عوامی سیاست کی روشن علامت، شہید جمھوریت شہید محترمہ بینظیر بھٹو
تحریر عابد اقبال
27 دسمبر پاکستان کی تاریخ کا وہ اندوہناک دن ہے جو ہمیں جمہوریت کی قیمت اور قربانی کی یاد دلاتا ہے۔ محترمہ شہید بینظیر بھٹو کی شہادت محض ایک سیاسی رہنما کا قتل نہیں تھی بلکہ یہ عوامی اقتدار، آئین کی بالادستی اور جمہوری جدوجہد پر حملہ تھا۔ تاہم جیسا کہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے،
“بینظیر بھٹو کو شہید کیا جا سکتا ہے، ان کے نظریے کو نہیں۔”
محترمہ بینظیر بھٹو مسلم دنیا کی پہلی منتخب خاتون وزیرِاعظم تھیں۔ آمریت کے طویل اور تاریک ادوار میں انہوں نے جمہوریت کی شمع روشن رکھی۔ قید و بند، جلاوطنی اور جان کے خطرات کے باوجود وہ عوام کے حقِ حکمرانی پر کبھی سمجھوتہ کرنے کو تیار نہ ہوئیں۔
ان کی سیاست کا مرکز عام آدمی تھا۔ لیڈی ہیلتھ ورکر پروگرام ان کا ایک تاریخی کارنامہ ہے جس کے ذریعے دیہی علاقوں میں صحت کی سہولیات پہنچیں اور لاکھوں خواتین کو باعزت روزگار ملا۔ یہ پروگرام آج بھی عوامی فلاح کی ایک کامیاب مثال ہے۔
“روٹی، کپڑا اور مکان” ان کے نزدیک محض نعرہ نہیں بلکہ ریاست اور عوام کے درمیان ایک سماجی معاہدہ تھا۔ مزدوروں، کسانوں اور کمزور طبقات کے حقوق کے تحفظ کے لیے انہوں نے عملی اقدامات کیے۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے مطابق،
“پیپلز پارٹی کی سیاست آج بھی غریب آدمی کے گرد گھومتی ہے، جیسے بینظیر بھٹو کے دور میں تھی۔”
محترمہ شہید نے خواتین کو سیاست، معیشت اور فیصلہ سازی میں مؤثر کردار دیا۔ انہوں نے ثابت کیا کہ پاکستانی عورت ملک کی ترقی میں برابر کی شریک ہے۔ بلاول بھٹو زرداری کے الفاظ میں،
“بینظیر بھٹو نے پاکستانی عورت کو شناخت دی، ہم اس شناخت کو طاقت میں بدلیں گے۔”
دہشتگردی اور انتہاپسندی کے خلاف ان کا مؤقف واضح اور جرات مندانہ تھا۔ اسی اصولی جدوجہد کی قیمت انہوں نے اپنی جان کی صورت میں ادا کی اور یوں وہ ہمیشہ کے لیے “شہیدِ جمہوریت” بن گئیں۔
27 دسمبر ہمیں یہ عہد یاد دلاتا رہے گا کہ محترمہ شہید بینظیر بھٹو کا مشن آج بھی زندہ ہے —
عوام میں، جمہوریت میں اور ایک بہتر پاکستان کے خواب میں!
No comments yet.