقوامی سطح پر اس نے اپنے سیاسی ساکھ کو مضبوط اور مستحکم کیا۔ ایک کہاوت ہے اللہ کے ہاں دیر ہے اندھیر نہیں ہے جس ظالم اور جابر فوجی حکمران جنرل ضیا نے تیسری دنیا اور پاکستان کے عظیم لیڈر شہید ذوالفقار علی بھٹو کو عدالت کے ذریعے قتل کروایا اور ہزاروں کارکنان کے اوپر ظلم کے پہاڑ توڑ دیے اخر کار ان کا خاتمہ اور بھیانک موت 1988 میں ایک جہاز کے حادثے میں ہوا اس طرح شہید بھٹو اور جمہوریت پسند سیاسی کارکنوں کے قاتل اپنے منطقی انجام کو جا پہنچا اور جنرل ضیا کا اخری دیدار ان کے خاندان سمیت کسی کو بھی نصیب نہیں ہوا بہرحال جنرل ضیاء کے ہلاکت کے بعد 1988 میں ملک کے اندر عام انتخابات کروائے گئے جس کے نتیجے میں پاکستان پیپلز پارٹی نے سب سے زیادہ سیٹیں حاصل کر کے سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری 1988 کے عام انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی کی کامیابی کے بعد دنیا کی پہلی اور عالم اسلام کی پہلی مسلم خاتون  محترمہ بے نظیر بھٹو نے 2 دسمبر 1988 کو پاکستان کے وزیراعظم کے حیثیت سے حلف اٹھا کر پوری دنیا اور عالم اسلام میں ایک ریکارڈ قائم کیا آج اس عظیم خاتون سابق وزیراعظم شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی 18ویں برسی کو گڑھی خدابخش بھٹو میں بڑے جوش و جذبے عقیدت و احترام کے ساتھ منایا جا رہا ہے

پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت اور کارکنان نے بہت سارے نشیب و فراز دیکھے اس کے باوجود اج بھی پاکستان پیپلز پارٹی ملک کی سب سے بڑی پارٹی ہے دنیا کی تاریخ کو اگر دیکھا جائے تو دنیا کے بہت سارے مشہور لیڈروں کو کسی نہ کسی طریقے سے قتل کروایا گیا مگر جو ظلم شہید ذوالفقار علی بھٹو اور ان کے خاندان کے ساتھ ہوا ان کی مثال پوری دنیا میں کہیں بھی نہیں ملتی جس کی واضع مثال یہ ہے ذوالفقار علی بھٹو، محترمہ بینظیر بھٹو میر مرتضیٰ بھٹو اور میر شاہنواز بھٹو کو بے دردی سے قتل کروایا گیا جو دنیا کے بڑے صدموں میں سب سے بڑا صدمہ ہے، بھٹو خاندان کے ساتھ جو ظلم اور زیادتی ہوئی ہیں اس کو اج بھی پاکستان کی عوام یاد کرکے روتے ہیں مادر جمہوریت بیگم نصرت بھٹو نے ان تمام مظالم اور زیادتیوں کو اپنے انکھوں سے دیکھا ان صدموں کی وجہ سے وہ بھی اس دنیا سے رخصت ہو گئی 27 دسمبر 2007 پاکستان کے تاریخ کا ایک سیاہ ترین دن ہے محترمہ بینظیر بھٹو چاروں صوبوں کی زنجیر تھی جس کو سامراجی قوتوں اور دہشتکردوں نے قتل کرکے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ہم سے جدا کیا لیکن ان کی شہادت کے بعد پاکستان کی بنیادیں کمزور ہو چکی تھی مگر ان حالات کے باوجود صدر پاکستان اصف علی زرداری نے اپنی دور اندیشی سے پاکستان کھپے کا نعرہ لگا کر ملک دشمن عناصر کی سازشوں کو ناکام بنا دیا۔

محترمہ بینظیر بھٹو کے شہادت کے دن کے موقع پر ایک بات پر ضرور تبصرہ کروں گا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے گزشتہ تین سالوں میں کیا کھویا اور کیا پایا واضح رہے کہ تین سال پہلے 27 فروری 2022 کو پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے پارٹی کارکنان اور عوام کے ساتھ عمران خان کی حکومت کے خلاف لانگ مارچ کا کراچی سے اسلام اباد تک اغاز کیا تھا چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سندھ اور پنجاب کے مختلف شہروں میں عوامی جلسوں سے خطاب کرتے ہوئے اخری جلسہ ڈی چوک اسلام آباد میں کیا اسلام آباد کے جلسے میں پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اس وقت کے وزیراعظم عمران خان سے مستفی ہونے کا مطالبہ کیا بہرحال ملک کے اندر ایسے حالات پیدا ہوئے اخرکار عمران خان کی حکومت کا خاتمہ ہوا پی ٹی آئی حکومت کے خاتمے کے بعد مختلف جماعتوں پر مشتمل پی ڈی ایم کی حکومت قائم ہو گئی جس میں مسلم لیگ نواز کے شہباز شریف کو پاکستان کا وزیراعظم اور پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو وزیر خارجہ مقرر کیا گیا جیسے ہی پی ڈی ایم نے حکومت سنبھالی تو کچھ وقت کے بعد بارشوں اور سیلاب نے ملک کے اندر تباہی مچا دی جس کی وجہ سے کروڑوں لوگ بے گھر ہوئے اور ملک کی معیشت کو شدید نقصان پہنچا اس کے علاوہ ملک کے اندر مہنگائی کا ایک طوفان برپا ہوا مہنگائی کی وجہ سے غریب عوام کا جینا دو بھر ہو گیا اس وقت وزیر خارجہ اور پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سیلاب متاثرین کے بحالی کے لیے دن رات محنت کی اور مختلف ممالک دورے کرکے پاکستان کی معیشت کو بحال کرانے کی بھرپور کوشش کی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بحیثیت وزیر خارجہ دن رات کام اور محنت کرکے ثابت کیا کہ وہ ملک کے کامیاب ترین وزیر خارجہ اور مقبول ترین لیڈر ہیں۔ واضح رہے پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری جب وزیر خارجہ بنے تھے تو اس کی مصروفیات کی وجہ سے ان کا پارٹی کارکنان اور عوام سے رابطے کا فقدان رہا جو آج تک جاری ہے  کارکنون اور عوام رابطہ کم ہونے کے علاوہ پاکستان پیپلز پارٹی کا نواز لیگ اور مختلف قوتوں کے ساتھ مفاہمت کی وجہ سے پنجاب سے تعلق رکھنے والے پارٹی کارکن اور سپورٹر مایوسی کا شکار ہیں یا وہ خاموشی اختیار کرکے ایک سائیڈ پہ ہو گئے جس کی واضح مثال 28 فروری 2024 کے عام انتخابات ہیں جس میں پاکستان پیپلز پارٹی کو پنجاب میں کوئی خاطر خواہ نتیجہ نہیں ملا جو ایک تشویش ناک بات ہے مفاہمت کے بادشاہ آصف علی زرداری نے نواز لیگ اور اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مفاہمت کرکے اہم آئینی عہدے ضرور حاصل کیے پر اس مفاہمت کی وجہ سے پنجاب اور خیبر پختون خواہ میں اسٹیبلشمنٹ کے مخالف پیپلز پارٹی کے کارکن اور ووٹر ناراض ہو کر خاموش ہو گئے اس میں کوئی شک نہیں پیپلز پارٹی نے وفاق میں کوئی وزرات نہیں لی مگر اس کے باوجود وہ مسلم لیگ نواز کی حکومت کی ہر قسم مدد کررہی ہے جس میں 26ویں اور 27ویں ائینی ترامیم سمیت مختلف معاملات شامل ہیں دوسری جانب پاکستان مسلم لیگ نواز پاکستان پیپلز پارٹی کو اب وہ کوئی اہمیت نہیں دے رہی ہے جس کی واضح مثال دریائے سندھ پر چھ کینالس بنانے کا معاملہ اور پنجاب کے اندر پاور شیئرنگ کے علاوہ گزشتہ دنوں خاتون اول بی بی اصفہ بھٹو زرداری نے اسلام اباد  ایئرپورٹ کا نام تبدیل کر کے شہید بے نظیر بھٹو انٹرنیشنل ایئرپورٹ رکھنے کی جو تحریک پیش کی اس کو کورم کا بہانہ بنا کر قومی اسمبلی کے اجلاس کو ملتوی کر دیا گیا اور ایک وفاقی وزیر نے پاکستان پیپلز پارٹی کی خاتون سینیٹر پلوشہ خان سے بھی بدتمیزی اور غلط رویہ اختیار کرنا اور دیگر معاملات پر کھینچا تانی جاری ہے نواز لیگ عملی طور پر پاکستان پیپلز پارٹی کو کھڈے لائن لگانے کی کوشش کر رہی ہے۔ بہرحال پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور صدر آصف علی زرداری سمیت پارٹی کی مرکزی قیادت کو چاہیے کہ وہ پارٹی کو مزید نقصان سے بچانے کے لیے نواز لیگ کے ساتھ مفاہمتی پالیسی پر نظر ثانی کریں اور پاکستان پیپلز پارٹی کے قربانی دینے والے سینیئر کارکنان کو اہمیت دیں اور ان کو اہم عہدے دیے جائیں اس کے سندھ اور پنجاب میں پارٹی کی صوبائی لیول سے لے کر ڈویژن سطح تک گزشتہ آٹھ سالوں سے مسلط کردہ اہدے داروں کو فوری طور پر فارغ کر دیا جائے اور پارٹی کی نئے سر تنظیم سازی کی جائے تاکہ پاکستان پیپلز پارٹی مزید مضبوط ہو سکے۔
Email: gmjakhrani@hotmail.com
WhatsApp No. 03003514884

Comments

No comments yet.

سب سے زیادہ پڑھا
Effy Jewelry
Effy Jewelry