پروپیگنڈا وار تیز ہو چکی
پروپیگنڈا وار تیز ہو چکی
جیسے جیسے کچھ لوگوں کے لئے پاکستان میں سیاسی و قانونی Spaceکم ہوتی جا رہی ہے ویسے ویسے موجودہ رجیم ہی نہیں بلکہ پاکستان کے خلاف پروپیگنڈے کی جنگ تیز ہوتی جا رہی ہے ۔ اس کا بڑا واضح ثبوت ہندوستانی فلم Dhurandhar ہے ۔ اس فلم پر بھی بات کریں گے لیکن اس سے پہلے سوچیں کہ آخر یہ نوبت یہاں تک پہنچی کیسے ۔ اس لئے کہ موجودہ رجیم کے مخالفین کے پاس تو سوشل میڈیا کی شکل میں منفی پروپیگنڈا کا ایک بڑا وسیع نیٹ ورک موجود ہے اور اس نیٹ ورک میں یہ صلاحیت موجود ہے کہ وہ سیاہ کو سفید اور سفید کو سیاہ ثابت کر سکے ۔ اس کے نامی گرامی یو ٹیوبر ، ٹک ٹاکر اور وی لاگر کی روزی روٹی ہی اس پروپیگنڈا سے جڑی ہوئی ہے اور وہ جھوٹ بول بول کر لاکھوں ڈالر کما رہے ہیں لیکن بات یہ ہے کہ جھوٹ کی بھی آخر ایک حد ہوتی ہے اس کے بعد اسے یقینا ختم ہونا ہوتا ہے اور پھر جھوٹ کی بنیاد پر ہمیشہ کے لئے تو لوگوں کو بیوقوف نہیں بنایا جا سکتا ۔ احمق سے احمق انسان بھی آخر ایک دن جھوٹ سن سن کر تنگ آ جاتا ہے اور اسے نہ چاہتے ہوئے بھی جھوٹ کے بیوپاریوں سے کنارہ کشی کرنا پڑتی ہے ۔ زیادہ نہیں صرف سات ماہ پیچھے چلے جائیں تو اس سوشل میڈیا میں پاک بھارت جنگ کے حوالے سے کس طرح پاکستان کے خلاف اور ہندوستان کے حق میں پروپیگنڈا کیا جا رہا تھا اور پاکستان اپنے سے آٹھ گنا بڑے دشمن کے متعلق فتح کے جو دعوے کر رہا تھا ان کا تمسخر اڑایا جا رہا تھا اور اس سوشل میڈیا کو دیکھنے والے ذہنی مریض اس پر یقین بھی کر رہے تھے لیکن پھر سب سے پہلے ٹرمپ نے پاکستانی فتح مبین پر مہر تصدیق ثبت کی اور اس کے بعد یورپین یونین اور پھر پوری دنیا نے اسے تسلیم کیا حتیٰ کہ ہندوستان کے مودیوں نے بھی اسے تسلیم کر لیا اور اب تو 14دسمبر کو ہندوستان کے سابق آرمی چیف جنرل(ر) وید پرکاش ملک نے عسکری ٹیکنالوجی کے میدان میں پاکستان کی برتری کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ S-400نظام اور رافیل طیاروں کی تباہی پاکستان کی عسکری برتری کا ثبوت ہے ۔اب جس کی تباہی ہوئی ہے وہ مان رہا ہے کہ ہاں ہمیں پاکستان کے ہاتھوں شکست ہوئی ہے اور وہ میدان حرب میں پاکستان کی برتری کو تسلیم کر رہے ہیں لیکن کچھ پاکستانی مودیز جو کھاتے پاکستان کا ہیں پیتے پاکستان کا ہیں وہ ہندوستان کے مو دیوں سے بھی بڑھ کر پاکستان کی مخالفت اور ہندوستان کی وکالت کر رہے ہیں لیکن اس ملک دشمنی کی بنیاد اگر سچ اور حقیقت پر مبنی ہوتی تو پھر یقینا اس میں اثر بھی ہوتا اور اس ملک دشمن سوشل میڈیا کی ویور شپ قائم بھی رہتی لیکن جب ہر بات جھوٹ اور پھر جھوٹ بھی ایسا کہ جس کی معیاد چند گھنٹے تو کیا دو منٹ بھی نہ ہو کہ انٹر نیٹ پر سرچ کرتے ہی اس جھوٹ کا پول کھل جائے تو پھر سوشل میڈیا کی ویور شپ ہی نہیں بلکہ اس پر اعتماد اور یقین کی بھی دھجیاں بکھر جاتی ہیں اور یہی کچھ اس ملک دشمن سوشل میں کے ساتھ شروع ہو چکا ہے بلکہ شروع تو بڑی دیر کا ہو چکا ہے اب تو اس میں تیزی آنا شروع ہو چکی ہے یہی وجہ ہے کہ اب غیر ملکی مدد کی ضرورت پڑ گئی ہے ۔
Bollywoodکوئی معمولی انڈسٹری نہیں ہے بلکہ Hollywoodکے بعد دنیا کی سب سے بڑی فلم انڈسٹری ہے اور اس کا سرکٹ ہندوستان کی 146کروڑ آبادی کے ساتھ ساتھ روس ، تمام عرب ریاستیں ، یورپ ، امریکہ کے ساتھ پوری دنیا ہے اور جہاں پر ہندی سمجھی اور بولی نہیں جاتی وہاں پر یہ فلمیں وہاں کی مقامی زبان میں ترجمہ کے ساتھ نمائش کے لئے پیش کی جاتی ہیں تو اس سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ Dhurandhar جیسی کسی بھی فلم کا بین الاقوامی سطح پر کیا اثر ہو گا ۔ اس فلم میں سراسر حقائق کو مسخ کر کے پیش کیا گیا ہے ۔ پاکستان پیپلز پارٹی چونکہ موجودہ رجیم کی ایک اہم کھلاڑی ہے اس لئے اسے بھی ساتھ میں رگڑا دیا گیا ہے لیکن اس میں جو ایک بہت بڑا بلنڈر دکھایا گیا ہے وہ یہ کہ ایک انڈین سیکرٹ ایجنٹ کو انڈر دی کور پاکستان میں بھیج کر کارروائی کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے لہٰذا اتنی محنت کرنے کے باوجود بھی کہ اربوں روپے خرچ کرنے کے بعد بھی اس سنگین غلطی کے ارتکاب نے پوری فلم کو ہی مشکوک نہیں بلکہ اس کا اعتبار ہی ختم کر دیا ہے اس لئے کہ اس وقت چوہدری اسلم کے بعد کسی اور کی ضرورت نہیں تھی ۔
عبد الرحمن بلوچ کیا تھا وہ سردار عبدالرحمن بلوچ تھا یا رحمان ڈکیت تھا اس کا فیصلہ فلم دیکھ کر نہیں بلکہ لیاری کے علاقہ کے لوگوں کی آرا کے بعد ہو گا لیکن اس فلم میں جو کچھ دکھایا گیا ہے وہ یک طرفہ ہے اور یہ بات ہم اپنے طور پر نہیں کہہ رہے بلکہ کراچی میں اپنے وہ دوست کہ جو عبد الرحمن کے علاقہ مکیں تھے جیسے کوئی محلہ دار تھا ان سے بات کر کے کر رہے ہیں ۔ ان سے پوری گفتگو کے لئے تو کئی کالم درکار ہیں لیکن اتنا ضرور کہہ سکتے ہیں کہ وہ ڈکیت تو ہر گز نہیں تھا اور لیاری میں بھی صرف اس کا گینگ ہی نہیں تھا ۔ 90کی دہائی کے وسط میں جب کراچی کی ایک بڑی لسانی تنظیم نے لیاری پر یلغار کرنے کی کوشش کی تو یہ رحمن بلوچ ہی تھا کہ جس نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ اس یلغار کو روکا تھا اور یہ بھی درست ہے کہ لیاری میں اسے رابن ہڈ کہا جاتا تھا لہٰذا بحیثیت پاکستانی ہمیں اس فلم میں پاکستان مخالف پروپیگنڈا کو مسترد کر دینا چاہئے ۔
No comments yet.